کشمیرکو نیک نام گورنر کے سپرد ہونا چاہیے از: حفیظ نعمانی

Source: S.O. News Service | By Safwan Motiya | Published on 23rd August 2016, 5:37 PM | آپ کی آواز | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ امن کی تلاش میں ساتھیوں کے ساتھ دہلی آئے ہیں اور انھوں نے وزیر اعظم کے بجائے صدر محترم سے فریاد کی ہے کہ کشمیر میں تشدد کی پالیسی ختم کی جائے اور پاکستان سے کشمیر کے مسئلہ میں مذاکرات پر حکومت کو آمادہ کیا جائے، عمر عبداللہ کی حیثیت وہی ہے جو ملک میں پنڈت نہرو کے بعد راجیو گاندھی کی تھی جو نہرو کے نواسے تھے اور عمر عبداللہ شیخ عبداللہ کے پوتے ہیں، انھوں نے یہ کہہ کر کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی پر کوئی بات کرنے نہیں آئے ہیں، یہ وزیر اعظم اوروزیر خارجہ کے دائرۂ اختیارکی بات ہے، وہ صرف اس آگ کو سرد کرانے کے لیے آئے ہیں جو آتش چنار ہر اس جگہ پہنچ رہی ہے، جہاں چنار ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ۱۵؍ اگست کی وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ملک اور کشمیر کی فضا میں چنگاریاں نظر آنے لگی ہیں، وزیر اعظم کے الفاظ اور ان کے لہجہ سے اندازہ ہورہا تھا کہ وزیر اعظم وہی نریندر بھائی مودی بن گئے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ پاکستان کو پریم پتر لکھنا بند کرو۔ انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا بہت بڑا حصہ پاکستا ن کو نیست و نابود کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے گذارا ہے، کون نہیں جانتا کہ ۱۹۷۱ء میں جب اندراگاندھی نے پاکستان کا ایک ٹکڑا الگ کراکے اسے بنگلہ دیش بنوایا تھا تو نریندر بھائی مودی کا آر ایس ایس بھی اپنی خوشی کو نہ روک سکا تھا اور اس نے اندرا جی کو درگا ماں کاخطاب دے دیا تھا۔
اور یہ تو چند روز پہلے ہی ہم لکھ چکے ہیں کہ ملک کی تقسیم صرف اس لیے کانگریس کے لیڈروں نے منظور کی تھی کہ انھوں نے گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن کی مدد سے پاکستان کو ایسا لنگڑا لولا بنادیا تھا کہ انہیں یقین تھا کہ جلد یا دیر پاکستان ہندوستان کی گود میں پناہ لینے پر مجبور ہوجائے گا۔اب یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پا کستان کی سرحد چین سے ایسی ملتی ہے کہ چین نے پاکستان کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کا ایک ہتھیار بنالیا اور چین نے اظہر مسعود کو عالمی دہشت گردی کی فہرست میں شامل نہیں ہونے دیا جبکہ وہ کوئی سرکاری عہدیدار نہیں ہے۔
وزیراعظم نے تقریر میں کہہ دیا کہ اب بات اس وقت ہوگی جب مقبوضہ کشمیر خالی ہوجائے گا، یہ وہی بات ہے جو پنڈت نہرو نے اس وقت کہی تھی جب رائے شماری کا وعدہ کیا تھا کہ پاکستان اپنے حصہ کے کشمیر سے اپنا قبضہ ہٹا لے، جس کے جواب میں پاکستان نے کہا تھا کہ پھر ہندوستان بھی کشمیر سے نکل جائے۔ اور یہیں پرآکر بات اٹک گئی اور نہ پاکستان نے خالی کیا اور نہ رائے شماری ہوئی۔ یہ بات تو پاکستان بہت دنوں سے کہہ رہا ہے کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دے رہی ہیں اور ہندوستان برابر اس کی تردید کرتا رہا ہے لیکن ۱۵؍ اگست کو وزیر اعظم نے کہہ دیا کہ وہاں کے لوگ ہندوستان کے وزیر اعظم کو ’’یوم آزادی مبارک‘‘ کے پیغام بھیج رہے ہیں۔
عمر عبداللہ صاحب بے شک چھ برس کشمیر کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں لیکن کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ وہ وزیر اعظم ،وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کے بجائے صدر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، جو صرف دعا دے سکتے ہیں اور وہ بھی یہی مشورہ دیں گے کہ وزیر اعظم سے بات کرنا چاہیے۔
ہم سری نگر سے بہت دور ہونے کے باوجود بھی یہ محسوس کررہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اس کی اہل نہیں ہیں کہ کشمیر جیسی ریاست کی وزیر اعلیٰ بنی رہیں جو وزیر اعلیٰ خود میدان میں اترنے کی ہمت نہ کرے اور اپنے ممبروں کو یہ حکم دے کہ وہ جا کر اپنے اپنے حلقے میںآگ بجھائیں وہ اس قابل کیسے ہوسکتا ہے۔ اس وقت میں صرف وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کو سڑک پر آنا چاہیے، یہ بات عمر عبداللہ کی غلط نہیں ہے کہ پاکستان بے شک آگ میں پٹرول ڈال رہا ہے، لیکن آگ اس نے نہیں ہمارے آدمیوں نے لگائی ہے اور آگ جہاں گئی ہے اور جہاں جہاں پھیل رہی ہے وہاں صرف اور صرف کشمیری مسلمان ہیں جن کے دلوں میں آزادی سے پہلے بھی آگ بھری ہوئی تھی اور آزادی کے بعد بھی ان کا سابقہ آگ سے ہی پڑا۔
پاکستان اب وہیں واپس آگیا ہے جہاں 65سے پہلے تھا، اس وقت ایوب خاں کو یہ غلط فہمی ہوئی تھی کہ چین نے 62ء میں ہندوستان کو اتنا کمزور کردیا تھا کہ اب ہم جیسے بھی اس سے وہ حصہ واپس لے سکتے ہیں جو پنجاب اور بنگال کے ہندوستان نے لے لیے تھے اور جب ایوب خاں نے شوق پورا کرنا چاہا تو روس کو دعا دیں کہ لاہور بچ گیا ورنہ وہ بھی آج سری نگر کی طرح ہندوستان کا ایک شہر ہوتا۔
اب نواز شریف اور فوجی شریف جو کہہ رہے ہیں وہ صرف چین کے بل پر کہہ رہے ہیں اور ہندوستان میں حکومت یا فوج کیا سوچ رہی ہے یہ تو وہ جانے لیکن میڈیا کا یہ حال ہے کہ 16؍اگست سے ہر رات کو ایک پروگرام ضرور دکھایا جاتا ہے کہ ہندوستان کی بحری، برّی اور ہوائی طاقت کتنی ہے اور چین کی اس سے ہر چیز دوگنی، ہوسکتا ہے کہ یہ کام حکومت نے ان کے سپرد کردیا ہوا، جس کے ذریعہ وہ اپنی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہو کہ پاکستان کچھ بھی کرے ہم اس پر حملہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ ہمارا سامنا صرف پاکستان سے نہیں چین سے بھی ہوگا۔ اور اس لیے ہوگا کہ چین لاکھ کوشش کے باوجود ہمارا دوست نہیں بن سکتا اور پاکستان کو اس نے گود لے لیا ہے۔اب یا تو حکمت عملی کی غلطی ہے یا قسمت کا کھیل کہ 62ء کے بعد ہر حکومت نے چین سے تعلقات بہتر کرنا چا ہے، اوراپنے ملک کے سارے دروازے اس لیے کھولے کہ ہندوستان میں بیوی اور اولاد کے علاوہ ہرچیزچین کی فروخت ہورہی ہے اورپاکستان کو چھوٹا بھائی بنانے کے لیے قدم قدم پر اس کے سرپرہاتھ رکھ دیا مگر نہ جانے کہاں کیا کسر رہ گئی کہ نہ چین دوست بن سکا نہ پاکستان بھائی۔ اب اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ کشمیر یوں کے دل جیت لیے جائیں اور کشمیر کی لگام وزیر اعظم اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے گورنر صاحب کو سامنے لائیں جن کی تعریف ہر کشمیری نے کی ہے اور عمر عبداللہ کو بھی ناکام وزیر اعلیٰ کہا ہے۔(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)

ایک نظر اس پر بھی

ترکی کے صدر طیب اردوغان کی طرف سے خوش خبری..! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  سمیع اللّٰہ خان

دو دن پہلے ترکی صدر نے تُرکوں کو خوش خبری سنانے کا اعلان کیا تھا چنانچہ (جمعہ کو  ترکی میں) نئے سال کی شروعات میں یکم محرم الحرام کو ‏رجب طیب اردوغان نے  ترک قوم کو خوشخبری دیتے ہوئے بتلایا کہ: بحرہ اسود میں ترکی کو 320 ارب کیوبک میٹر گیس کے وسیع ذخائر ملے ہیں، فصیح سونداج ڈرلنگ ...

بے باک، نڈراورقائدانہ صلاحیت کا، کما حقہ استعمال،مختلف الزاویاتی فوائد کے حصول میں ممد و مددگار ہوا کرتی ہے ۔۔۔ نقاش نائطی

مجھے شہر بھٹکل میں اُس وقت پھوٹ پڑنے والے فساد کے تناظر میں غالبا بنگلور سےبھٹکل تشریف لائے آئی جی پولیس کی موجودگی میں،اس وقت کی مجلس اصلاح و تنظیم کے وفد کی نیابت کرتے ہوئے سابق صدر تنظیم المحترم سید محی الدین برماور کی قیادت کا منظر یاد آرہا ہے۔ انہوں نے پریس کی موجودگی ...

کیا مسلمان بھی ہندوستانی شہری حقوق کے حق دار ہیں؟           از :سیدمنظوم عاقب لکھنو

پچھلے٩دسمبرسےحکوت ہنداورہندوستانی شہریوں کےبیچ ایک تنازعہ چل رہاہےجسکاسردست کوئی حل نظرنہیں آرہاہے،کیونکہ ارباب اقتدارسی اےاےکیخلاف احتجاج اوراعتراض کرنےوالوں کویہ باورقراردیناچاہتی ہیں کہ آپکااعتراض اوراحتجاج ہمارےلئے اہمیت کاحامل نہیں ہےاوراحتجاج اورمخالفت ...

ائے ارسلہ ! آہ! ظلم پھر ظلم ہے۔۔۔۔ خداتجھے سرسبز،شاداب ،آباد رکھے (بھٹکل کی ایک دینی بہن کا ملک سے جانے پر مجبور کی گئی بھٹکلی بہو کے نام ایک تاثراتی خط )

بھٹکل کی بہو پر گذشتہ روز جس طرح کے حالات پیش آئے، اُس پر بھٹکل کی ایک بہن نے میڈیا کے ذریعے ایک تاثراتی پیغام دیا ہے۔ جسے یہاں شائع کیا جارہا ہے۔

بھٹکل میں طبی سہولیات کا ایک جائزہ؛ تنظیم میڈیا ورکشاپ میں طلبا کی طرف سے پیش کردہ ایک رپورٹ

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے منعقدہ پانچ روزہ میڈیا ورکشاپ میں جو طلبا شریک ہوئے تھے، اُس میں تین تین اور چار چار طلبا پر مشتمل الگ الگ ٹیموں کو شہر بھٹکل کے مختلف مسائل کا جائزہ لینے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس میں سے ایک  ٹیم جس میں  حبیب اللہ محتشم ...

بھٹکل : مہاتماگاندھی گرام سوراجیا پروگرام میں بھٹکل کانگریس عہدیداران کی فہرست جاری : ضلع پنچایت ، تعلقہ پنچایت انتخابات کی تیاریاں

بھٹکل بلاک کانگریس نیند سے بیدار ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بھٹکل اربن بینک ہال میں منعقدہ گرام سوراجیا پروگرام میں پارٹی عہدیداران کی فہرست جاری کرتےہوئے پارٹی کو مضبوط و مستحکم کرنےپر زور دیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں قدرت کا قہر، بارش کے درمیان آسمانی بجلی گرنے سے 5 افراد ہلاک

مدھیہ پردیش میں تیز بارش کے ساتھ آسمانی بجلی گرنے سے الگ الگ مقامات پر پانچ لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ ایک خاتون کے آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے بری طرح جھلسنے کی خبر بھی موصول ہو رہی ہے۔ یہ حادثے مرینا اور بیتول علاقوں میں پیش آئے ہیں۔

ممبئی کی معذور بہادر بیٹی روشن جواد نے ایم ڈی کے ساتھ ڈاکٹر بن کر ملک و قوم کا نام روشن کیا

ممبئی کے مضافاتی علاقہ جوگیشوری کی رہائشی ڈاکٹر روشن جواد کا بچپن کا خواب تقریباً مکمل ہو چکا ہے، تیرہ سال قبل جب وہ ٹرین حادثے میں اپنی دونوں ٹانگیں کھو بیٹھی تھیں، تب اس کے دل میں یہ خوف پیدا ہو گیا کہ اس کی زندگی رک گئی ہے اور ڈاکٹر بننا مشکل ہو جائے گا، لیکن اپنے عزم و ہمت کی ...

عدلیہ کا وقت ضائع ہونے سے بچانے کے لئے فرضی مقدمہ بازی پر قدغن ضروری: سپریم کورٹ

 سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدلیہ کے وقت کو ضائع سے روکنے کے لئے فرضی مقدمہ بازی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گاوئی کی بنچ نے کہا کہ ایک دیوانی معاملہ کا تصفیہ ایک سخت کارروائی ہے لیکن عدالتیں کسی مقدمہ میں پیشرفت کی اجازت نہیں دے سکتی، اگر وہ کارروائی ...