ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مہاراشٹر کی سیاست میں نئی لفظی جنگ، کانگریس نے شندے کے اقدام کو ’آپریشن کیچڑ‘ قرار دیا

مہاراشٹر کی سیاست میں نئی لفظی جنگ، کانگریس نے شندے کے اقدام کو ’آپریشن کیچڑ‘ قرار دیا

Mon, 22 Jun 2026 18:17:54    S O News

نئی دہلی ،  22/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو توڑنے کے لیے چلائے گئے ’آپریشن ٹائیگر‘ کے حوالے سے کانگریس نے بی جے پی کو جم کر نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے بی جے پی کے ’آپریشن لوٹس‘ کی حکمت عملی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اسے ’آپریشن کیچڑ‘ بتاتے ہوئے کہا کہ جہاں ’کمل‘ نہیں کھل پا رہا ہے وہاں بی جے پی کیچڑ پھیلا رہی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے بی جے پی کی ’آپریشن ٹائیگر‘ اور ’کانگریس مکت بھارت‘ مہم کا ذکر کرتے ہوئے تنقید کی اور اس ڈکیتی کے پیچھے کارفرما نیت پر سوال اٹھائے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ادھو ٹھاکرے کے 6 اراکین پارلیمنٹ نے پارٹی سے الگ گروپ بنا کر اعلان کیا ہے کہ وہ ایکناتھ شندے کے ساتھ جائیں گے۔ انہوں نے اس سلسلے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بھی ملاقات کی تھی۔ پون کھیڑا نے اس پر طنز کستے ہوئے اس کارروائی کو ’آپریشن کیچڑ‘ سے تعبیر کیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ کیچڑ مہم ہے کیونکہ ان انتخابی حلقوں میں ’کمل‘ کھل نہیں سکا، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ 240 سیٹیں جیتنے پر انہیں اتنی تکلیف کیوں ہوئی، جبکہ 400 سیٹیں بھی مل سکتی تھیں؟ اب وہ ٹی ایم سی اور شیو سینا جیسی دوسری پارٹیوں کے ممبران اسمبلی چرانے میں کیوں لگے ہوئے ہیں؟ ان کا ارادہ کیا ہے؟ کیا ان کا ارادہ واقعی میں آئین بدلنا ہے؟ اس ڈکیتی کے پیچھے کیا مقصد ہے؟

قابل ذکر ہے کہ ایکناتھ شندے کی طرف سے ادھو ٹھاکرے کو یہ دوسرا جھٹکا ہے۔ شندے، جو کبھی ٹھاکرے کے قریبی تھے، اب ’اصلی‘ شیوسینا کے سربراہ ہیں۔ حال ہی میں وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی کہا تھا کہ مہاراشٹر میں صرف ایک ہی شیوسینا ہے اور اس کے سربراہ ایکناتھ شندے ہیں۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں ادھو سے پہلے بنگال میں ممتا بنرجی کو جھٹکا لگا تھا۔ ٹی ایم سی کو بی جے پی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اس کے 20 ممبران پارلیمنٹ نے کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں الگ گروپ بنا کر تریپورہ کی ایک پارٹی این سی پی آئی (جو این ڈی اے کا حصہ ہے) میں خود کو ضم کر لیا۔ اس کے علاوہ بنگال میں ٹی ایم سی کے ممبران اسمبلی نے بھی الگ گروپ بنا لیا اور اپوزیشن لیڈر بھی منتخب کر لیا۔


Share: