اڈپی، 7/ نومبر (ایس او نیوز) 'بالے کدرو مٹھ ' سے قدیم مورتیوں کی چوری اور فروخت کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مٹھ کے سربراہ شری واسودیوا سداشیوا آشرم سوامی جی مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں ۔
معلوم ہوا ہے کہ بالے کدرو مٹھ مورتیوں کی چوی کے معاملے میں سوامی جی کے علاوہ چار دیگر افراد کے خلاف بنگلورو کے بسویشور نگر پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے ۔۔ شبہ ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد سوامی جی مٹھ کے انتظامی افسر اور عملے کے ہمراہ وہاں سے چلے گئے ہیں ۔ پولیس نے مفرور سوامی جی کی تلاش شروع کر دی ہے ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق برہماور تعلقہ کے ’بالے کدرو‘ میں واقع یہ مٹھ جمعرات کی رات سے بند ہے ۔ مٹھ کے باہر جمع ہونے والے مقامی دیہاتیوں اورعقیدتمندوں نے اس صورت حال پر شدید غم و غصہ اور ناراضگی کا اظہار کیا ۔ عقیدتمندوں کا کہنا ہے کہ مٹھ بند ہونے کی وجہ سے دیوتا کی روزانہ تین وقت کی پوجا کا سلسلہ رک گیا ہے ۔
اگرچہ جمعہ کی صبح کسی دوسرے مٹھ سے آئے ہوئے کچھ لوگوں نے پوجا کی، لیکن عقیدتمندوں کا الزام ہے کہ یہ رسومات ’بالے کدرو مٹھ‘ کے روایتی طریقوں کے مطابق ادا نہیں کی گئیں۔ ’مٹھ پروٹیکشن کمیٹی‘ (مٹھ تحفظ کمیٹی) کے رکن سریش اڈیگا کے مطابق، مقامی عقیدتمندوں کو مٹھ کے اندر جانے سے بھی روکا جا رہا ہے ۔
مٹھ کے ایک عقیدتمند، پریتم اڈیگا نے الزام لگایا کہ ایک شخص، جو خود کو ’سنیاسی‘ کہتا تھا، گزشتہ دو سال سے مٹھ میں رہ رہا تھا، لیکن مقامی عقیدتمندوں نے اسے کبھی بھی ’سوامی جی‘ کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ حال ہی میں، کچھ مبینہ غیر اخلاقی آڈیو گفتگو وائرل ہوئی تھی جس میں سوامی جی کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ لیکن ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یہ آڈیو کلپس جعلی ہیں اور انہیں ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ دیہاتیوں کے احتجاج کے باوجود انہوں نے مٹھ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا ۔ پریتم اڈیگا کا الزام ہے کہ اب سوامی جی سے متعلق کئی بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں ۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مورتیوں کے موجودہ ٹھکانے اور حالت، مٹھ میں موجود اصل مورتیوں کی درست تعداد، اور ان کی مبینہ فروخت کے پیچھے کارفرما محرکات کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس بات کی تفتیش کی جائے کہ آیا اس معاملے کا تعلق قدیم مورتیوں کی اسمگلنگ کرنے والے کسی بین الاقوامی نیٹ ورک سے تو نہیں ہے۔ بنگلورو کے بسویشور نگر پولیس اسٹیشن میں ’مٹھ‘ (مذہبی مرکز) کے ایک عقیدت مند، جگدیش ایتھل کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر، واسودیوا سداشیواشرم سوامی جی، مٹھ کے انتظامی افسر انیل کمار مدھیاستھا، عملے کے ارکان جیا لکشمی اور شریاس، نیز بنگلورو میں نوادرات کی دکان کے مالک ناگیندر پرساد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
پولیس کے پاس درج شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ واسودیوا سداشیواشرم نامی ایک شخص 2024 سے ’بالے کدرو مٹھ‘ میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تھا ۔ مزید الزام ہے کہ مٹھ میں روزانہ کی پوجا پاٹ میں شامل کئی قدیم مورتیاں، سوامی جی، انتظامی افسر اور عملے کے ارکان کی ملی بھگت سے چوری کر لی گئیں اور 2025 میں بنگلورو کے بسویشور نگر میں واقع ’آئیڈلز‘ (Idols) نامی دکان کے مالک ناگیندر پرساد کو فروخت کر دی گئیں۔
جن مورتیوں کو مبینہ طور پر فروخت کیا گیا ان میں چھٹی یا ساتویں صدی کی ’ولبھ گنپتی‘ مورتی، ’شکتی گنپتی‘ مورتی، وجے نگر دور کی ’لکشمی نرسمہا‘ مورتی اور 12ویں صدی کی ’مہیشا مردنی دیوی‘ کی مورتی شامل ہیں ۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل مورتیاں فروخت کرنے کے بعد ملزمان نے اسی دکان سے ان کی نقلی مورتیاں تیار کروائیں اور لکڑی سے بنی ان نقلوں کو مٹھ میں پوجا کے لیے رکھ دیا، جس کے ذریعے عقیدت مندوں کو دھوکہ دیا گیا اور ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ۔
شکایت میں ان مورتیوں کی مبینہ چوری اور فروخت، نیز غیر قانونی مالی فائدے کے لیے چوری شدہ مورتیوں کو وصول کرنے کے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور ملوث پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔
اسی بیچ بنگلورو پولیس نے تحقیقات کے سلسلے میں مورتیوں کے مبینہ خریدار ناگیندر پرساد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے ۔ مقدمہ درج ہونے اور مٹھ کے بند ہونے کی اطلاعات کے بعد پولیس نے سوامی جی کی تلاش بھی کر رہی ہے ۔
یاد رہے کہ یہ مٹھ پہلے ہی عقیدت مندوں کی مخالفت، احتجاج اور سوامی جی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے ۔ کئی عقیدت مندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قدیم مورتیوں کو واپس مٹھ لایا جائے اور اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں ۔