ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / طالبات کے پروگرام میں راہل گاندھی کا خطاب، ’خواتین کسی کی تابع نہیں، اپنی شناخت خود بنائیں‘

طالبات کے پروگرام میں راہل گاندھی کا خطاب، ’خواتین کسی کی تابع نہیں، اپنی شناخت خود بنائیں‘

Sun, 23 Aug 2026 11:38:47    S O News
طالبات کے پروگرام میں راہل گاندھی کا خطاب، ’خواتین کسی کی تابع نہیں، اپنی شناخت خود بنائیں‘

پونے ، 23/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے پونے میں واقع مشہور تعلیمی ادارے ’اے آئی ایس ایس ایم ایس کالج آف انجینئرنگ‘ میں چھاتروں کی گونج پروگرام سے خطاب کیا۔ یہ پروگرام کوٹا، دہرہ دون اور الٰہ آباد کے بعد چوتھا پروگرام تھا لیکن اس کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ پوری طرح سے طالبات کیلئے مخصوص تھا۔ پروگرام میں ہزاروں طالبات نے شرکت کرکے نہ صرف اسے کامیاب بنایا بلکہ انہوں نے راہل گاندھی کا استقبال موبائل کی فلیش لائٹ جلا کر کیا۔ اس دوران ’راہل گاندھی، راہل گاندھی‘ کا نعرہ بھی بلند ہوتا سنائی دیا۔

را ہل نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال قبول کیا اور کہا کہ ’’پہلی بار پروگرام میں لڑکے کم دکھائی دے رہے ہیں، یا دکھائی ہی نہیں دے رہے۔ ‘‘طالبات اور جین-زی خواتین کی بھیڑ کے درمیان راہل گاندھی نے منو اسمرتی میں موجود کچھ الفاظ پیش کئے جو خواتین کو خود مختار نہ ہونے کی تلقین کرتے ہیں۔ ا نہوں نے اسے شرمناک قرار دیا اور اسکرین پر لکھے جملے کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ ’’منو اسمرتی میں لکھا ہے کہ بچپن میں عورت کو اپنے والد کے تابع رہنا چا ہئے، جوانی میں اپنے شوہر کے اور جب اس کا شوہر مر جائے تو اپنے بیٹوں کے تابع۔ عورت کو کبھی خودمختار نہیں ہونا چا ہئے۔ ‘‘

اس نظریہ کو راہل گاندھی نے سرے سے مسترد کر دیا اور کہا کہ ہر خاتون کی اپنی شناخت ہے، وہ کسی کے تابع نہیں ہو سکتی۔ راہل گاندھی نے خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سماج میں خواتین کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے تشدد کا استعمال کیا جاتا ہے۔

راہل گاندھی نے خواتین تشدد کے طریقوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کے ۳؍ طریقے ہیں۔ جسمانی تشدد، مواقع پر مبنی تشدد اور معاشی تشدد۔ جسمانی تشدد کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ سالانہ ۴ء۵؍ لاکھ بیٹیوں کا قتل حمل میں ہی کر دیا جاتا ہے، ۸۰؍ فیصد خواتین کے ساتھ جنسی استحصال ہوتا ہے، ۲۹؍ فیصد خواتین کے ساتھ جسمانی تشدد کیا جاتا ہے اور ۶؍ فیصد خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے۔

مواقع پر مبنی تشدد سے متعلق انہوں نے کہا کہ ۵۰؍ فیصد خواتین کو سیکوریٹی کے نام پر تعلیم یا کام کرنے سے رجیکشن جھیلنا پڑتا ہے۔ اسی طرح معاشی تشدد یہ ہے کہ محفوظ سفر کے نام پر سالانہ انہیں ۱۷؍ ہزار ۵۰۰؍روپے کا اضافی خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

راہل گاندھی نے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی فوج یا کوئی ایک ادارہ نہیں، بلکہ ملک کی ۷۰؍ کروڑ خواتین کے خواب اور ان کے خیالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آج بھی سماج میں بیٹی، بیوی اور ماں کے تین خانوں تک محدود کردیا جاتا ہے، جبکہ ایک عورت کی اپنی الگ شناخت اور اپنی آزادی ہونی چا ہئے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ منواسمرتی میں عورت کی زندگی کو جس طرح بیان گیا ہے وہ تصور قابلِ شرم ہے۔ ہماری خواتین آزاد ہونی چاہئیں۔ آپ کسی پر منحصر نہیں ہیں۔ آپ کا اپنے والد، شوہر اور بیٹے سے رشتہ ضرور ہے، لیکن آپ کی شناخت ان سے نہیں ہے۔ آپ کی اپنی شناخت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر سیاست پر بات کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ خواتین کو بولنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔ ’’آج آپ بولیں، آپ بتائیں کہ آپ کیا سوچتی ہیں اور کیا چاہتی ہیں۔ ہم آپ کے خیالات آپ ہی کے ساتھ شیئر کریں گے اور ان پر گفتگو کریں گے۔

راہل گاندھی نے اس دوران ایک خاتون سے سوال کیا کہ آخر ایک مرد کسی عورت کو کنٹرول کیوں کرنا چاہتا ہے؟ کیا وہ محسوس کرتی ہیں کہ مرد انہیں قابو میں رکھ سکتا ہے؟خاتون نے جواب دیا کہ جب وہ خود کو دیکھتی ہیں تو جانتی ہیں کہ وہ سب سے پہلے ایک انسان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت غصہ آتا ہے جب لوگ ان کے ساتھ صرف اس بنیاد پر برتاؤ کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت ہیں۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ ’’تم تو لڑکی ہو، خوبصورت ہو، کوئی بھی تم سے شادی کرلے گا اور تم اچھی زندگی گزارو گی۔ ‘‘

اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ یہی دراصل ایک جال ہے۔ خواتین کو کنٹرول کرنے کے لیے سماج نے کئی طریقے بنا رکھے ہیں۔ ان میں تشدد، توہین و بے عزتی، وقت پر پابندی اور فیصلوں پر کنٹرول شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی شکلیں ہیں۔

گھر میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ادھر مت جاؤ، کچھ ہوگیا تو؟‘‘، ’’باہر مت نکلو، کچھ ہوگیا تو؟‘‘۔ اس طرح خوف کو عورت کی زندگی کا مستقل حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ یہ ذہنیت کہاں سے آتی ہے کہ لڑکی کو تعلیم دینے کے بجائے لڑکے کو پڑھایا جائے، لڑکی کو ملازمت نہ کرنے دی جائے اور اگر کوئی لڑکی جدید خیالات رکھتی ہے تو اسے ’’بہت ماڈرن‘‘ قرار دے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین پر جسمانی، مالی اور ان کی زندگی کے فیصلوں سے متعلق تینوں طرح کا کنٹرول قائم ہے۔

ایک لڑکی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ جب اولمپکس میں ملک کے لیے تمغے جیتنے والی لڑکیوں کے ساتھ غلط سلوک کرنے والے لوگ بری ہوجاتے ہیں تو وہ ایک عام لڑکی ہونے کی حیثیت سے کہاں تک لڑ سکتی ہے؟ اس سوال میں اس خوف اور بے بسی کی تصویر نظر آتی ہے جو بہت سی خواتین آج بھی محسوس کرتی ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات پر بھی تنقید کی جن کے تحت لڑکیوں کو محدود رکھنے اور لڑکوں کو مکمل آزادی دینے کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی لیڈروں کے بیانات میں بھی یہی ذہنیت نظر آتی ہے، جہاں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے لئے بھی انہیں ہی ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق یہ سوچ دراصل اس تصور سے پیدا ہوتی ہے کہ لڑکی کی ایک مقررہ جگہ ہے اور اسے پنجرے میں بند رہنا چاہیے، جبکہ لڑکوں کو گالی دینے، گھومنے پھرنے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہونی چا ہئے۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’ہمیں ایسا ہندوستان نہیں چا ہئے۔ ‘‘

آخر میں راہل گاندھی نے خواتین کے نام اپنا پیغام دیا کہ ’’بی لاؤڈ، بی پراؤڈ اینڈ فائٹ فار یور سیلف‘‘ یعنی اپنی آواز بلند کریں، خود پر فخر کریں اور اپنے حق کے لئے لڑیں۔ ‘‘

پروگرام میں مشہور بھوجپوری گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھوڑ بھی پہنچیں۔ انہوں نے راہل گاندھی سے گفتگو کے دوران قومی یکجہتی کو فروغ دینے والا ایک گیت بھی گایا۔ گیت کے بول اس طرح ہیں : ’’تم سا کوئی جھوٹا کوئی بے ایمان نہیں ہے، کسی ایک کی بپوتی (باپ کی جگہ)، ہندوستان نہیں ہے، جب ہندو مسلمان کھیلیں خون کی ہولی، عابد حسن بولے جے ہند کی بولی، آزاد کی زمین یہیں ہے، بریگیڈیر محمد عثمان یہیں ہے، شہیدعبد الحمید، اشفاق اللہ خان یہیں ہے، کسی ایک کی بپوتی ہندوستان نہیں ہے ‘‘، ان کے اس گیت پر پورا میدان تالیوں سے گونج اٹھا۔


Share: