نئی دہلی ، 23/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کو باضابطہ ختم کرنے میں ہو رہی تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس نے اتوار کے روز پوچھا کہ کیا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اب بھی حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو خصوصی اجلاس میں منظور کرانے کے لیے اپنی’داغدار‘ دو تہائی اکثریت کی تلاش میں ہیں۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو 13 اگست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ ’’لوک سبھا کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے اور اس کے اجلاس کے اختتام (باضابطہ طور پر اجلاس ختم کرنے) کے درمیان عام طور پر 2 سے 4 دن کا فرق ہوتا ہے۔ حالانکہ ایسی کئی مثالیں بھی ہیں، جب التوا اور اجلاس کا اختتام ایک ہی دن ہوا ہے۔‘‘ جے رام رمیش نے کہا کہ ’’لوک سبھا کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوئے 10 دن ہو چکے ہیں، لیکن ابھی تک اجلاس کے اختتام سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ایکس پر کہا کہ ’’یہ درست ہے کہ 2015 میں مانسون اجلاس میں یہ فرق 28 دن اور 2021 میں 20 دن کا تھا۔ لیکن تب کوئی شیطانی چال نہیں چلی جا رہی تھی۔‘‘
انہوں نے سوال کیا کہ ’’اب غیر معمولی تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ کیا مرکزی وزیر داخلہ اب بھی خصوصی اجلاس میں حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو منظور کرانے کے لیے اپنی داغدار دو تہائی اکثریت کی تلاش میں ہیں؟‘‘ کانگریس لیڈر نے پارلیمنٹ کی کارروائی سے متعلق کتاب ’پریکٹس اینڈ پروسیجر آف پارلیمنٹ‘ کے ایم این کول اور ایس ایل شاکدھر کی جانب سے لکھے گئے ایک صفحے کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا۔ اس کا مقصد ایوان کے اجلاس کے اختتام کے طریقۂ کار کو واضح کرنا تھا۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ ’’آرٹیکل 85(2) کے تحت صدر کے حکم سے ایوان کے اجلاس کے اختتام کو سیشن کا اختتام (سَترواسَن) کہا جاتا ہے۔ ایوان کا اجلاس ختم کرنے کے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے صدر وزیر اعظم کے مشورے پر عمل کرتے ہیں۔ وزیر اعظم صدر کو مشورہ دینے سے پہلے کابینہ سے مشورہ کر سکتے ہیں۔‘‘
اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ایوان کا اجلاس کسی بھی وقت ختم کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ ایوان کی کارروائی کے دوران بھی۔ حالانکہ عام طور پر ایوان کے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد اجلاس کا اختتام ہوتا ہے۔ ایوان کے اجلاس کے اختتام اور نئے اجلاس میں اس کی دوبارہ میٹنگ کے درمیان کی مدت کو ’انٹر سیشن پیریڈ‘ کہا جاتا ہے۔‘‘ کانگریس نے پہلے کہا تھا کہ اپوزیشن کی کامیابی کی وجہ سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن حکومت اس میں کامیاب نہیں ہو سکی اور حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش نہیں کیا جا سکا۔ دونوں ایوانوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد جے رام رمیش نے کہا تھا کہ ’’ان کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے اور انہیں یہ کبھی نہیں ملے گی۔‘‘
کانگریس نے گزشتہ ہفتے لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی تعداد کو اگلے 25 برسوں تک برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے ہی خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ اپوزیشن نے اندرا بھون میں کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ کے بعد یہ مطالبہ رکھا تھا۔ میٹنگ میں منظور کی گئی قرارداد میں سی ڈبلیو سی نے خواتین کے لیے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کے اپنے عزم کو دہرایا۔ سی ڈبلیو سی کی قرارداد میں کہا گیا کہ ’’کانگریس ورکنگ کمیٹی اپنے اس مطالبے کو دہراتی ہے کہ لوک سبھا کی موجودہ نشستوں کی تعداد اور ریاستوں کے درمیان اس کی موجودہ تقسیم پر آئینی پابندی کو اگلے 25 برسوں کے لیے بڑھایا جائے، جبکہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے ہی خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن نافذ کیا جائے۔‘‘
کانگریس نے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے حد بندی سے متعلق بل کی حمایت کرنے کی وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل کو پہلے ’ڈرامہ‘ قرار دیا تھا۔ پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ ان کا واحد ایجنڈا ’’خواتین کا ریزرویشن نہیں، مودی کا تحفظ‘‘ ہے۔17 اپریل کو بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے سے متعلق حد بندی والے آئینی ترمیمی بل کو ایوان زیریں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لوک سبھا میں ووٹ دینے والے 528 ارکان پارلیمنٹ میں سے 298 نے بل کی حمایت میں اور 230 نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ بل کو منظور کرانے کے لیے دو تہائی اکثریت کے تحت 352 ووٹ درکار تھے۔