بھٹکل کی ایک مسجد میں توڑپھوڑ؛ بعد میں مبینہ طور پرعوامی ہمدردی حاصل کرنے ذمہ داران کے خلاف سوشیل میڈیا پر کیا مسیج وائرل؛ مسجد کمیٹی سمیت عوام میں سخت ناراضگی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th April 2019, 11:57 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 12/اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل کے کوگتی نگر میں واقع مسجد عبدالعزیز اسحاق میں توڑ پھوڑ کرنے  کے الزام میں  مسجد کمیٹی نے بھٹکل ٹاون پولس تھانہ میں چار لوگوں کے خلاف معاملہ درج کرلیا ہے بتایا گیا ہے کہ اس بات پر   ناراض   توڑ پھوڑ کرنے والوں میں سے  ایک نوجوان نے مبینہ طور پر اپنے اوپر حملہ  کرنے اور اپنی بری طرح پیٹائی کرنے  کا ایک  مسیج سوشیل میڈیا پر وائرل کردیا  جس سے نہ صرف مسجد انتظامیہ بلکہ مقامی لوگوں میں بھی سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔

مسجد عبدالعزیز اسحاق کے صدر مولانا انصار خطیب مدنی نے بتایا کہ  علاقہ میں مصلیوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ مسجد کی ضروریات کی تکمیل کے لئے  چار فلیٹوں پر مشتمل ایک   عمارت تعمیر کی گئی ہے جس میں ایک فلیٹ میں قریب پانچ سالوں سے  سیف اللہ جوباپو اپنی اہلیہ کے ساتھ کرایہ پر رہتے ہیں۔ مگر روز اول سے ہی ان کی طرف سے کرایہ کی ادائیگی  میں کوتاہی ہورہی ہے۔ مولانا کے مطابق  صرف کرایہ ادا کرنے میں کوتاہی ہوتی تو معاملہ اتنا خراب نہیں ہوتا تھا، مگر سیف اللہ صاحب کی اہلیہ دلشاد  مسجد کمیٹی کےذمہ داران کے ساتھ بدزبانی اور گالی گلوج بھی کرتی ہے جس سے  اراکین  ان کے معاملے کو لے کر سخت پریشان ہیں۔  کافی پریشانیاں جھیلنے کے بعد  مسجد کمیٹی نے  دو سال قبل ان لوگوں کو مکان خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا، بعد میں سیف اللہ صاحب کی  درخواست پر پھر انہیں ڈھیل دی گئی مولانا نے بتایا کہ  آخر کار  میں نے خود اپنی ذمہ داری پر سیف اللہ صاحب کو مہلت  پوچھی کہ وہ کب تک خالی کرکے جائیں گے، انہوں نے  31 مارچ تک کی مہلت مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ اس مہلت تک دوسرا مکان ڈھونڈ لیں گے، انہوں نے اپنی سالی کے ایک لڑکے   کے ذریعے تحریری طور پر  گیارنٹی بھی دلوائی کہ  وہ 31 مارچ کو فلیٹ خالی کرکے چلیں جائیں گے۔ بتایا گیا ہے سیف اللہ صاحب کی سالی یعنی  دلشاد کی بہن بھی مسجد کے ہی فلیٹ میں ان کےپڑوس میں کرایہ پر رہتی ہے، مگر مسجد کو اُن کی طرف سے کوئی شکایت نہیں ہے۔

مولانا نے بتایا کہ سیف اللہ صاحب کی درخواست پر ہم نے پھر صبر کیا اور اُنہیں اُن کی مرضی کے مطابق  مہلت  دی، مگر ان سب کے باوجود انہوں نے دس ماہ کا کرایہ باقی رکھتے ہوئے متعلقہ وقت پر مسجد کا فلیٹ خالی نہیں کرایا ۔مولانا کے مطابق ایک ہفتہ پہلے   ان کی اہلیہ  نے 30 ہزار روپیہ لاکر دیا اور فلیٹ چھوڑ کر جانے سے انکار کرتے ہوئے پھر ایک بار بدزبانی کی اور مسجد کے ذمہ داران بالخصوص مسجد کے امام کو بھی گالیاں دیتے ہوئے    کئی ساری دھمکیاں دی۔ مولانا کے مطابق ان کی طرف سے مزید 25 ہزار کی رقم واجب الادا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس دوران ان کا الیکٹری سٹی بل بھی باقی تھا  جس کی وجہ سے محکمہ الیکٹری سیٹی نے کل یعنی جمعرات کو  کرایہ دار کے فلیٹ  کی الیکٹری سٹی  کاٹ دی۔ اس بات پر ناراض  سیف اللہ کی  اہلیہ دلشاد  سمیت چار لوگوں نے مسجد میں گھس کر  مسجد کے امام کو دھمکیاں دیتے ہوئے  مسجد میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے  الیکٹرک میٹر کو توڑ دیا اور   کہا کہ ہمارا بجلی کنکشن آپ لوگوں نے کاٹا ہے  ہم بھی مسجد کا بجلی کنکشن کاٹیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ دلشاد نے  اس موقع پر مسجد کے ذمہ داران کو اس بات کی بھی دھمکی دی کہ  اگر انہوں نے انہیں فلیٹ سے نکالنے کی کوشش کی یا  ان کے ساتھ مزید اُلجھنے کی کوشش کی تو وہ اپنی عزت پر  ہاتھ ڈالنے کا معاملہ درج کرائے گی۔

مسجد میں  توڑ پھوڑ کی اطلاع ملتے ہی ذمہ داران نے بھٹکل ٹاون پولس تھانہ پہنچ کر  چار لوگوں  دلشاد سیف اللہ جوباپو،  ان کی بہن کے لڑکے عباد ارشاد سوداگر،  عبدالحفیظ  ارشاد سوداگر اور عبدالبدیع ارشاد سوداگر کے خلاف شکایت درج کرائی۔

خبر ملی ہے کہ مسجد سکریٹری سید ابراہیم کریکال  مسجد کے دیگر  ذمہ داروں بالخصوص   جعفر حیدر، مسجد کے امام مولانا عبدالمتین خان  اور ناصر جمشید  کے ساتھ  جب پولس تھانہ میں  شکایت درج کروا رہے تھے تو غالباً واقعے کی اطلاع ملتے ہی  دلشاد دیگر دو تین لوگوں کو  ساتھ لے کر پولس تھانہ پہنچی اور  جعفر حیدر کے خلاف ہی شکایت درج کرنے کی کوشش کی کہ   جعفر حیدر سمیت دیگر لوگوں نے   ان کے مکان پر پہنچ کر عباد سوداگر کی پیٹائی کی ہے اور جعفر حیدر نے اُسے عصمت لوٹنے کی دھمکی بھی دی ہے۔   جعفر حیدر نے بتایا کہ یہ اچھا ہوا کہ وہ شام چھ بجے سے رات سوا نو بجے تک پولس تھانہ میں   ہی معاملہ درج کرنے کے سلسلے میں موجود تھے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مسجد کا میٹر توڑنے پر ناراض  لوگ  دلشاد کے  گھر پہنچ گئے  ، جہاں پڑوس میں رہنے والے عباد اور اس کے بھائی  کی  پیٹائی  کی گئی۔ بتایا  گیا ہے کہ  عباد سوداگر نامی نوجوان کو  زخمی حالت میں اُڈپی   اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے عباد نے بتایا کہ لوگ جب  ان کی خالہ (دلشاد) کے ساتھ جھگڑا کررہے تھے تو وہ  بیچ بچاو کرنے پہنچے تھے، مگر بعض لوگوں نے ان کی ہی پیٹائی کی،  عباد کےمطابق اُسے  پیٹ  پر گھوسے مارے گئے ساتھ ساتھ اس کے بھائی عبدالبدیع کی بھی پیٹائی کی گئی، عباد کا کہنا ہے کہ ان کو شدید چوٹ لگی ہے، جس کی وجہ سے وہ  اُڈپی ادرش اسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ عباد کا کہنا ہے کہ مسجد کا میٹر انہوں نے نہیں توڑا اور کس نے توڑا اُس کے  متعلق اُنہیں کوئی جانکاری نہیں ہے۔

بھٹکل سرکل پولس انسپکٹر نے بتایا کہ   میٹر  توڑنے والے   چاروں ملزموں کے خلاف معاملہ درج کرلیا   گیاہے۔اور پولس  مزید چھان بین کررہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں صحت کارڈ(آروگیہ کارڈ)کے لئے عوام کا ہجوم :بہت جلدتعلقہ اسپتالوں میں بھی کارڈ دستیاب ہوگا : میڈیکل آفیسر

ریاست میں جاری سیاسی ناٹک بازی کی وجہ سے کوئی بھی ترقی جات کام نہیں ہونے کے متعلق عوامی سطح پر شکایات گردش میں ہیں۔ اکثر محکمہ جات میں کام سست ہونےکا الزام لگایا جارہاہے۔ عوام اس تعلق سے کوئی سرخراب کئے بغیر اگر صحت اچھی رہی تو زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے کی امید میں آروگیہ کارڈ ...

کاروار ایمپلائمنٹ آفس میں انٹرویوکیمپ : بی ای،بی سی اے ،بی کام سمیت ڈگری  طلبا توجہ دیں

شہر کی روزگار رجسٹریشن دفتر میں 25جولائی کی صبح 30-10سے دوپہر 30-03بجے تک منگلورو سافٹ وئیر ڈیولپنگ کمپنی اور دیاسسٹم کی جانب سے ’’انٹرویو کیمپ‘‘کا اہتمام کئے جانےکی ایمپلائمنٹ آفیسر نے پریس ریلیز کے ذریعے جانکاری دی ہے۔

اترکنڑا ضلع میں آفاقی حادثات کامقابلہ کرنے ڈرون کیمرہ سمیت مختلف تحفظاتی آلات کی خریداری : ڈی سی

اترکنڑا ضلع میں آفاقی حادثات سے نمٹنے اور نگرانی کے لئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے جدید ٹکنالوجی سے آراستہ ضروری اشیاء خریدنے کا فیصلہ لئےجانے کی  اترکنڑا ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بات بتائی ۔

کاروار: سی آر زیڈ قانون میں رعایت۔سیاحت کے لئے مفیدمگرماہی گیری کے لئے ہوگی نقصان دہ

ساحلی علاقوں میں سمندر ی جوار کی حد سے 200میٹر تک تعمیرات پر روک لگانے والے کوسٹل ریگولیشن زون(سی آر زیڈ) قانون میں رعایت کرتے ہوئے اب ندی کنارے سے 100میٹرکے بجائے 10میٹر تک محدود کردیا گیا ہے۔

سرسی ڈی وائی ایس پی سے کی گئی یلاپور رکن اسمبلی شیورام کوڈھونڈنکالنے کی گزارش

کانگریس اور جے ڈی ایس کے اراکین نے بغاوت کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس سے دور رہنے اور وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کی جانب سے پیش کی گئی ’اعتماد‘ کی تحریک کے حق میں ووٹ نہ دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے مخلوط حکومت گرنا یقینی ہوچلا ہے۔