بنگلورو 9/ فروری (ایس او نیوز): کرناٹک کے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت مائیکرو فنانس کے حوالے سے ایک نیا بل آئندہ اسمبلی اجلاس میں پیش کرے گی۔ اس سے قبل حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن گورنر تھاورچند گہلوت کی جانب سے وضاحت طلب کیے جانے کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔
ریاست میں مائیکرو فنانس اداروں کی جانب سے ہراسانی کے باعث خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن گورنر کے اعتراضات کے بعد اب یہ معاملہ اسمبلی میں بل کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔
بنگلورو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ پرمیشور نے کہا، ’’گورنر نے آرڈیننس کو مسترد نہیں کیا بلکہ وضاحت طلب کی ہے، جسے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے قوانین کو سخت بنایا ہے تاکہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو، اور ایک لاکھ روپے تک کے قرض پر زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب، وزیر برائے تعاون کے این راجنا نے تصدیق کی کہ حکومت نے آرڈیننس کی فائل دوبارہ وضاحت کے ساتھ گورنر کو بھیج دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت رجسٹرڈ مائیکرو فنانس اداروں پر کوئی سختی نہیں کر رہی، لیکن غیر قانونی طور پر زیادہ سود وصول کرنے والے اداروں کے خلاف منی لانڈرنگ قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
راجنا نے مزید کہا کہ زرعی قرضوں میں کمی کے باعث کسان نجی مالیاتی اداروں کا رخ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے ان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کرناٹک میں کانگریس حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔