ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امریکی سینیٹ میں پہلی مرتبہ مسلم اُمیدوار کی شاندار جیت؛ بھٹکل کے سیاسی ورثے کو بھی ملی عالمی شناخت

امریکی سینیٹ میں پہلی مرتبہ مسلم اُمیدوار کی شاندار جیت؛ بھٹکل کے سیاسی ورثے کو بھی ملی عالمی شناخت

Wed, 04 Nov 2026 19:42:12    S O News
امریکی سینیٹ میں پہلی مرتبہ مسلم اُمیدوار کی شاندار جیت؛ بھٹکل کے سیاسی ورثے کو بھی ملی عالمی شناخت

بھٹکل، 4 نومبر (ایس او نیوز): ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدال السید نے مشی گن سے امریکی سینیٹ کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کردی ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان کی اس کامیابی کے ساتھ کرناٹک کے ساحلی شہر بھٹکل کو بھی بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت ملی ہے، کیونکہ عبدال السید کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جوکاکو کا تعلق بھٹکل سے ہے اور ان کے نانا مرحوم جے ایچ شمس الدین جوکاکو کا شمار بھٹکل کی اہم سیاسی اور سماجی شخصیات میں ہوتا ہے۔

عبدال السید کی کامیابی جہاں امریکی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت ہے، وہیں اس نے بھٹکل کی اس سیاسی تاریخ کو بھی دوبارہ موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے، جس میں شمس الدین جوکاکو نے آزادی کے بعد کے ابتدائی برسوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ نہ صرف ایک ممتاز وکیل اور عوامی شخصیت تھے بلکہ سابق ریاست میسور کی حکومت میں وزارتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے تھے۔

dr-tayyab-abdul-el-sayed.jpg

شمس الدین جوکاکو نے 1946 میں بمبئی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہوکر انتخابی سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ریاستوں کی تنظیمِ نو کے بعد انہوں نے ہوناور حلقے سے میسور قانون ساز اسمبلی کا انتخاب لڑا اور 1957 اور 1962 میں کامیابی حاصل کی۔ 1958 میں بی ڈی جٹی کی قیادت والی حکومت میں انہیں ڈپٹی  وزیرِ مالیات مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں ایس نِجلنگپا کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں انہوں نے ڈپٹی الیکٹری سٹی کے  وزیرِ  کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

شمس الدین جوکاکو کی خدمات صرف سیاست تک محدود نہیں تھیں۔ بھٹکل کے شہری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔ 1954 سے 1958 کے دوران بھٹکل میونسپلٹی کے صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں سڑکوں اور نکاسیٔ آب کے نظام میں بہتری کے ساتھ شہر میں بجلی، اسٹریٹ لائٹس اور ٹیلی فون جیسی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔ تعلیم اور عوامی اداروں کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔

ان کی خدمات کی یاد آج بھی بھٹکل میں باقی ہے۔ انجمن حامی مسلمین، جو شہر کا ایک اہم اور قومی تعلیمی ادارہ ہے اور جس کے زیرِ انتظام 16 سے زائد تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں، کی انتظامی عمارت ان کے نام سے موسوم ہے۔

مشی گن میں عبدال السید کی کامیابی ایک سخت انتخابی مقابلے کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز کو شکست دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بدھ، 4 نومبر کی صبح عبدال السید کی کامیابی کا اعلان کیا۔ یہ نشست ڈیموکریٹک سینیٹر گیری پیٹرز کے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کے فیصلے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ عبدال السید کی کامیابی سے ڈیموکریٹک پارٹی نے مشی گن کی اس اہم نشست پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے۔

سابق عوامی صحت افسر عبدال السید نے اپنی انتخابی مہم میں سستی اور قابلِ رسائی طبی سہولتوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاست میں بڑی کارپوریشنوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے جیسے مسائل کو نمایاں کیا تھا۔ ان کی کامیابی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کے لیے بھی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھٹکل کے لیے اس انتخابی نتیجے کی اہمیت محض ایک امریکی سیاسی کامیابی تک محدود نہیں۔ اس نے ساحلی کرناٹک کے اس شہر کی ایک ایسی شخصیت کی سیاسی اور سماجی خدمات کو بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جس کا تعلق آزادی کے بعد ہندوستان کی قانون ساز اور حکومتی تاریخ سے رہا ہے۔

Click here for report in English


Share: