اُڈپی 22/ دسمبر (ایس او نیوز) ضلع اُڈپی کے ملپے میں واقع کوچی شپ یارڈ میں ملازمت کرنے والوں کی طرف سے پاکستان کو ہندوستانی بحریہ کی جاسوسی کرنے اور خفیہ معلومات روانہ کے معاملے میں مزید ایک ملزم کو اڈپی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جس کی شناخت گجرات کے رہنے والے ہریندرکمار ولد بھرت کمار کھڈیات (34 سال) کے طور پر کی گئی ہے ۔

اس تازہ گرفتاری کے ساتھ پاکستان کے لئے ہندوستانی بحریہ کی جاسوسی کے معاملے میں گرفتار کیے گئے ملزمین کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی ہے ۔ اس سے قبل 21 نومبر کو ملپے بندرگاہ پر واقع اڈپی شپ یارڈ میں سشما میرین پرائیویٹ لمیٹڈ نامی ضمنی ٹھیکیدار کمپنی کے ملازمین روہیت اور شاستری کو گرفتار کیا گیا تھا جو کہ اتر پردیش کے رہنے والے ہیں۔
گرفتار شدہ افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر مجاز طریقے سے نیوی کے جہازوں کے نمبر اور دیگر حساس معلومات وہاٹس ایپ کے ذریعے پاکستان کو فراہم کی تھی اور اس کے بدلے میں ملزمین نے غیر قانونی طور پر مالی مفادات حاصل کیے تھے۔
اب گجرات سے گرفتار شدہ ملزم ہریندر کمار نے مبینہ طور پر اپنے نام سے حاصل کیا گیا سم کارڈ جاسوسی کرنے والے ملزمین کو فراہم کیا تھا جسے جرم انجام دینے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ہریندر کمار نے رقم کے بدلے میں یہ سم کارڈ فراہم کیا تھا۔
اُڈپی کے ایس پی ہری رام شنکر نے بتایا کہ ملزمین کے ذریعے جہازوں اور دیگر سلسلے کی اہم معلومات سوشیل میڈیا پر شیئر کیے جانے سے ابتدا میں شبہ پیدا ہوا تھا کہ اس طرح یہ معلومات کہیں پاکستان کو فراہم نہ کی جا رہی ہوں۔ اس سلسلے میں گہرائی سے جانچ کرنے پر یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے۔ اب گرفتار کیے گئے ملزم ہریندر کمار نے جو سم کارڈ فراہم کیا تھا اس کے ذریعے پاکستانی افراد کو او ٹی پی بھیجے جانے کی بات بھی ثابت ہوئی ہے۔ اس نے اس سے قبل گرفتار کیے گئے ملزمین کو تکنیکی مشورے بھی دئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ چونکہ یہ معاملہ ملک کی اندرونی سلامتی سے تعلق رکھتا ہے اس لئے گرفتار شدہ ملزمین کے خلاف یو اے پی اے قانون کی دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔
ایس پی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ساحلوں اور بندرگاہوں میں اگر کہیں کوئی ایسا مشتبہ شخص نظر آتا ہے یا ہوم اسٹے، ریسارٹ وغیرہ میں کوئی غیر ملکی شخص رہنے یا ملازمت مانگنے آتا ہے تو فوری طور پر اس کے تعلق سے پولیس کو معلومات فراہم کریں ۔