گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

Source: S O News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 29th August 2018, 7:12 PM | عالمی خبریں | سائنس و ٹیکنالوجی | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل میں مستقبل میں ہونے والے جرم کو روکنے کے لئے تھا. حکومت کو  ایسے ممکنہ مجرموں کے بارے میں Google سے کئی  اہم معلومات حاصل ہوئی. اُس وقت سرکار کے پاس اس کام میں جٹے اطلاعاتی اور سائبر سیکیورٹی کنسلٹنٹ ابھیشک دابھائی کہتے ہیں کہ یہ تو ایک واقعہ ہے  زیادہ چونکانے والی بات  یہ ہے کہ اگر گوگل آپ کے انٹرنیٹ سے متعلق سرگرمیوں کو ٹریک کرتا ہے، تو وہ مستقبل بھی بتا سکتا ہے. وہ بھی چند منٹوں میں.

حال ہی میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ  لوکیشن آف ہونے کے باوجود گوگل  صارفین کو ٹریک کرتا ہے. لیکن یہ تو صرف ایک لوکیشن کی بات  ہے. گوگل ہمارے ہرقدم ، ہر  حرکت اور ہر کام کو ٹریک کرتا ہے. جیسا اگر کوئی  صارف سنیچر کو  ممبئی کا ٹکٹ  کراتا ہے، وہاں پر کسی  جاپانی ریستوراں میں کھانا کھاتا ہے، تو گوگل کو مستقبل کے لئے اُس کا ٹرینڈ یعنی اُس کے رحجان کا پتہ چل جاتا ہے. ہم جو ای میل بھیجتے ہیں، نئی ملازمتوں کے لئے درخواست بھیجتے ہیں، آن لائن سامان منگواتے ہیں تو گوگل بھی ان چیزوں سے واقف ہوجاتا ہے۔

آپ کے بارے میں گوگل کو پتہ ہے یہ باتیں :
1. نام 2. جنم دن  3. صنف (مرد ہے یا عورت)  4. موبائل نمبر 5. آپ کے گوگل سرچ 6. جن ویب سائٹ پر آپ گئے . 7. آپ ابھی  کہاں کھڑے ہیں 8. پچھلے  کچھ  سالوں میں آپ کہا ں گئے/ کہاں رہے ہیں . 9. کونسا کھیل، کونسے گانے، کونسی فلمیں وغیرہ آپ کو پسند ہیں  10. کہاں کام کرتے ہیں 11. کہاں رہتے ہیں. 12. میل 13. وائس ریکارڈنگ 14. کونسے معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں.15 تصویر 16. فون بُک / رابطے. آپ کونسے ایپس استعمال کرتے ہیں 18.آپ کی  پسند  اور ناپسند کرتے ہیں. 20. کیا زیادہ خریدتے ہیں 20.ان دنوں آپ کس کام میں  مصروف ہیں 

ایسے چیک کرسکتے ہیں آپ اپنا ڈیٹا:
آج تک گوگل نے آپ کا کیا کیا ڈیٹا لیا ہے، اور کسے شیئر کیا ہے وہ آپ اس لنک پر جاکر چیک کرسکتے ہیں اور اسے ڈاون لوڈ بھی کرسکتے ہیں۔ https://takeout.google.com/settings/takeout

کیسے گوگل کرتا ہے آپ کی نگرانی :

1. گوگل کے ایپلیکیشن سرور پر بھیجتے ہیں لوکیشن :
گوگل کی مشینی سطح کی پروگرامنگ ایسی ہے ، جو کمپنی میں کسی بھی ایپ  کے  استعمال کرنے پر  صارف کے مقام (لوکیشن ) کو ٹریک کرتی   ہے اور اسے سرور پر بھیجتی رہتی ہے. گوگل نقشہ جات (یعنی گوگل میپس)، وائس، جی میل، کروم وغیرہ سبھی ایپس لوکیشن کو ٹریک کرتے ہیں  انہیں   Google سرور کے ساتھ  اشتراک کرتے ہیں ، اسے تاریخ (ہسٹری ) کہا جاتا ہے. لہذا اگر آپ مقام (موبائل کا لوکیشن )  بند بھی کرتے  ہیں، تب بھی   Google کو پتہ ہے کہ  آپ کہاں ہیں. ایک رپورٹ کے مطابق، Android فون ،  لوکیشن کے متعلق تفصیلات  فی گھنٹہ تقریبا 40 ان پٹ  اور آئی فون تقریبا چار ان پٹ فی گھنٹہ گوگل کو بھیجتا ہے.

2. کوکیز  پتہ کرتی ہے کہ ہم کیا سرچ کررہے ہیں:
Google کو پتہ  ہے کہ آپ انٹرنیٹ پر کیا کھوج   رہے ہیں. گوگل کی کوکیز میک  آئی ڈی اور آئی پی اڈرس کے مرکب  سے یہ پتہ لگالیا جاسکتا  ہے کہ  صارف کون ہے. بار بار ایک ہی مرکب آنے سے اس بات کا بھی  پتہ چل جاتا ہے کہ عام طور پر یہ  شخص انٹرنیٹ پر کس چیز کی کھوج کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح، اگر آپ Gmail ID کے ساتھ لاگ ان ہوتے ہیں تو، آپ کی آئی ڈی سے سرچ کی گئی سبھی باتوں کا گوگل کو پتہ چل جاتا ہے۔

3. تصویر کے ساتھ تفصیلات بھی جاتی  ہیں
ہم گوگل کے فوٹیج  ایپ میں یا کلاؤڈ میں یہ سوچ کر فیملی فوٹو   اپ لوڈ کردیتے  ہیں. کہ یہ محفوظ ہیں، کسی سے شئیر نہیں ہوتی، لیکن یہ  گوگل  کے پاس  محفوظ ہوجاتی ہیں. نہ صرف فوٹوبلکہ  فوْٹو کی پوری  تفصیل بھی  گوگل کے پاس چلی جاتی ہے. جیسے آپ نے فوٹو کو  کتنا  ترمیم کیا ہے، کسے  ٹیگ کیا  ہے، کس شہر میں کھینچا ہے، کس وقت پر  لیا  ہے،  فوٹو کی لوکیشن کیا ہے، موبائل ڈیوائس  کا سیریل نمبر کیا ہے.

4. دوسرے  ایپ بھی مانگتے ہیں اجازت :
ہم آئے دن  اسمارٹ فونز کوتبدیل کرتے ہیں، اس لئے اپنے رابطہ کی فہرست  ( کونٹیکٹ لسٹ)  کو گوگل سے سینک کر کے رکھتے ہیں تاکہ موبائل نمبرس  ہمیشہ ای میل اکائونٹ  پر محفوظ  رہے۔ اس طرح  یہ سبھی نمبر گوگل کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ اسی طرح  جب ہم گوگل پلے اسٹور سے کوئی ایپ ڈائون لوڈ کرتے ہیں تب وہ فوٹو، رابطہ کی فہرست، مائکروفون، وڈیو کی رسائی طلب کرتا ہے حالانکہ متعلقہ ایپ کے کام میں اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر ہمارے  ہاں کہتے ہی   ہمارے فون میں موجود سبھی تفصیلات ایپ بنانے والی کمپنی کے پاس بھی چلی جاتی ہے۔

5. گوگل جانتا ہے کہ آپ پیدل چل رہے ہیں یا ٹرین پر سفر کررہے ہیں:
اگر آپ اپنے فون سے سم نکال بھی دیں تب بھی وائی فائی یا ہاٹ اسپاٹ سے فون کنیکٹ کرتے ہی گوگل آپ کی ٹریکنگ شروع کردیتا ہے، ایسے میں اگر ہم الگ الگ جگہوں پر جاتے ہیں تو گوگل ہماری حرکت کی رفتار سے اس بات کا پتہ لگا سکتا ہے کہ ہم پیدل چل رہے ہیں یا کار میں ہیں یا ٹرین پر سفر کررہے ہیں۔ یہیں نہیں آپ کے وائی فائی  کی طاقت، بلو ٹوتھ کنکشن کی جانکاری، فون کی بیٹری کتنی چارج ہے، فون چارجنگ پر لگا ہے یا نہیں، اس طرح کی دیگر جانکاریاں بھی گوگل کو مل جاتی ہیں۔

6. ہم کہاں جانے والے ہیں وہ بھی گوگل جانتا ہے۔
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ آپ کی فلائٹ بُک ہوئی اور آپ کے فون کے کلینڈر میں  سفر کا ریماینڈر آنے لگتا ہے، دراصل گوگل روبوٹک الگورتھم پر کام کرتا ہے۔ ہمارے پاس جوای  میل آتے ہیں، اُس میں بھی کوڈنگ ہوتی ہے۔اب جب ہمارے ٹریول ایجنٹ ہمیں ٹکٹ ای میل کرتے ہیں تو گوگل کی الگورتھم ای میل کے الفاظ سے اس بات کا پتہ لگالیتا ہے  کہ یہ سفر کرنے کا ٹکٹ ہے. اس کے لئے، وہ میل میں PNR سے متعلق لفظ، سفرکہاں سے کہاں کا ہے ، شہر کا نام، ٹراویل کمپنی کا نام  جیسے الفاظ آتے ہی میل کو ٹریک کرلیتا ہے  اس کے بعد، یہ معلومات فون کیلنڈر پر چلی جاتی  ہے، جہاں سے ہمیں سفر کی نوٹی فیکیشن آنے لگتے ہیں ۔اس سے بھی  پتہ چلتا ہے کہ گوگل کی پہنچ   ہمارے ای میلز کے مواد تک  ہے.

7. ہماری پسند اور ناپسندکا بھی گوگل کو پتہ ہے :
 ہم Google کے ذریعے جو بھی سرچ کرتے ہیں، گوگل اپنی الگورتھم کی مدد سے اُن جانکاریوں کو ٹرینڈ بناکر کمپنیوں کو اشتہارات کے لئے  معلومات  فروخت کردیتا ہے مثال کے طور پر اگر ہم سرچ کرتے ہیں  بنگلورین ہوٹل اِن دہلی ، فوری طور پر متعلقہ ہوٹل والوں کو پیغام چلا جاتا ہے کہ  کسی نے بنگلورین ہوٹل کو سرچ کیا ہے اور وہ کس شہر سے یہ سرچ کررہا  ہے۔ گوگل اب دہلی میں واقع بنگلورین ہوٹلوں کے تعلق سے جوبھی معلومات ہوں گی وہ اُس صارف کو اسکرین پر دکھادے گا، اس طرح  سرچ کے ذریعے ایسے کروڑوں صارفین کی پسند۔ ناپسند کے تعلق سے گوگل کو بھی پتہ لگ جائے گا ۔

8 ایسے کریں اپنی تفصیلات ڈیلیٹ:
اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہماری جانکاریاں گوگل کے پاس جاچکی ہیں اور ہم اُنہیں ڈیلیٹ کرنا چاہتے ہیں تو ہم ہمارے کونٹیکٹ کے My activity پیج پر جاکر گوگل کے الگ الگ پروڈکٹس میں ہماری جو جانکاریاں محفوظ ہیں، وہ ڈیلیٹ کرسکتے ہیں اور اگر ہم چاہتے ہیں تو یہیں سے گوگل اکاونٹ کو بھی ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔

9 گوگل خاموشی کے ساتھ دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل:
ان سب تفصیلات کو یکجا کرکے گوگل صارف کا  پلان بتا سکتا ہے، سرچ ہسٹری کے ٹرینڈ سے اس بات کا بھی  پتہ چل سکتا ہے کہ آپ کس چیز کی تیاری میں ہیں۔



 

ایک نظر اس پر بھی

اسپیس ایکس ڈریگن نے خلیج میکسیکو میں اتر کر تاریخ رقم کردی

ناسا اور اسپیس ایکس کاڈریگن کریو اینڈیور نے اتوار کی سہ پہر خلیج میکسیکو میں لینڈ کرکے تاریخ رقم کردی۔ اسپیس ایکس نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر اس سے منسلک ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ناسا کے دو خلابازوں کو اسپلیش ڈاؤن (پیراشوٹ سے اترنے) کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔خلائی جہاز ...

ترکی عرب امور میں مداخلت سے باز رہے: متحدہ عرب امارات کا انتباہ

متحدہ عرب امارات نے  لیبیا سے متعلق ترکی کے بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ترکی کو کہا ہے کہ وہ عرب ممالک کے امور میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے سلطنت عثمانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکی اب اس دور کی طرح کا رویہ اختیار ...

ہالينڈ ميں برقع پر پابندی کا ايک سال، مسلمانوں کو تشدد اور امتيازی رويوں کا سامنا

ايمسٹرڈيم کے مغربی حصے ميں بوس اين لومرپلائن چوراہے پر کھڑی عمارہ الگ ہی دکھائی ديتی ہے۔ اس نے برقع پہن رکھا ہے، جو بارش ميں بھيگ چکا ہے۔ عمارہ کہتی ہے، ''لوگ سمجھتے ہيں کہ يہ برقع ميں اپنے خاوند کے کہنے پر پہنتی ہوں مگر جب ميں نے برقع پہننا شروع کيا، اس وقت ميں غیر شادی شدہ ...

اسرائیل میں کورونا کو لے کر ہوئی بدعنوانی کاالزام عائد کرتے ہوئے نیتن یاہو حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف مرکزی یروشلم میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور کورونا وائرس  کو لے کر مبینہ طور پر ہوئی بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں اقتدار سے ہٹنے کی مانگ کی۔ اخباری ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق   نیتن یاہو حکومت کے خلاف 10 ہزار سے ...

’بلڈ گروپ‘ سے کورونا انفیکشن کا خاص رشتہ، نئی تحقیق میں انکشاف

دنیا میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے اثرات کے درمیان اس پر مختلف نوعیت کی تحقیق کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس درمیان ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کورونا انفیکشن کا 'بلڈ گروپ' سے ایک خاص رشتہ ہے، اور ایسا اس لیے کہا جا سکتا ہے کیونکہ کچھ بلڈ گروپ والے لوگوں پر اس ...

ریلوے اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی سروس بند کرے گا گوگل

کمپنی گوگل دنیا بھر میں ریلوے اسٹیشنوں میں مفت وائی فائی سروس بند کرنے جا رہی ہے۔گوگل نے کہا ہے کہ وہ 2020 تک اپنے سرخیوں میں چھائے پروگرام ’اسٹیشن‘ کو بند کرنے جا رہا ہے۔اس میں ہندوستان بھی شامل ہے،اگرچہ ہندوستان کے تقریبا 5600 ریلوے سٹیشنوں پر ریلوے سواریوں کو مفت وائی فائی ...

 چین اگلے سال روبوٹک گاڑی مریخ  کی سطح پر اتارے گا

چین اگلے سال مریخ پر اپنی راکٹ گاڑی اتارنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے جمعرات کو مریخ میں بھیجی جانے والی روبوٹک گاڑی کو ناہموار سطح پر اتارنے کا مشکل تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا۔یہ تجربہ شمالی صوبے ہبائی میں کیا گیا۔چین کے ’نیشنل سپیس ایڈمنسٹریشن‘ کے سربراہ ...

سات موبائل ایپس میں ملا خطرناک وائرس، لسٹ میں الارم، کیلکولیٹراور فلش لائٹ جیسے ایپ بھی شامل

گوگل پلے اسٹور پر فرضی ایپس کی خبریں ہر دوسرے دن آرہی ہیں۔ اب اس پر موجود 7 اینڈرائڈ ایپس میں خطرناک وائرث پایا گیا ہے۔ وانڈیرا نام کی سکیورٹی کمپنی کے محققین نے پلے اسٹور پر سات ایسی ایپس کو ڈسکور کیا ہے جو یوزر کے فون کو کنٹرول کرتی تھیں۔ یہ ساتوں ایپ 3 الگ۔الگ ڈیولپر نے ضرور ...

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

کورونا کے خلاف لڑائی میں بہار حکومت سب سے پیچھے: یشونت سنہا

سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے کورونا وبا کے خلاف لڑائی میں حکومت بہار کو پھسڈی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب وقت ملنے کے باوجود بھی حکومت اس سنگین صورت حال میں لوگوں کے لئے معقول انتظام کرنے میں ناکام رہی ہے۔

مدھیہ پردیش: کورونا سے کل 886 افراد ہلاک، 921 نئے معاملے

مدھیہ پردیش میں کورونا وائرس کووڈ۔19 کے انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 921 نئے معاملے سامنے آنے کے بعد ان کی مجموعی تعداد بڑھ کر 33535 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 23550 صحتیاب ہوچکے ہیں۔ سرگرم معاملوں کی تعداد 9099 ہے۔

ملک کے وزیرداخلہ کے بعد اب کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی کورونا رپورٹ بھی نکلی پوزیٹیو؛ کرناٹک میں آج بھی کورونا کے معاملات پانچ ہزار سے زائد

کرناٹک کے وزیراعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے ٹویٹ کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ اُن کی کوویڈ۔19 رپورٹ آج اتوار کو  پوزیٹیو پائی گئی ہے۔ رات قریب 11:30 بجے ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ویسے تو وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت پر   احتیاطاً   اسپتال میں  ایڈمٹ ہوگئے ہیں۔

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

کیا ’نئی قومی تعلیمی پالیسی‘ ہندوستان میں تبدیلی لا سکے گی؟ .........آز: محمد علم اللہ

ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ہندوستان ایک خطرناک وبائی مرض سے جوجھ رہا ہے، کئی ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، مرکزی کابینہ نے آنا فانامیں نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔جب کہ سول سوسائٹی اور اہل علم نے پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان کھڑے کئے تھے اوراسے ایک ...

ملک پر موت اور بھکمری کا سایہ، حکومت لاپرواہ۔۔۔۔ از: ظفر آغا

جناب آپ امیتابھ بچن کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ حضرت نے تالی بجائی، تھالی ڈھنڈھنائی، نریندر مودی کے کہنے پر دیا جلایا، سارے خاندان کے ساتھ بالکنی میں کھڑے ہو کر 'گو کورونا، گو کورونا' کے نعرے لگائے، اور ہوا کیا! حضرت مع اہل و عیال کورونا کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گئے۔

بھٹکل نیشنل ہائی وے کنارے پر مچھلی اور ترکاری کا لگ رہا ہے بازار۔ د ن بھر سنڈے مارکیٹ کا منظر

جب سے بھٹکل میں کورونا وباء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہواتھا، تب سے ہفتہ واری سنڈے مارکیٹ اور مچھلی مارکیٹ بالکل بند ہے۔ لیکن ترکاری، فروٹ اور مچھلی کے کاروباریوں نے نیشنل ہائی وے، مین روڈ اور گلی محلوں کی صورت میں اس کا دوسرا نعم البدل تلاش کرلیا ہے۔

بابری مسجد کے "بے گناہ" مجرم ............ تحریر: معصوم مرادآبادی

بابری مسجد کا انہدام صدی کا سب سے گھناؤناجرم تھا۔ 6 دسمبر1992کو ایودھیا میں اس پانچ سو سالہ قدیم تاریخی عبادت گاہ کو زمیں بوس کرنے والے سنگھ پریوار کے مجرم خودکو سزا سے بچانے کے لئے اب تک قانون اور عدلیہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے ہیں۔ایک طرف تو وہ اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ...