ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ممتا بنرجی کی پارٹی کو ایک اور جھٹکا، اقلیتی سیل کے سکریٹری اجمل صدیقی مستعفی

ممتا بنرجی کی پارٹی کو ایک اور جھٹکا، اقلیتی سیل کے سکریٹری اجمل صدیقی مستعفی

Sun, 07 Jun 2026 17:58:32    S O News
ممتا بنرجی کی پارٹی کو ایک اور جھٹکا، اقلیتی سیل کے سکریٹری اجمل صدیقی مستعفی

کولکاتہ ، 7 /جون (ایس او نیوز / ایجنسی)ممتا بنرجی کی پارٹی میں اندرونی بحران مسلسل برقرار ہے۔ ایک کے بعد ایک کئی بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ریاستی اقلیتی سیل کے سکریٹری اجمل صدیقی نے ہفتہ (6 جون) کو پارٹی سے استعفیٰ دینے کی اطلاع دی۔ صدیقی نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پارٹی کے اندرونی طریقہ کار اور اس کی قیادت کے اثرات کی وجہ سے لیا۔ انہوں نے ٹی ایم سی کے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر ’آمرانہ رویہ‘ اپنانے کا الزام بھی عائد کیا۔

اجمل صدیقی نے بتایا کہ ’’میں صرف 2 روز قبل حج سے واپس آیا ہوں۔ واپسی کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ یہ پارٹی بدنامی کے سوا کچھ نہیں دے رہی۔ اس کے بیشتر ارکان غیر مناسب سرگرمیوں میں ملوث ہیں، آئے دن اسکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں اور آئندہ بھی مزید سامنے آ سکتے ہیں۔ اس پارٹی میں رہنا ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہو گیا تھا اور یہ عوام کے لیے کوئی حقیقی کام بھی نہیں کر رہی تھی۔‘‘

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اجمل صدیقی نے کہا کہ ’’یہ صرف نام کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے، اس کے اندر رہ کر آپ کوئی بامعنی کام نہیں کر سکتے۔ یہاں صرف وہی لوگ آگے بڑھتے ہیں جو چاپلوسی کرتے ہیں۔ اسی لیے واپسی کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ استعفیٰ دینا ہی بہتر ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پارٹی آج صرف ایک شخص کی وجہ سے بکھر رہی ہے اور وہ ہیں ابھیشیک بنرجی۔ ان کے آمرانہ رویے کی وجہ سے ہمیں اس جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 12 یا 13 سال پہلے ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے، پیسوں کا مطالبہ کیا گیا اور ہمیں مسلسل ہراساں کیا گیا۔

جب اجمل صدیقی سے مستقبل کے سیاسی منصوبوں اور کیا وہ بی جے پی میں شامل ہونے پر غور کریں گے، کے بارے میں پوچھا گیا تو صدیقی نے کہا کہ ان کی ترجیح صرف مغربی بنگال کی ترقی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم نے اب تک اس بارے میں نہیں سوچا ہے۔ ہماری واحد خواہش بنگال میں ترقی دیکھنا ہے۔ صنعتیں قائم ہوں اور غریبوں کو نوکریاں ملیں۔


Share: