پابندی کے باوجود میڈیا خود احتسابی کے بجائے بی جے پی کا ایجنڈا ہی آگے بڑھا نے میں مصروف۔۔۔۔۔از: عبید اللہ ناصر

Source: S.O. News Service | Published on 19th September 2023, 8:21 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس | اداریہ |

اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب سے 14 اینکروں کے مباحثوں اور دیگر پروگراموں کے بائیکاٹ کو لے کر ملک میں متضاد خیالات سامنے آ رہے ہیں۔ مودی دور کی سب سے بڑی صفت یہی رہی ہے کہ پورا سماج ہی نہیں بلکہ خاندان تک دو حصّوں میں منقسم ہو گئے ہیں۔ ایک طبقہ نفرت کی حد تک مودی کا مخالف ہے تو دوسرا طبقہ جنون کی حد تک ان کا حامی ہے۔ میڈیا بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ یہ بات بھی سولہ آنے درست اور اظہر و من الشمس ہے کہ مودی سرکار کا میڈیا مینجمنٹ بے مثال ہے۔ 1975 میں ایمرجنسی کے زمانہ میں جب میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں تب کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ حکومت نے میڈیا سے جھکنے کو کہا تھا لیکن میڈیا رینگنے لگی تھی حالانکہ اس زمانہ میں بھی کچھ اخبارات اور صحافی اپنے پیشے کی آبرو بچائے ہوئے تھے۔ انہوں نے جیل جانا پسند کیا تھا لیکن حکومت کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس فہرست میں اولین نام ممتاز صحافی آنجہانی کلدیپ نیر کا لیا جاتا ہے۔ کئی اخبارات خاص کر ’انڈین ایکسپریس‘، ’دی ہندو‘، ’اسٹیٹسمین‘ وغیرہ نے بھی جھکنے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ اندرا گاندھی کے اپنے اخبارات ’نیشنل ہیرالڈ گروپ‘ نے بھی اپنی ناک اونچی ہی رکھی تھی۔ قومی آواز میں ہمارے سینئرز بتاتے تھے کہ کس طرح گروپ کے تینوں اخباروں نیشنل ہیرالڈ، قومی آواز اور نوجیون کے ایڈیٹرس نے طے کر لیا تھا کہ سنجے گاندھی کی خبر اور تصویر صفحہ اول پر نہیں شائع کی جائے گی، یہاں تک کہ سنجے گاندھی کی تصویر پر مشتمل اشتہار تک اڈوانس پیمنٹ ملنے پر بھی قبول نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن مودی دور میں ایمرجنسی کا باقائدہ نفاذ نہ ہوتے ہوئے بھی میڈیا کیا کردار ادا کر رہا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں ممتاز صحافی آکار پٹیل نے کچھ چینلوں کی سرخیوں اور مباحثوں کا جائزہ لیتے ہوئے ایک طویل مضمون لکھا ہے کہ کس طرح حکومت کے اشاروں ہی نہیں بلکہ تحریری ہدایت کے تحت متعدد سنگین معاملات جیسے کورونا کی اموات، چین کی دراندازی، نوٹ بندی کے مصائب، مزدوروں کی بھگدڑ وغیرہ پر عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے دیگر موضوعات کو یا تو بحث کا حصہ بنایا گیا یا ان معاملات کو لے کر اپوزیشن، خاص کر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ دنیا بھر میں کورونا چاہے جس وجہ سے پھیلا ہو لیکن ہندوستان میں وہ تبلیغی جماعت کے کارکنوں سے پھیلا یہ بات عوام کی حلق میں اتارنے کے لئے چینلوں نے کیا طوفان بدتمیزی نہیں کھڑا کیا تھا یہ ابھی ہماری یادوں سے معدوم نہیں ہوا ہے۔ گذشتہ 13-12 برسوں سے میڈیا نے اپنا آر ایس ایس حامی چہرہ دکھانا شروع کر دیا تھا۔ یاد کیجئے 2 جی کوئلہ گھپلہ، ایشین گیمز وغیرہ میں ہوئی نام نہاد بدعنوانی کو لے کر چینلوں میں کیسی جنونی اور احمقانہ مباحثہ ہوتے تھے۔ حالت یہ ہو گئی تھی کہ بحث میں شریک چند لوگ اگر سچ بات کہتے تھے تو دوسرے دن مباحثوں میں انھیں بلایا ہی نہیں جاتا تھا۔ حکومت ضرور منموہن سنگھ کی تھی لیکن وہ اس معاملہ میں بے دست و پا لگنے لگی تھی۔ اس کے بعد انّا کی تحریک شروع ہوئی جو اول دن سے واضح تھا کہ آر ایس ایس کی تحریک ہے مگر چینلوں نے رات دن وہی سب خرافات دکھایا اور انّا ہزارے جیسے واہیات آدمی کو دوسرا گاندھی بنا دیا۔ اس کا سیاسی فائدہ آر ایس ایس کو ملا اور پہلی بار بی جے پی زبردست اکثریت سے بلا شرکت غیرے ملک پر قابض ہو گئی۔ یہ بھی میڈیا کا ہی کمال تھا کہ نریندر مودی نے آنجہانی بال ٹھاکرے سے ہندو ہردے سمراٹ ہونے کا تمغہ چھین لیا۔ اس کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ میڈیا خاص کر چینلوں نے اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس، اس کے سب سے بڑے لیڈر راہل گاندھی اور اسلام و مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کی سپاری لے رکھی ہے۔ سپریم کورٹ تک ان چینلوں کی بے راہ روی پر ناراضگی ظاہر کر چکا ہے۔ کچھ اینکروں پر براڈکاسٹر کی تنظیم جرمانہ بھی عائد کر چکی ہے، مگر کسی نے بھی سدھرنے کا نام نہیں لیا۔ ان کی اس مجرمانہ صحافت کے پس پشت حکومت کی مرضی اور مالکان کا دباؤ تو ہے ہی، خود ان کے اندر بھی فرقہ پرستی کا جو زہر بھرا ہے وہ سب ابھر کر ان کے پروگراموں میں سامنے آتا ہے۔

حیرت ہے کہ اینکروں کے بائیکاٹ کو لے کر اپوزیشن کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ میڈیا کی آزادی پر حملہ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا مضحکہ خیز الزام سنجیدہ صحافی اور کچھ اینکر بھی لگا رہے ہیں جبکہ سیدھی سی بات ہے کہ یہ نہ ان پر کسی قسم کی پابندی ہے نہ ہی ان پر کسی قسم کی کوئی سختی، بلکہ سیدھی سی بات ہے کہ ہم آپ کے پروگراموں میں شریک نہیں ہوں گے۔ کانگریس کے سینئر ترجمان پون کھیڑا نے اسے مہاتما گاندھی کا ترک موالات بتایا ہے۔ ظاہر ہے بی جے پی کو ان اینکروں کی حمایت میں آنا ہی تھا۔ اس نے ایمرجنسی کی یاد دلاتے ہوئے کانگریس پر میڈیا کا گلا گھونٹنے کا الزام لگا دیا۔ ٹھیک یہی الزام ان چینلوں کی تنظیم کی جانب سے جاری کئے گئے پریس نوٹ میں بھی دوہرائے گئے ہیں۔

پریس کی آزادی جمہوریت کی بقا کی اولین شرط ہے لیکن کیا ہندوستانی پریس واقعی آزاد ہے؟ کیا اس کی آزادی کا پیمانہ اس کے ذریعہ اپوزیشن کے خلاف چلائی جا رہی اس کی مہم سے لگایا جائے گا؟ یا حکومت سے سوال پوچھنے کی آزادی حکومت کو ایکسپوز کرنے کی آزادی، عوامی مسائل اٹھانے کی آزادی، عوام کے کھڑے ہونے کی آزادی سے لگایا جائیگا؟ یا پریس کی آزادی کے نام پر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ سماج کو متحد کرنا پریس کا فرض ہے یا منقسم کرنا؟ کبھی پریس کو مستقل مخالف کہا جاتا تھا، یعنی سرکار چاہے جس پارٹی کی ہو اس پر نظر رکھنا، اس کی غلطیوں کو اجاگر کرنا، اس سے سوال پوچھنا میڈیا کا فرض ہوتا، مگر اب ہندوستانی میڈیا اپوزیشن سے سوال کرتی ہے اور حکومت کے ایجنڈا کو آگے بڑھاتی ہے۔ ہندی فلم انڈسٹری کبھی سیکولرزم کا مضبوط قلعہ ہوا کرتی تھی۔ نہ صرف اپنی نجی زندگی میں انڈسٹری کے فنکار اور دیگر ارکان ہر طرح کی تفریق سے بلند تھے بلکہ ان کی فلمیں بھی سماج کو بھائی چارہ، اتحاد اور محبت کا پیغام دیتی تھیں۔ لیکن اب ’دی کشمیر فائلس‘ اور ’دی کیرالہ اسٹوری‘ جیسی فلمیں بنا کر سماج میں تفرقہ اور نفرت پھیلائی جاتی ہے۔ غنڈہ موالی اور بدعنوانی کا کردار مسلمان ہوگا اور اس کا خاتمہ کرنے والا افسر ہندو ہوگا۔ اس طرح مسلمانوں کی ایک منفی امیج بنائی جاتی ہے۔

میڈیا کی اسی چاپلوسی، سرکار پرستی، نفرتی ایجنڈہ اور بے ریڑھ کا ہو جانے کی وجہ سے عالمی رینکنگ میں ہندوستانی میڈیا نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور اس گراوٹ میں ہر سال اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہندوستانی میڈیا کی رینکنگ 180 ممالک میں 161ویں مقام پر ہے۔ یہ وہ میڈیا تھی جس نے برٹش سامراج کے چھکے چھڑا دیے تھے۔ مولوی باقر نے پھانسی قبول کی تھی مگر قلم کا تقدس نہیں مٹنے دیا تھا۔ جنگ آزادی کے دور میں ہر زبان کے ان گنت صحافیوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، بھکمری کا شکار رہے، پھٹے کپڑوں اور بھوکے پیٹ رہ کر بھی اپنے قلم کو تلوار بنائے رکھا۔ آزادی کے بعد بھی گو کہ کچھ ناپسندیدہ واقعات ہوئے لیکن مجموعی طور سے میڈیا آزاد ہی رہی، لیکن اب میڈیا نے جو رخ، رویہ اور طرز عمل اختیار کیا ہے وہ افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے۔ قریب 35 سال سے اس پیشے میں رہنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہم کہاں تھے اور کہاں پہنچ گئے۔ اور اب جب اپوزیشن نے اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے تو بہتر ہوتا کہ میڈیا خود اپنا محاسبہ کرتا اور سوچتا کہ ملک کی 60 فیصد سے زائد عوام کی نمائندہ جماعتوں کو اس پر عدم اعتماد کیوں ہے۔ اپوزیشن کے اس انتہائی قدم کے باوجود بھی یہ میڈیا اپنا محاسبہ کرنے کے بجائے حکومت اور حکمران پارٹی کے ایجنڈے کو ہی آگے بڑھا رہا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ ان کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہ صرف درست بلکہ حق بجانب بھی ہے۔

(مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں، جس کا ادارے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

ایک نظر اس پر بھی

ہیمنت سورین کو جھٹکا! سپریم کورٹ کا انتخابی تشہیر کے لئے عبوری ضمانت دینے سے انکار

جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو مبینہ زمین گھوٹالہ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے بدھ کو اس معاملے میں لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں سورین کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا، ’’نچلی عدالت اس معاملے کا نوٹس لے چکی ہے ...

ایسی سرگرمیوں سے ووٹرس پریشان، ووٹنگ کا حتمی فیصد تاخیر سے جاری کیے جانے پر کانگریس نے پھر اٹھائے سوال

لوک سبھا انتخاب 2024 میں پانچ مراحل کی ووٹنگ ہو چکی ہے۔ اس درمیان بدھ کو ایک بار پھر کانگریس نے الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹنگ کا حتمی فیصد جاری کرنے میں تاخیر اور ووٹنگ کے عبوری فیصد و حتمی فیصد کے درمیان بڑے فرق پر فکر کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ووٹرس الیکشن کمیشن میں ...

انڈیا اتحاد کی حکومت بننے پر ’مودانی مہا گھوٹالہ‘ کی تحقیقات جے پی سی کے ذریعے کرائی جائیں گی: کانگریس

 کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے 22 مئی 2024 کو کہا کہ عام انتخابات میں انڈیا اتحاد بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا نظر آ رہا ہے، ’مودانی مہا گھوٹالہ‘ کے سلسلے میں انکشافات کا ٹیمپو بھی رفتار پکڑ رہا ہے۔ جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا، ’’مودانی مہا گھوٹالے کے سلسلہ میں آج ہونے ...

انڈیا اتحاد کی حکومت بننے کے بعد بی جے پی لیڈر اور مرکزی ایجنسیوں کے افسر جیل جائیں گے: آتشی

عام آدمی پارٹی کی لیڈر آتشی نے کہا کہ 4 جون کے بعد جب انڈیا اتحاد کی حکومت بنے گی تو الیکٹورل بانڈ اسکیم کی تحقیقات ہو گی جس میں نہ صرف بی جے پی کے لیڈر جیل جائیں گے بلکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے افسر بھی جیل ...

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی ادھوری عمارت - ضائع ہو رہے ہیں کروڑوں روپئے

تقریباً 9 سال پہلے بھٹکل   جالی گرام پنچایت  کا درجہ بڑھاتے ہوئے اُسے  پٹن پنچایت میں تبدیل کیا گیا تھا مگر آج تک پٹن پنچایت کے دفتر کی عمارت تعمیری مرحلے میں ادھوری پڑی ہے اور اس پر خرچ ہوئے ایک کروڑ روپے ضائع ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔

بھٹکل کی ہائی ٹیک مچھلی مارکیٹ بن گئی ہے مہاجر مزدوروں، آوارہ جانوروں اور بھکاریوں کا ٹھکانہ؛ کیا یہ ترقی کے نام پر غبن نہیں  ؟

ایسا لگ رہا ہے کہ بھٹکل میں ترقیاتی کاموں کا مطلب  ہی  حکومت کے پیسوں کا غبن کرنا  رہ گیاہے ، ایسا لگتا ہے کہ  یہاں بعض لوگ ایسے ہیں جو حکومت کی مختلف اسکیموں  کے لئے  منطور شدہ رقم  کو چور راستے سے    اپنے نام کروارہے  ہیں جس میں  بھٹکل سنتے مارکٹ کے قریب  تعمیر شدہ  ہائی ٹیک ...

بھٹکل میں پینے کے پانی کے لئے آئے ہوئے فنڈ کا کیسے ہورہا ہے استعمال ؟ تعمیر شدہ ٹینک میں کیوں نہیں چڑھ رہا ہے پانی ؟

گزشتہ ایک دہائی کے دوران مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت کروڑوں روپیوں  کا فنڈ موصول ہونے کے باوجود بھٹکل تعلقہ میں پینے کے پانی قلت کی وجہ سے عوام سخت دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔

ارے میں تو پھنس گیا اڈانی امبانی کے چکر میں۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

سیاست بھی کیا خوب چیز ہے۔ اگر مہربان ہو تو کامیابی کی دیوی چرنوں میں لوٹتی ہے۔ اگر ناراض ہو جائے تو اپنے دوست بھی پرائے ہو جاتے ہیں۔ سیاست کب کیا رخ اختیار کر لے کہا نہیں جا سکتا۔ جن ملکوں میں جمہوریت ہے یعنی انتخابات کے ذریعے حکومتیں بنتی اور بگڑتی ہیں وہاں کی سیاست تو اور بھی ...

پرجول ’جنسی اسکینڈل‘سے اُٹھتے سوال ...آز: سہیل انجم

اس وقت ملکی سیاست میں تہلکہ مچا ہوا ہے۔ جنتا دل (ایس) اور بی جے پی شدید تنقیدوں کی زد پر ہیں۔ اس کی وجہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا جنسی اسکینڈل کہا جا رہا ہے۔ قارئین ذرا سوچئے  کہ اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ ایک شخص نے، جو کہ رکن پارلیمنٹ ہے جو ایک سابق وزیر اعظم کا پوتا ...

بھٹکل تنظیم کے جنرل سکریٹری کا قوم کے نام اہم پیغام؛ اگر اب بھی ہم نہ جاگے تو۔۔۔۔۔۔۔؟ (تحریر: عبدالرقیب ایم جے ندوی)

پورے ہندوستان میں اس وقت پارلیمانی الیکشن کا موسم ہے. ہمارا ملک اس وقت بڑے نازک دور سے گزر رہا ہے. ملک کے موجودہ تشویشناک حالات کی روشنی میں ووٹ ڈالنا یہ ہمارا دستوری حق ہی نہیں بلکہ قومی, ملی, دینی,مذہبی اور انسانی فریضہ بھی ہے۔ گزشتہ 10 سالوں سے مرکز میں فاشسٹ اور فسطائی طاقت ...

یہ الیکشن ہے یا مذاق ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آز: ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ایک طرف بی جے پی، این ڈی اے۔۔ جی نہیں وزیر اعظم نریندرمودی "اب کی بار چار سو پار"  کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ وہیں دوسری طرف حزب اختلاف کے مضبوط امیدواروں کا پرچہ نامزدگی رد کرنے کی  خبریں آرہی ہیں ۔ کھجوراؤ میں انڈیا اتحاد کے امیدوار کا پرچہ نامزدگی خارج کیا گیا ۔ اس نے برسراقتدار ...

اُترکنڑا میں جنتا دل ایس کی حالت نہ گھر کی نہ گھاٹ کی ! کمارا سوامی بن کر رہ گئے بغیر فوج کے کمانڈر !

ایسا لگتا ہے کہ جنتا دل ایس نے بی جے پی کے ساتھ شراکت کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے ریاستی سطح پر ایک طرف کمارا سوامی بغیر فوج کے کمانڈر بن کر رہ گئے ہیں تو دوسری طرف ضلعی سطح پر کارکنان نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی کے نام پر محض چند لیڈران ہی اپنا دربار چلا رہے ہیں جسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے ...

انتخابی سیاست میں خواتین کی حصہ داری کم کیوں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک کی پانچ ریاستوں کی ہواؤں میں انتخابی رنگ گھلا ہے ۔ ان میں نئی حکومت کو لے کر فیصلہ ہونا ہے ۔ کھیتوں میں جس طرح فصل پک رہی ہے ۔ سیاستداں اسی طرح ووٹوں کی فصل پکا رہے ہیں ۔ زندگی کی جدوجہد میں لگے جس عام آدمی کی کسی کو فکر نہیں تھی ۔ الیکشن آتے ہی اس کے سوکھے ساون میں بہار آنے کا ...

کیا کینرا پارلیمانی سیٹ پر جیتنے کی ذمہ داری دیشپانڈے نبھائیں گے ؟ کیا ضلع انچارج وزیر کا قلمدان تبدیل ہوگا !

پارلیمانی الیکشن قریب آنے کے ساتھ کانگریس پارٹی کی ریاستی سیاست میں بھی ہلچل اور تبدیلیوں کی ہوا چلنے لگی ہے ۔ ایک طرف نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار اور وزیر اعلیٰ سدا رامیا کے بیچ اندرونی طور پر رسہ کشی جاری ہے تو دوسری طرف پارٹی کے اراکین اسمبلی وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی ...

کانگریس بدلے گی کیا راجستھان کی روایت ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک کی جن پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں راجستھان ان میں سے ایک ہے ۔ یہاں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اقتدار کی ادلا بدلی ہوتی رہی ہے ۔ اس مرتبہ راجستھان میں دونوں جماعتوں کی دھڑکن بڑھی ہوئی ہیں ۔ ایک کی اقتدار جانے کے ڈر سے اور دوسری کی اقتدار میں واپسی ہوگی یا نہیں اس ...

غزہ: پروپیگنڈے سے پرے کچھ اور بھی ہے! ۔۔۔۔۔۔۔ از: اعظم شہاب

غزہ و اسرائیل جنگ کی وہی خبریں ہم تک پہنچ رہی ہیں جو سامراجی میڈیا ہم تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ خبریں عام طورپر اسرائیلی فوج کی بمباریوں اور غزہ میں جان و مال کی تباہیوں پرمبنی ہوتی ہیں۔ چونکہ جنگ جیتنے کا ایک اصول فریقِ مخالف کو اعصابی طور پر کمزور کرنا بھی ہوتا ہے، اس لیے اس طرح ...