بھٹکل میں تنظیم کے زیراہتمام آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل کا اہم پروگرام؛ بھٹکل اور ہوناور سے مسلم لیڈران اور مسجد کے ذمہ داران کی شرکت

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 8th September 2019, 10:41 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:8؍ستمبر(ایس اؤ نیوز)’Masjid One Movement ‘کے عنوان پر بھٹکل کے قومی سماجی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کے زیراہتمام  آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل (AIMDC) کا ایک اہم تعارفی پروگرام  اتوار صبح تنظیم ہال میں منعقد ہوا جس میں مساجد کو سینٹر اور مرکز بنا کر ملت کے تمام مختلف الخیال افراد اور طبقات کے لوگوں کو   اپنے مسلک اور منہج کے اختلاف کے باوجود ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہوئے ایک مشترکہ لائحہ عمل  تیار کرنے اور  ملت کے  بنیادی مسائل کو حل کرنے کی طرف   توجہ دلائی  گئی۔  اس تعلق سے کونسل کے جنرل سکریٹری محمد امتیاز نے پاور پوائنٹ پرزینٹیشن کے ذریعے   تعلقہ بھر سے آئے ہوئے مختلف  جماعتوں اور مساجد کے ذمہ داران  پر زور دیا کہ مسلمان کم ازکم  اپنے اپنے مسلک پرقائم رہتے ہوئے  بھی  ایک پلیٹ فارم پر آسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 800برس تک ہندوستان پر حکومت کرنے والے مسلمان آج مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 18کروڑ مسلمانوں میں سے 10.6کروڑ مسلمان گنجان ،گندے ، تاریک محلات میں بسیرا کرتےہیں۔

کونسل کی سرگرمیوں کاتعارف کراتے ہوئے محمد امتیازنے بتایا کہ کونسل ایک این جی اؤ ہے، جس کے ذریعے ملک کے تمام مسلمانوں کوایک مرکز کے تحت متحد کرتےہوئے معاشرے کو مضبوط و مستحکم کرنا اہم مقصد ہے۔ اس کے لئے کونسل نے مساجد کو مرکز بناناطئے کیا ہے کیونکہ مسلمانوں کی سماجی ، معاشی ، تعلیمی ، ثقافتی اور قومی اقدار کی ترقی و ترویج کے لئے مسجد ہی ایک اہم مرکز اور قوت ہے۔ اس لحاظ سے مسلم قوم کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہے۔

کونسل کی طرف سے یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ مساجد کو مرکز بناکر ہر میدان میں مسلمانوں کی نمائندگی ہو اور ان کے معیار زندگی میں بہتری ہواور تعلیمی پراگندگی کو دور کرتےہوئے انہیں تحقیقی اور قیادت کے میدان کی طرف لے جایا  جائے ۔

انہوں نے بتایا کہ مسجد کو صرف نماز کی حد تک محدود نہ رکھا جائے   بلکہ اسے پوری مسلم آبادی کی ترقی کا مرکز بنائے۔ محمد امتیاز کے مطابق 74.5فی صد مسلم آبادی شمالی ہندوستان میں بستی ہے تو 25.5فی صد مسلم جنوبی ہندوستان میں بستے ہیں۔ ان کے مطابق شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کی سماجی و معاشی حالت جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ جس کی سب سے اہم وجہ انہوں نے تعلیم کو بتایا۔ سرکاری محکمہ جات میں مسلمانوں کی نمائندگی کے متعلق انہوں نے بتایاکہ مسلم آبادی کے تناسب کے مطابق 3فی صد مسلمان آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسر ہیں ۔ ریلوے میں4.5فی صد، پولس محکمہ میں 6فی صدہیں تومسلمانوں کی ایک بڑی آبادی یعنی  20.9فی صد جیلوں میں بند ہے  اور 25فی صد مسلمان بھکاری ہیں۔

پروگرام کا آغاز عبدالقادر باشا رکن الدین کے درس قرآن سے ہوا۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نے استقبال کیا،  نائب صدر محمد ہاشم محتشم نے شکریہ اداکیا۔ مولانا سید یاسر برماور ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ تنظیم کے صدر ایس ایم سید پرویز نے پروگرام کی صدارت کی۔ اس موقع پر نائب صدر محتشم جعفر، انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے صدر عبدالرحیم جوکاکو، تنظیم کے سابق جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری ، عنایت اللہ شاہ بندری وغیرہ موجود تھے۔ پروگرام میں بھٹکل سمیت ہوناور  کی بھی مختلف جماعتوں اور مسجدوں کے  ذمہ داران بڑی تعداد میں موجود تھے۔  دوپہر کی بہترین ضیافت کے ساتھ پروگرام اختتام کو پہنچا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں تیز رفتار کاربے قابو ہوکر بجلی کے کھمبے سے ٹکراگئی، کار کو شدید نقصان، بڑا حادثہ ٹلا

  یہاں نوائط کالونی نیشنل ہائی وے پرایک کار بے قابو ہوکر تیز رفتاری کے ساتھ بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گئی، حادثے میں کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچا، البتہ کار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حادثہ جمعرات صبح قریب سات بجے پیش آیا۔

بھٹکل نیشنل ہائی وے پر تیزرفتار بس، لاری سے ٹکراگئی؛ 25 سے زائد زخمی

یہاں وینکٹاپور نیشنل ہائی وے 66 پر ایک تیز رفتار بس، پارک کی ہوئی لاری سے  ٹکراگئی جس کے نتیجے میں بس پر سوار 25 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کو کنداپور اور باقی کو بھٹکل سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔