ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سپریم کورٹ کی مصالحتی کوشش ناکام، گیان واپی، متھرا اور سنبھل معاملے میں فریقین کا انکار

سپریم کورٹ کی مصالحتی کوشش ناکام، گیان واپی، متھرا اور سنبھل معاملے میں فریقین کا انکار

Mon, 13 Jul 2026 17:27:22    S O News

نئی دہلی   ، 13 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) ہندو اور مسلم دونوں فریقین نے اترپردیش میں مسجد اور مندر سے جڑے تین بڑے تنازعات میں سپریم کورٹ کی تصفیہ کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، اس کے بجائے انہوں نے ان معاملات کو عدالتی کارروائی کے ذریعے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں تنازعات کے مصالحتی حل کیلئے اپنے ”سمادھان سماروہ ۲۰۲۶ء“ اقدام کے تحت وارانسی کے گیان واپی مسجد تنازع، متھرا کے شری کرشنا جنم بھومی-شاہی عیدگاہ مسجد تنازع اور سنبھل کی شاہی جامع مسجد تنازع میں فریقین سے رضامندی مانگی تھی۔ ان تینوں مقدمات میں شامل تمام فریقین نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔

گیان واپی تنازع وارانسی کے گیان واپی کمپاؤنڈ کی مذہبی حیثیت کے بارے میں متنازع دعوؤں پر مبنی ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد کے تہہ خانے میں ۱۹۹۳ء تک پوجا کی جاتی تھی، جسے مبینہ طور پر ملائم سنگھ یادو حکومت نے رکوا دیا تھا۔ ان کا مزید الزام ہے کہ ۱۷ ویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کے حکم پر ایک قدیم مندر کے حصے کو منہدم کرکے وہاں مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ دوسری طرف، مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ یہ مسجد اورنگ زیب کے دورِ حکومت سے پہلے کی ہے اور مسلمان ہمیشہ سے اس عمارت پر قابض رہے ہیں۔

متھرا کا شاہی عیدگاہ مسجد-شری کرشنا جنم بھومی تنازع، شری کرشنا وراجمان کی طرف سے دائر کئے گئے مقدمے پر مرکوز ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد، کرشنا جنم بھومی کی زمین پر بنائی گئی تھی۔ ہندو فریق مسجد کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایک سول کورٹ نے شروع میں ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء‘ (ملازمتی مقامات کے قانون) کا حوالہ دیتے ہوئے اس مقدمے کو خارج کر دیا تھا، لیکن متھرا ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپیل پر اس فیصلے کو پلٹ دیا۔

سنبھل تنازع ایک درخواست سے شروع ہوا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہر کی شاہی جامع مسجد، مغل دور میں منہدم کردہ مندر کے اوپر تعمیر کی گئی تھی۔ ایک سول کورٹ نے نومبر ۲۰۲۴ء میں مسجد کے سروے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ۲۴ نومبر ۲۰۲۴ء کو جب دوسری سروے ٹیم وہاں پہنچی تو پتھراؤ اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات کے دوران تشدد بھڑک اٹھا جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اب ان تینوں تنازعات کی سماعت عدالت میں جاری رہے گی۔


Share: