نئی دہلی، 10/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) اتر پردیش کے سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کے انہدام کا معاملہ اب الٰہ آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ مسجد کمیٹی کی جانب سے اس کارروائی کے خلاف عدالت میں عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں ضلع انتظامیہ پر قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد منہدم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
مسجد کمیٹی کے متولی محمد تنویر کی جانب سے دائر کی گئی عرضی میں ضلع انتظامیہ، اتر پردیش حکومت اور اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے سے قبل قانونی نوٹس اور انہدام کا مناسب حکم جاری کرنے سمیت ضروری قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
مسجد کمیٹی نے اس کارروائی کو عبادت گاہوں سے متعلق قانونی تحفظات کے بھی خلاف قرار دیا ہے۔ عرضی میں عبادت گاہوں سےمتعلق قانون کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس عرضی پر آئندہ ہفتے الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت متوقع ہے۔ خیال رہے کہ سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے شہید کر دیا تھا۔
مسجد کے انہدام کے بعد سیاسی اور سماجی سطح پر بھی معاملہ بحث کا موضوع بن گیا۔ سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود سمیت مسجد فریق سے وابستہ افراد نے کارروائی کو یکطرفہ اور من مانی قرار دیا ہے۔
مسجد کے انہدام کے بعد سہارنپور جانے کی کوشش کرنے والے سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے بعض لیڈروں کو پولیس نے نظر بند یا حراست میں لے لیا تھا۔ عمران مسعود نے اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے جانے کی بات کہی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مسجد کی زمین کی ملکیت کا حق اب بھی مسجد کمیٹی کے پاس ہے۔