ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ساکیت حادثہ: سپریم کورٹ میں رپورٹ، ایم سی ڈی کی مبینہ لاپروائی بے نقاب

ساکیت حادثہ: سپریم کورٹ میں رپورٹ، ایم سی ڈی کی مبینہ لاپروائی بے نقاب

Mon, 08 Jun 2026 17:30:44    S O News

نئی دہلی، 8/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) دہلی کے ساکیت علاقے میں عمارت گرنے کے معاملے میں سپریم کورٹ میں داخل اسٹیٹس رپورٹ میں دہلی میونسپل کارپوریشن کی لاپروائی اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ امیکس کیوری نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ متعلقہ اداروں کی مسلسل غفلت کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا، جس میں 6 افراد کی جان چلی گئی۔

رپورٹ میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ دہلی بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کے احکامات جاری کیے جائیں اور ان عمارتوں کا بھی جائزہ لیا جائے جو حفاظتی معیارات پر پوری نہیں اترتیں۔ امیکس کیوری نے مؤقف اختیار کیا کہ ساکیت میں جس عمارت کے منہدم ہونے سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، وہ برسوں تک ضابطوں کی خلاف ورزی کے باوجود قائم رہی، جو متعلقہ اداروں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسٹیٹس رپورٹ میں عدالت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہلی کی دیگر عمارتوں کا ساختی آڈٹ کرایا جائے اور دہلی میونسپل کارپوریشن سے جواب طلب کیا جائے کہ مذکورہ عمارت کی تعمیر اور استعمال کے دوران قانون کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں ذمہ دار افسران کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور اس سلسلے میں کی جانے والی کارروائی کی مکمل تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کی جائیں۔ امیکس کیوری کے مطابق عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صرف حادثے کے بعد کارروائی کافی نہیں بلکہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مستقل نگرانی اور بروقت اقدامات ضروری ہیں۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو ساکیت میٹرو اسٹیشن کے قریب سیدالاعجائب علاقے میں ایک عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی۔ حادثے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر ملبہ ہٹانے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام شروع کیا۔ اطلاعات کے مطابق عمارت قریب واقع ایک کینٹین پر گری تھی، جہاں اس وقت متعدد افراد موجود تھے۔

حادثے میں 6 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے اس معاملے میں غیر ارادی قتل سمیت متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ 71 سالہ مکان مالک کرم بیر سیجوال کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ کی نگرانی میں زیر سماعت ہے اور عدالت کی آئندہ کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔


Share: