ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بیڈدی ٹاؤن شپ منصوبے پر کسانوں کا شدید احتجاج؛ سروے ٹیم کو واپس لوٹنا پڑا، دو ایف آئی آر درج، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کا سخت انتباہ

بیڈدی ٹاؤن شپ منصوبے پر کسانوں کا شدید احتجاج؛ سروے ٹیم کو واپس لوٹنا پڑا، دو ایف آئی آر درج، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کا سخت انتباہ

Tue, 14 Jul 2026 17:10:53    S O News
بیڈدی ٹاؤن شپ منصوبے پر کسانوں کا شدید احتجاج؛ سروے ٹیم کو واپس لوٹنا پڑا، دو ایف آئی آر درج، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کا سخت انتباہ

بینگلورو، 14/ جولائی (ایس او نیوز )  کرناٹک حکومت کے مجوزہ بیڈدی ٹاؤن شپ منصوبے کو لے کر رام نگر ضلع میں تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ پیر کے روز بیڈدی تعلقہ کے منڈلہلی (Mandalahalli) گاؤں میں زمین کے سروے کے لیے پہنچنے والی سرکاری ٹیم کو مقامی کسانوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث سروے کا عمل درمیان میں ہی روکنا پڑا۔ واقعے کے بعد پولیس نے دو الگ الگ مقدمات درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بینگلورو میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (BMRDA) کے افسران، محکمہ محصولات کے اہلکاروں اور سروے ٹیم نے مجوزہ ٹاؤن شپ کے لیے اراضی کی پیمائش کا کام شروع کیا تھا۔ تاہم اس کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں کسان، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، موقع پر جمع ہوگئے اور سروے کی سخت مخالفت کی۔ احتجاج کے دوران کئی خواتین نے ہاتھوں میں جھاڑو اٹھا کر سرکاری اہلکاروں کے خلاف نعرے بازی کی اور سروے ٹیم کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

احتجاجی کسانوں کا کہنا تھا کہ حکومت ان کی زرخیز زرعی زمینیں حاصل کرکے ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ معاش چھیننا چاہتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی زمین کسی صورت نہیں دیں گے اور اگر حکومت نے منصوبہ آگے بڑھانے کی کوشش کی تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔

کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی، جس کے بعد سرکاری ٹیم کو سروے کا عمل معطل کرکے واپس جانا پڑا۔

واقعے کے بعد پولیس نے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے واقعے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا سرکاری اہلکاروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد یا قانون شکنی میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

ادھر اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص بی جے پی اور جے ڈی (ایس)، نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت کسانوں کی رضامندی کے بغیر زرخیز زرعی اراضی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ٹاؤن شپ منصوبہ بینگلورو  اور اس کے اطراف بڑھتی آبادی، رہائشی ضروریات اور صنعتی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بیڈدی ٹاؤن شپ منصوبہ گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ حکومت اس منصوبے کے ذریعے  بینگلورو کے قریب ایک جدید رہائشی اور تجارتی شہر بسانا چاہتی ہے، جبکہ مقامی کسان مسلسل اپنی زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ تازہ تصادم کے بعد اس منصوبے پر سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔


Share: