ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں نیشنل ہائی وے پر آوارہ گائیں اور کتے نبھا رہے ہیں اسپیڈ بریکرس کی ذمہ داری !

بھٹکل میں نیشنل ہائی وے پر آوارہ گائیں اور کتے نبھا رہے ہیں اسپیڈ بریکرس کی ذمہ داری !

Thu, 21 Aug 2025 13:31:01    S O News
بھٹکل میں نیشنل ہائی وے پر آوارہ گائیں اور کتے نبھا رہے ہیں اسپیڈ بریکرس کی ذمہ داری !

بھٹکل،  21 / اگست (ایس او نیوز) اس وقت ملک بھر میں آوارہ کتوں اور لاوارث گایوں کی وجہ سے عوام کو پیش آ رہی مشکلات زیر بحث ہیں اور اس پر قابو پانے کے لئے عدالتوں کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں ۔
    
اسی پس منظر میں دیکھا جائے تو بھٹکل شہر میں سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے والے کتوں یا گایوں پر اس طرح کے عدالتی فیصلوں یا سرکاری اقدامات کو ذرا برابر بھی اثر نظر نہیں آتا ۔ محلوں کی گلیوں اور سڑکوں کے علاوہ مصروف ترین نیشنل ہائی وے پر بھی دن رات آوارہ کتوں اور بے گھر مویشیوں کا راج چلتا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیشنل ہائی وے ان جانوروں کے آرام و استراحت کے لئے ہی بنایا گیا ہے ۔
    
نیشنل ہائی وے اور خاص کرکے شمس الدین سرکل کے قریب یہ آوارہ جانوروں کے گروہ  انتہائی سکون کے ساتھ اس طرح آرام کرتے ہیں کہ وہاں سے موٹر گاڑیوں کو گزارنا انتہائی دشوار بلکہ اپنی موت کو دعوت دینے کے برابر ہوتا ہے ۔ اور جب بیٹھے بٹھائے اچانک ہی ان مویشیوں کا موڈ بگڑ جاتا ہے اور یہ آپس میں بھڑ جاتے ہیں یا راہگیروں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں تو پھر نہ پیدل چلنے والوں کی خیر ہوتی ہے اور نہ موٹر سواریوں کو بچنے کا راستہ نظر آتا ہے ۔ ایسے میں حادثے پیش آنا، دو پہیہ گاڑیوں کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی خواتین اور بچوں کا نیچے گر جانا اور لوگوں کی جان جوکھم میں پڑنا عام بات ہے ۔ 
    
آوارہ کتوں کے کاٹنے کے معاملات تقریباً روزانہ کا معمول بن گئے ہیں ۔ دن سڑکوں کے کنارے پڑے ہوئے کچروں کے ڈھیر پر پلنے والے یہ آوارہ کتے محلوں اور بازاروں میں مکانوں، دکانوں اور سنسان عمارتوں کے احاطے میں گروپ بنا کر پڑے رہتے ہیں اور موقع ملنے پر وہاں سے تنہا گزرنے والے بچوں، خواتین اور بڑی عمر کے لوگوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں ۔ 
    
ان آوارہ کتوں پر قابو پانے کے لئے سرکاری اور عدالتی احکامات کے پس منظر میں جانوروں سے رحمدلی اور محبت کے نام پر بڑے شہروں میں کچھ شہریوں کے گروپ عدالتی فیصلوں اور سرکاری اقدامات کی مخالفت اور آوارہ کتوں کی حمایت میں میدان میں آ گئے ہیں ۔ لیکن کرناٹکا کے شہروں اور گاوں قصبوں میں اس طرح کی کوئی صورت حال ہے ۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے بلدی اداروں کو عدالتی فیصلوں کی روشنی میں آوارہ کتوں اور مویشیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی سخت ہدایات بھی جاری نہیں کی گئی ہیں ۔  
    
ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری حکومت فوری طور پر اس طرف توجہ دے اور اعلیٰ عدالتوں سے آنے والے فیصلوں اور احکامات کو سختی کے ساتھ لاگو کرنے کی ہدایات جاری کرے ۔ 


Share: