ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کانگریس ارکان پارلیمنٹ کا بی جے پی پر نشانہ، عمران مسعود نے ریزرویشن اور خواتین قیادت پر اٹھائے سوال

کانگریس ارکان پارلیمنٹ کا بی جے پی پر نشانہ، عمران مسعود نے ریزرویشن اور خواتین قیادت پر اٹھائے سوال

Sun, 23 Aug 2026 18:11:02    S O News

نئی دہلی ، 23/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)این ڈی اے کی انتخابی حکمت عملی، بی جے پی کی جین-زی تک پہنچنے کی کوششوں، ریزرویشن اور راہل گاندھی کے بیانات پر کانگریس اراکین پارلیمنٹ عمران مسعود اور محمد جاوید کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی کے خواتین کی قیادت کو فروغ دینے کے بیان پر بی جے پی کی جانب سے الزام عائد کیے جانے پر عمران مسعود نے کہا کہ ’’ان کی والدہ بھی وہاں رہی ہیں اور یو پی اے کی چیئرپرسن کے طور پر کام کیا ہے۔ پہلے اپنی پارٹی کو تو دیکھیے۔ کیا آپ کی پارٹی میں کوئی ایسی خاتون ہے جس کے لیے اعلیٰ قیادت کے برابر میں کرسی لگائی جاتی ہو؟ کیا کسی خاتون کو آپ کے اعلیٰ رہنماؤں کے برابر میں ایسی جگہ دی گئی ہے؟ ہماری پارٹی میں خواتین اعلیٰ سطح پر قیادت کرتی ہیں۔ براہ کرم ہمیں اس بارے میں لیکچر نہ دیں۔‘‘

’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خطاب پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ ’’راہل گاندھی ہمیشہ ٹھوس حقائق کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔ ان کا کوئی بھی بیان کھوکھلا یا ہوا ہوائی نہیں ہوتا۔ راہل گاندھی کا ایک بھی ایسا بیان بتائیے جو اب تک غلط ثابت ہوا ہو۔‘‘ ریزرویشن کو لے کر مرکزی وزیر چراغ پاسوان کے بیان پر عمران مسعود کا کہنا ہے کہ ’’یہ صحیح ہے لیکن وہ جس حکومت کا حصہ ہیں، وہی ریزرویشن ختم کرنا چاہتی ہے۔ اب یہ متضاد بیانات ہیں۔‘‘ ’ون ملک، ون نیشن‘ پر انہوں نے کہا کہ ’’دیکھیے ون ملک، ون نیشن کوئی آسان بات نہیں ہے۔ اس میں کئی پیچیدگیاں شامل ہیں۔‘‘

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے پونے میں راہل گاندھی کے پروگرام پر سوال اٹھائے جانے کے حوالے سے کہا کہ ’’راہل گاندھی کو لوگوں سے جو محبت مل رہی ہے، اس سے بی جے پی بوکھلا گئی ہے۔ لوگوں کی توجہ بھٹکانے کے لیے بی جے پی کی جانب سے طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں، جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔‘‘ ’وندے ماترم‘ کو لے کر محمد جاوید نے کہا کہ ’’وندے ماترم کو احترام کے ساتھ سب سے پہلے ہم نے گایا تھا۔ اس میں بی جے پی اور آر ایس ایس کا کیا کردار تھا، یہ دنیا جانتی ہے۔ جس تنظیم نے تقریباً 50 سال سے زیادہ عرصے تک اپنے دفتر میں ترنگا پرچم نہیں لہرایا ہو، جس نے آئین کو جلا دیا ہو، وہ حب الوطنی اور قومی گیت کی بات کرے تو عجیب لگتا ہے۔‘‘


Share: