بھٹکل، 13/ اگست (ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے بھٹکل تعلقہ کے جالی پٹن پنچایت اور ہیبلے گرام پنچایت کو بھٹکل ٹی ایم سی میں شامل کرتے ہوئے اسے سٹی میونسپل کاونسل (سی ایم سی) کا درجہ نے کا جو اعلان کیا ہے اس کے خلاف ماحول بنانے کے لئے بھٹکل بی جے پی کے ایک وفد نے بینگلورو پہنچ کر پارٹی کے ریاستی صدر بی وائی وجیندرا سے ملاقات کی اور ان سے اس معاملے کو اسمبلی کے جاری سیشن میں اٹھانے کا مطالبہ کیا ۔
اس ملاقات کے دوران بی جے پی کے وفد نے الزام لگایا کہ وزیر منکال وئیدیا نے ایک قوم کے لوگوں کے ساتھ الیکشن کے دوران جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کرنے کے لئے غیر سائنٹفک انداز میں جالی پٹن پنچایت اور ہیبلے گرام پنچایت کو سی ایم سی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ ہندو سماج اور غریب شہریوں کے ساتھ کیا گیا بہت بڑا دھوکہ ہے ۔
انہوں نے ریاستی صدر کو بتایا کہ ہم نے بھٹکل میں وزیر منکال وئیدیا کی اس سازش کی مذمت کی ہے ۔ اسی احتجاج کی اگلی کڑی کے طور پر اس وقت جاری اسمبلی کے مانسون سیشن میں ہندو سماج اور غریب عوام کے خلاف وزیر منکال وئیدیا کی سازش کے تعلق سے اسمبلی کی توجہ مبذول کروانے کے مقصد سے یہ ملاقات کی جا رہی ہے ۔ اس لئے ہندووں اور غریب عوام کو انصاف دلایا جائے ۔
وفد کے اراکین نے بی جے پی کے ریاستی صدر کے سامنے اپنی دلیل رکھتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی شہری ترقی ہی اس کا مقصد ہے تو پھر بھٹکل سی ایم سی میں منڈلّی، ماوین کوروے، شیرالی، ایلوڈی کوور، مٹھلّی جیسی قریبی پنچایتوں کو بھی شامل کرتے ہوئے سماجی انصاف کا تقاضہ پورا کرنا چاہیے ۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ اسمبلی سیشن میں اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے بھٹکل سی ایم سی میں جالی پٹن پنچایت اور ہیبلے گرام پنچایت کو شامل کرنے کی تجویز کو رد کرنے کی مانگ رکھی جائے ۔
معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی ریاستی صدر وجیندرا نے بھٹکل بی جے پی وفد کی باتیں سننے کے بعد مثبت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس معاملے کو اسمبلی سیشن کے دوران اٹھانے کی یقین دہانی کی ہے ۔
اس موقع پر بی جے پی ضلع صدر این ایس ہیگڑے، بھٹکل منڈل صدر لکشمی نارائین نائک، سابق وزیر شیوانند نائک، سابق ایم ایل اے سنیل نائک کے علاوہ سبرایا دیواڈیگا، گووند نائک، شرینواس نائک، شریکانت نائک، امیش نائک جیسے بی جے پی کے لیڈران موجود تھے ۔