نئی دہلی ، 7 /جون (ایس او نیوز / ایجنسی) محکمۂ امورِ صارفین نے قانونی میٹرولوجی (Legal Metrology) کے فریم ورک کے تحت خوردنی تیلوں کے لیے معیاری پیک سائز مقرر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو مختلف برانڈز کی قیمتوں کا آسانی سے موازنہ کرنے اور بہتر خریداری کے فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق، محکمہ نے خوردنی تیلوں اور چکنائیوں کی خالص مقدار اور معیاری پیک سائز کے تعین سے متعلق اپنے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر میں ترمیم کی ہے۔ نئی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے مینوفیکچررز، پیکرز اور درآمد کنندگان کو تین ماہ کی عبوری مہلت دی گئی ہے۔نظرِ ثانی شدہ ایس او پی کے مطابق بڑے خوردنی تیلوں کے لیے نو معیاری پیک سائز مقرر کیے گئے ہیں:۲۰۰؍ ملی لیٹر/گرام،۵۰۰؍ ملی لیٹر/گرام، ایک لیٹر/کلوگرام،۲؍ لیٹر/کلوگرام،۳؍ لیٹر/کلوگرام،۴؍ لیٹر/کلوگرام، ۵؍ لیٹر/کلوگرام، ۱۵؍لیٹر/کلوگرام،۵۰؍ لیٹر/کلوگرام۔یہ اصول پام آئل، سویا بین آئل، سن فلاور آئل، سرسوں کے تیل، مونگ پھلی کے تیل، تل کے تیل، رائس بران آئل، کاٹن سیڈ آئل، مکئی کے تیل اور مختلف ملاوٹ شدہ خوردنی تیلوں پر لاگو ہوں گے۔
یہ فیصلہ خوردنی تیل کی صنعت کی بڑی تنظیموں سے وسیع مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، جو ملک کے تقریباً ۹۰؍ فیصد خوردنی تیل کے شعبے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت اگر پیک پر تیل کی مقدار حجم (والیوم) میں ظاہر کی گئی ہو تو قانونی میٹرولوجی (پیکجڈ کموڈیٹیز) رولز۲۰۱۱ء کے مطابق اس کے مساوی وزن کو بھی واضح طور پر درج کرنا لازمی ہوگا۔ یہ قواعد ملک میں تیار کیے جانے والے اور درآمد شدہ دونوں قسم کے خوردنی تیلوں پر لاگو ہوں گے۔
۲۰۰؍ ملی لیٹر یا ۲۰۰؍ گرام سے کم پیک اور کم استعمال ہونے والے بعض خوردنی تیلوں کو معیاری پیک سائز کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ کم قیمت والے چھوٹے پیک صارفین کو دستیاب رہ سکیں۔ محکمہ کے مطابق جو کاروباری ادارے مقررہ آخری تاریخ سے پہلے ہی معیاری پیک سائز اختیار کرنا چاہیں، وہ فوری طور پر ایسا کر سکتے ہیں۔انڈین ویجیٹیبل آئل پروڈیوسرس اسوسی ایشن (آئی وی پی اے ) کے صدرسدھاکر دیسا نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ اقدام ریٹیل شیلفوں میں ساختی نظم و ضبط بحال کرے گا اور تمام کاروباری اداروں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا’’ صنعت کو آزادی دینے کے لیے غیر معیاری پیک سائز کی اجازت دی گئی تھی، لیکن گزشتہ تین برسوں کے دوران اس عمل نے مارکیٹ کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مختلف غیر معیاری پیکس کی بھرمار ہوئی اور بازار میں وسیع پیمانے پر الجھن پیدا ہوئی۔‘‘یہ خبر ایک تیسرے فریق کے سنڈیکیٹڈ ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔ اس متن کی درستگی، اعتبار یا قابلِ اعتماد ہونے کی ذمہ داری متعلقہ خبر رساں ادارے پر عائد ہوتی ہے۔ ناشر ادارہ مواد میں کسی بھی وقت، بغیر پیشگی اطلاع کے، ترمیم، حذف یا تبدیلی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔