کاروار 4 جولائی (ایس او نیوز): اتر کنڑا ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے ٹرانسپورٹ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ضلع میں اوور لوڈ سامان لے جانے والی گاڑیوں کے خلاف فوری مقدمات درج کرے اور تمام اہم شاہراہوں پر باقاعدہ چیکنگ بڑھائی جائے ۔
کاروار ڈی سی دفتر میں منعقدہ روڈ سیفٹی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ایک مخصوص سڑک پر نہیں بلکہ تمام اہم شاہراہوں پر مسلسل تفتیشی مہم چلائی جائے اور مقررہ حد سے زیادہ سامان لے جانے والی گاڑیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے نجی بسوں میں مسافروں کے ذاتی سامان کے علاوہ دیگر تجارتی اشیا کی غیر قانونی نقل و حمل پر خصوصی نگرانی رکھنے کی بھی ہدایت دی۔ ساتھ ہی طویل فاصلے کی بسوں میں دو ڈرائیوروں کی موجودگی کو بھی لازمی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت جانچ کرنے کا حکم دیا۔
ڈی سی نے کہا کہ کاروار فلائی اوور کے نیچے دکانیں اور رہائشی علاقے موجود ہیں، اس لیے قومی شاہراہ اتھارٹی وہاں حفاظتی اقدامات کرے اور این ایچ اے آئی کی ہدایات کے مطابق فلائی اوور کے نچلے حصے میں مطلوبہ تعمیراتی و حفاظتی کام جلد مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کمٹہ کے اطراف سڑک حادثات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے ضرورت کے مطابق اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں، سڑکوں پر لائن مارکنگ اور کیٹ آئیز لگائی جائیں۔ شاہراہ کے کنارے پہاڑوں سے آبشار کی طرح گرنے والے پانی کے مقامات پر لوگ گاڑیاں روک کر تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہیں، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے مقامات پر "نو پارکنگ" سمیت تمام ضروری انتباہی بورڈ نصب کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گھاٹ علاقوں سے آنے والے ڈرائیوروں کو آگے موجود خطرناک موڑوں کی صحیح معلومات نہ ہونے کے باعث تیز رفتاری سے حادثات پیش آتے ہیں، لہٰذا اترائی شروع ہونے کے مقام سے ہی ہر موڑ کا نمبر ظاہر کرنے والے سائن بورڈ نصب کیے جائیں۔ تمام پلوں پر بھی واضح رہنمائی کے بورڈ اور رات کے وقت پلوں کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔
ڈپٹی کمشنر نے پولیس محکمہ کی سفارش پر ضرورت کے مطابق اے این پی آر (Automatic Number Plate Recognition) کیمرے نصب کرنے، حادثات کے حساس مقامات (بلیک اسپاٹس) پر حفاظتی اقدامات کرنے، رفتار کی حد کے بورڈ اور بلنکرز نصب کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر دلیش ششی، ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن ایم این، سب ڈویژنل افسر شروَن کمار، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور محکمہ تعمیرات عامہ کے افسران سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک تھے۔