کاروار، 5 / جولائی (ایس او نیوز) قدرتی آفات سے پیدا ہو نے والے مسائل اور ان کے حل کے لئے وزیر صحت اور ضلع انچارج وزیر یو ٹی قادر کی قیادت میں منعقدہ محکمہ جاتی افسران کی میٹنگ سے ضلع کے تین اہم کانگریسی اراکین اسمبلی غیر حاضر رہے ۔ جس کے بعد سیاسی گلیاروں میں مختلف چہ میگوئیاں سنائی دے رہی ہیں ۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ڈی کے شیوکمار نے جب وزیر اعلیٰ کی کرسی سنبھالی تو انہوں نے جو کابینہ تشکیل دی ہے اس میں صرف 14 وزارتی قلمدان تقسیم کیے گئے ہیں اور 20 وزراء کے منصب ابھی خالی پڑے ہیں ۔ چونکہ مانسون کے دوران قدرتی آفات کا سلسلہ سامنے آتا ہے اس لئے اس سے متعلقہ مسائل سے نپٹنے کے لئے موجودہ وزراء کو ہی مختلف اضلاع کے لئے عبوری طور پر انچارج بنایا گیا ہے ۔ اسی ضمن میں دکشن کنڑا، اڈپی کے علاوہ اتر کنڑا ضلع کا چارج بھی وزیر صحت یو ٹی قادر کو دیا گیا ہے ۔
اس حوالے سے وزیر یو ٹی قادر کی قیادت میں ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں افسران کے ساتھ میٹنگ منعقد کی گئی تھی ۔ لیکن ضلع کے بزرگ سیاست داں، رکن اسمبلی اور ایڈمنسریٹیو ریفارمس کمیٹی کے صدر آر وی دیشپانڈے کے علاوہ ضلع کی سیاست میں جوش و خروش کے ساتھ رہنے والے رکن اسمبلی بھیمنّا نائک، سابق ضلع انچارج وزیر اور بھٹکل ایم ایل اے منکال وئیدیا اس میٹنگ سے غائب رہے ۔
وزیر صحت کی حیثیت سے جب یو ٹی قادر نے کمٹہ سرکاری ہاسپٹل کا دورہ کیا تو اُس وقت منکال وئیدیا ان کے ساتھ رہے، مگر کاروار میں منعقدہ میٹنگ میں وہ شامل نہیں رہے ۔ جبکہ کاروار انکولہ رکن اسمبلی ستیش سئیل، بی جے پی کے رکن اسمبلی دینکر دیسائی اور بی جے پی سے نکالے گئے رکن اسمبلی شیورام ہیبار، ایم ایل سی گنپتی الویکر اس دورے میں وزیر صحت کے ساتھ رہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ 15 جولائی تک ریاستی کابینہ میں توسیع ہونے کے امکانات ہیں جس کے پیش نظر بشمول منکال وئیدیا ضلع کے دیگر اراکین اسمبلی کی نظریں وزارتی منصب پر لگی ہوئی ہیں اور وہ سب نئی توسیع شدہ کابینہ میں وزارت حاصل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں ۔ اس مقصد سے بینگلورو اور دہلی کے چکر لگانے کا سلسلہ شروع ہونے کی خبریں بھی مل رہی ہیں ۔