کلبرگی 15/ جولائی (ایس او نیوز) کرناٹک کے کلبرگی سینٹرل جیل سے قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے تین قیدی سنسنی خیز انداز میں فرار ہوگئے، جس کے بعد محکمہ جیل خانہ جات اور پولیس میں کھلبلی مچ گئی۔ واقعے کو جیل کی سکیورٹی میں سنگین کوتاہی قرار دیتے ہوئے محکمہ نے ابتدائی کارروائی کے طور پر جیل کے سپرنٹنڈنٹ سمیت آٹھ اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، جبکہ فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لیے تین خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق فرار ہونے والے قیدیوں کی شناخت مستان (اسلام پور، بسواکلیان تعلقہ)، سنتوش بسپا (سانت پور، اورد تعلقہ) اور ساگر بھیمارایا (بکچوڈی گاؤں، ضلع بیدر) کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں قتل کے مختلف مقدمات میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے اور کلبرگی سینٹرل جیل میں بند تھے۔
اطلاعات کے مطابق منگل کی علی الصبح تقریباً ساڑھے چار بجے تینوں قیدی جیل کی حفاظتی دیوار پھلانگ کر فرار ہوگئے۔ حیرت انگیز طور پر جیل عملے کو اس واقعے کا علم صبح قیدیوں کی گنتی کے وقت ہوا، جس کے بعد فوری طور پر فرط آباد پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا گیا اور بڑے پیمانے پر تلاش شروع کردی گئی۔
کلبرگی کے پولیس کمشنر ڈاکٹر شرنپا ایس ڈی نے جیل کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لیے تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ اطراف کے اضلاع کی پولیس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ فرار ہونے والوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
واقعے کے بعد محکمہ جیل خانہ جات کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (جیل خانہ جات) آلوک کمار کی ہدایت پر محکمہ جاتی کارروائی کرتے ہوئے ایک سپرنٹنڈنٹ، ایک ایگزیکٹو جیلر، ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، دو ہیڈ وارڈرز اور تین وارڈرز سمیت مجموعی طور پر آٹھ اہلکاروں کو فرائض میں غفلت برتنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کلبرگی سینٹرل جیل کے لیے نئے سپرنٹنڈنٹ کی تقرری بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب واقعے نے ریاست میں جیلوں کی سکیورٹی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا قیدیوں کو فرار ہونے میں اندر سے کسی کی مدد حاصل تھی یا نہیں۔ جیل کے سی سی ٹی وی کیمروں، حفاظتی انتظامات اور ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔