ممبئی ، 21/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)شیو سینا (یو بی ٹی) کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے پارٹی کے کچھ ممبران پارلیمنٹ کی مبینہ بغاوت پر بی جے پی اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ اپنے ہفتہ وار کالم ’روکھ ٹھوک‘ میں راؤت نے الزام لگایا کہ پارٹی چھوڑنے کی بحث میں رہے اراکین پارلیمنٹ کا قدم کسی نظریاتی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی فائدے اور اقتدار کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔
’سامنا‘ میں شائع ہونے والے مضمون میں راؤت نے دعویٰ کیا کہ اراکین پارلیمنٹ کو پارٹی سے نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر سیاسی خرود وفروخت اور سودے بازی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں اور علاقائی مفادات کے نام پر پارٹی تبدیلی کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ اس کے پیچھے اصل مقصد سیاسی فائدہ ہے۔
سنجے راؤت کے مطابق شیو سینا کے ٹکٹ، کارکنان کی محنت اور ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں ملی عوامی حمایت کی بنیاد پرمنتخب ہوئے عوامی نمائندوں کا پارٹی چھوڑنا ووٹروں کے مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ ہے۔ اپنے مضمون میں راؤت نے پارٹی تبدیلی کی سیاست کا موازنہ تاریخ کے مشہور دھوکے بازوں میر جعفر، بروٹس، جیوڈاس اور کوئسلنگ سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں انحراف اور سیاسی عہد بدلنے کے واقعات کو ’بغاوت‘ یا ’انقلاب‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ یہ جمہوری اقدار اور سیاسی اخلاقیات کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظریات اور تنظیم سے وابستگی کو چھوڑ کر اقتدار کے جغرافیے کی بنیاد پر فیصلہ لینے سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔
راؤت نے الزام لگایا کہ ملک میں ’’آیا رام- گیا رام‘‘ کی سیاست کو فروغ ملا ہے، جس سے سیاسی اخلاقیات اور عوامی نمائندوں کی جوابدہی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے یا اسے برقرار رکھنے کے لیے عوامی نمائندوں کو توڑنے کا رجحان جمہوری نظام کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔
شیو سینا کے 60 ویں یوم تاسیس اور پارٹی کے بانی بالا صاحب ٹھاکرے کے یوم پیدائش کا حوالہ دیتے ہوئے راؤت نے پارٹی چھوڑنے والے لیڈروں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا صرف ایک سیاسی پارٹی نہیں ہے بلکہ سوچ اور جدوجہد کی روایت ہے۔ راؤت نے یقین ظاہر کیا کہ عوام ایسے سیاسی رویے کا مناسب وقت پر جواب دیں گے اور مینڈیٹ کے ساتھ ہوئی مبینہ دھوکہ بازی کو نہیں بھولیں گے۔