ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایس آئی آر معاملہ: ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کی سپریم کورٹ سے رجوع، ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کا الزام

ایس آئی آر معاملہ: ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کی سپریم کورٹ سے رجوع، ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کا الزام

Tue, 06 Jan 2026 18:56:12    S O News

نئی دہلی، 6/ جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)مغربی بنگال میں جاری اسپیشل اِنٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کو لے کر ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن نے سپریم کورٹ میں ایک تازہ عرضی دائر کی ہے۔ عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے اس عمل میں سنگین تکنیکی اور انتظامی خامیوں کے باعث بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے جا رہے ہیں، جو جمہوری حقوق کے لیے تشویش ناک ہے۔

عرضی کے مطابق ایس آئی آر کے دوران اختیار کیے گئے طریقۂ کار میں شفافیت اور ضابطوں کی پاسداری کا فقدان ہے۔ تکنیکی نظام کی خرابیوں کی وجہ سے کئی مستحق شہری، خاص طور پر بزرگ ووٹر، غیر ضروری پریشانیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ درست دستاویزات کے باوجود شہریوں کے نام حذف ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔

ڈیرک اوبرائن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بوتھ لیول افسران کو واٹس ایپ یا دیگر غیر رسمی ذرائع سے ہدایات دی جا رہی ہیں، جو قواعد کے منافی ہیں۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور ووٹر لسٹ سے متعلق تمام کارروائیاں باقاعدہ، تحریری اور ضابطہ شدہ طریقے سے انجام دی جائیں۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، ترمیم کرنے یا اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ پندرہ جنوری سے آگے بڑھائی جائے، تاکہ متاثرہ شہریوں کو مناسب موقع مل سکے۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست میں پندرہ دسمبر 2025 سے ایس آئی آر کا عمل جاری ہے، جو 15 جنوری دو ہزار چھبیس تک طے کیا گیا ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے سیاسی جماعتوں اور ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ فارم اور ضابطے کے مطابق ہی دعوے اور اعتراضات داخل کریں۔

دریں اثنا چیف الیکٹورل آفیسر نے بتایا کہ 17 دسمبر 2025 سے 5 جنوری دو ہزار چھبیس تک مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے دو لاکھ سے زائد دعوے اور اعتراضات موصول ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ دعوے ایک بڑی قومی جماعت کی طرف سے داخل کیے گئے، جب کہ دیگر جماعتوں نے بھی بڑی تعداد میں اعتراضات جمع کرائے ہیں۔ عام ووٹروں کی جانب سے بھی نام شامل کرنے اور حذف کرنے سے متعلق بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں، تاہم بغیر مقررہ فارم کے دی گئی شکایات کو شمار میں شامل نہیں کیا گیا۔


Share: