شہریت قانون کے خلاف بی جے پی کے ’اپنوں‘ نے اٹھایا بڑا قدم، 48 کارکنان کا استعفیٰ

Source: S.O. News Service | Published on 14th January 2020, 11:43 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھوپال، 14/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف بی جے پی نے پورے ملک میں گھر گھر پہنچنے کی مہم چھیڑ رکھی ہے، لیکن ان کی پارٹی کے ہی کئی اراکین اس قانون کے خلاف کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ بھوپال میں بی جے پی اقلیتی سیل کے 48 اراکین نے شہریت قانون کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ پارٹی چھوڑنے والے لیڈروں نے پارٹی کے اندر تفریق آمیز رویہ کی شکایت بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بی جے پی اراکین ایسے ہیں جو ایک خاص طبقہ کے خلاف قابل اعتراض بیان دے رہے ہیں جس سے ملک کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔

بھوپال بی جے پی اقلیتی سیل کے جن 48 اراکین نے پارٹی سے استعفیٰ دیا ہے ان میں اقلیتی سیل کے نائب صدر عادل خان بھی شامل ہیں۔ انھوں نے شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی کی مخالفت میں 11 جنوری کو استعفیٰ دیا اور پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے میڈیا سے پوچھا کہ ’’کیا آپ نے کبھی کسی ایسی حکومت کو دیکھا ہے جس نے پارلیمنٹ میں قانون پاس کرنے کے بعد اس کے لیے گھر گھر جا کر حمایت مانگی؟‘‘ پارٹی چھوڑنے والے اراکین نے بی جے پی ریاستی اقلیتی سیل کے صدر کو اپنا استعفیٰ نامہ سونپتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’پارٹی شیاما پرساد مکھرجی اور اٹل بہاری واجپئی کے اصولوں پر عمل کرتی ہے، لیکن انھوں نے کسی کے ساتھ تفریق نہیں کیا اور اقلیتوں سمیت سبھی کو اپنے ساتھ لے کر چلے تھے۔‘‘

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق پارٹی چھوڑنے والے لیڈروں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ پارٹی میں کوئی جمہوریت باقی نہیں رہی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پوری پارٹی دو سے تین لوگوں کے بھروسے چھوڑ دی گئی ہے جو نقصان دہ ثابت ہوگی۔ حالانکہ بی جے پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کانگریس و کمیونسٹ پارٹیوں پر انھیں گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بی جے پی لیڈر گوپال بھارگو کا کہنا ہے کہ ہمارے کارکنان کو گمراہ کیا گیا ہے جو اس ایشو کو ٹھیک سے نہیں سمجھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بی جے پی اپنے کارکنان کو ہی شہریت قانون سے متعلق صحیح چیز سمجھانے میں ناکام ہو رہی ہے تو پھر آخر وہ گھر گھر جا کر عام لوگوں کو کیسے سمجھا پائے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی کے پاس شہریت قانون کے متعلق پوچھے جا رہے سوال کا جواب ہی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی لیڈران و کارکنان دانشور طبقہ سے اس سلسلے میں بحث و مباحثہ سے پرہیز کر رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

جموں کے ایک وکیل اور کشمیر کی ایک خاتون کورونا سے ہلاک، لوگ دہشت زدہ

 جموں سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل اور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی ایک خاتون کی موت کے بعد کورونا ٹیسٹ مثبت آنے سے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد لوگوں میں ایک دہشت کا ماحول بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

بھٹکل کے کورونا سے متاثرہ مزید چار لوگ صحت یاب ہوکر کاروار اسپتال سے ڈسچارج؛ پہنچے بھٹکل

مینگلور اسپتال لنک کے جن 29 لوگوں کو کاروار کمس اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا تھا، اُس میں سے 20 لوگوں کو سنیچر کے دن اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا ، اُن ہی میں سے مزید چار لوگوں کو آج کمس  سے ڈسچارج کیا گیا ہے۔ چاروں بذریعہ ایمبولنس آج منگل کو بھٹکل سرکاری اسپتال پہنچے جہاں سے ضروری ...

بھٹکل تعلقہ انتظامیہ اور سابق ایم ایل اے کے تعاون سے کیا گیا مہاجر مزدوروں کی روانگی کا انتظام

اوڈیشہ اور جھار کھنڈ کے سیکڑوں مزدور جو ماہی گیری اور دیگر سرگرمیوں میں خدمات انجام دے رہے تھے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان تھے ان کو اپنے گھروں کے لئے روانہ کرنے کا انتظام بھٹکل تعلقہ انتظامیہ اور سابق ایم ایل اے منکال وئیدیا کی جانب سے کیا گیا۔

بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹکا میں زبردست گرمی ؛ 26مئی سے اگلے تین دنوں تک کرناٹکا میں زبردست بارش کے امکانات

بحرہ عرب اور خلیج بنگال میں طوفانی ہواؤں سے پیدا ہونے والے دباؤ کے نتیجے میں ریاست کے جنوبی اندرونی علاقوں اور ساحلی پٹی پر 26مئی سے اگلے تین دنوں تک زبردست بارش ہونے کا محکمہ موسمیات نے امکان جتایا ہے۔