لاک ڈاؤن کے دوران جان گنوا نے والے مہاجر مزدوروں کے اہل خانہ کو 25لاکھ روپئے معاوضہ دینے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 2nd June 2020, 1:33 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی  دہلی 2/جون (ایس او نیوز)   سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی)   کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے   مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر تیاری کے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام کرنے کی جگہ اور اپنے گھروں کو پیدل سفر کرنے والے جو مہاجر مزدور بھوک اور تھکن سے جان گنو ا چکے ہیں،  ان کے اہل خانہ کو25لاکھ روپئے معاوضہ دیا جائے۔

ایم کے فیضی کے مطابق لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد لاک ڈاؤن کے وجہ سے اپنی ملازمت اور آمدنی سے محروم مہاجر مزدوروں کے کھانے اور رہائش فراہم کرنے کیلئے حکومت نے نہ تو کوئی مثبت قدم اٹھایا تھا اور نہ ہی انہیں گھروں تک لے جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولیات کا بندوبست کیا تھا۔ اس سے مہاجر مزدور شدید تشویش اور خوف میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ان کے ساتھ پولیس کا ظالمانہ اور سفاکانہ سلوک کے ساتھ ساتھ کھانے پینے اور رہائش کی کمی اور گھر واپس جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے مہاجر مزدوروں  کو مجبوراً  پیدل سفر کرنا پڑا تھا۔

پریس ریلیز میں اس بات پرتشویش کا اظہار کیا گیا  ہے کہ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے ملک میں کورونا کے بغیر ہی 378افراد فوت ہوئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد بغیر کسی متبادل انتظام کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو منسوخ کرنے کی وجہ سے جانی نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔ملک بھر میں سڑک اور ٹرین حادثات میں 74افراد نے اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ 47افراد بھوک کی وجہ سے جان بحق ہوئے ہیں۔ 40افراد طبی خدمات کے انکار کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔ پولیس کی بے رحمی کے نتیجے میں 12افراد فوت ہوئے ہیں۔ طویل سفر اور تھکن کی وجہ سے 26افراد فوت ہوگئے اور 83افراد نے خودکشی کی ہے اور بہت سے زخمی افراد زیر علاج ہیں۔

ایس ڈی پی آئی  نے  مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو ان کے اسپتال کے اخراجات برداشت کرنا چاہئے۔ کوویڈ۔19کی آڑ میں حکومت کی طرف سے کی گئی غلطیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مہاجر مزدوروں کے مسائل کے تئیں حکومت کی عدم توجہی اور بر وقت مداخلت نہ کرنے کی وجہ سے ان انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے یاد دلایا کہ مودی حکومت اس تباہی کی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران جان بحق ہوئے افراد کے اہل خانہ کو 25لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرے اوراسپتالوں میں زیر علاج افراد کو مناسب معاوضہ اور ان کے طبی اخراجات کو فوری طور پر ادا کرے۔

ایک نظر اس پر بھی

معروف عالم دین اور جمعیۃ علما ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی کا انتقال

 کوہ کن کے معروف عالم دین اور جمعیۃ علما ء ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی نے سنیچر کے روز مختصر علالت کے بعد 84 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ موصوف قدیم دینی و علمی درسگاہ دار العلوم حسینیہ شری وردھن ضلع رائے گڑھ (مہاراشٹرا) کے مہتمم بھی تھے۔

’کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے؟ مودی جی کو بتانا چاہیے‘

 کانگریس نے کہا ہے کہ چین نے وادی گلوان میں ہندوستانی حدود میں دراندازی کی ہے اور اس کے فوجی دستے ملک کے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے متعدد اہم علاقوں میں تعینات ہیں، اس لیے اب وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ بتانا چاہiے کہ کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے۔

آج 16 پوزیٹیو آنے والوں میں تین دبئی سے اور آٹھ وجے واڑہ سے لوٹے لوگ شامل

بھٹکل کے آج جن 16 لوگوں کی رپورٹ کورونا  پوزیٹیو آئی ہے، اُن میں سے تین لوگ دبئی سے آئے ہوئے لوگ ہیں، آٹھ لوگ وجئے واڑہ ،  تین لوگ  اُترپردیش  اور مہاراشٹرا سے لوٹا ہوا ایک شخص بھی آج کی لسٹ میں شامل ہیں۔

کورونا اَپ ڈیٹ:جنوبی کینرامیں آج صبح سے اب تک ہوئی 2افراد کی موت۔ضلع میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہوئی 22

جنوبی کینرا میں کورونا وباء کے اثرات بہت زیادہ سنگین صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ آج صبح سے اب تک کووِڈ کے 2 مریض موت کا شکار ہوگئے ہیں جس کے بعد ضلع میں وباء کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22ہوگئی ہے۔

بھٹکل میں نجی اسپتال کی نرس کو لگ گیا کورونا کا مرض۔ایس ایس ایل سی کی طالبہ نرس کی بیٹی کو کیا گیا ہوم کوارنٹین

ایک نجی اسپتال میں خدمات انجام دینے والی نرس کو کووِڈ کا مرض لاحق ہونے کے بعدایس ایس ایل سی کا امتحان دے رہی اس کی بیٹی کو امتحان سے باز رکھتے ہوئے ہوم کوارنٹین کیا گیا ہے۔