لکھنؤ، 22/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) پیر کو لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں ایک تجارتی عمارت میں واقع اینیمیشن سینٹر میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں 14 طلبہ جاں بحق ہو گئے۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس المناک خبر کی تصدیق کی۔ ریسکیو آپریشن کی نگرانی کیلئے موقع پر پہنچنے والے پاٹھک نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ انہوں نے عمارت سے۱۴؍ لاشیں نکالتے ہوئے دیکھی ہیں۔ آگ لگنے کے اس واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی(KGMU) کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ تین منزلہ تجارتی عمارت تھی جس میں ایک پالتو جانوروں کی دکان بھی موجود تھی۔
برجیش پاٹھک نے بعد میں کہا، ’’اس حادثے میں 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ چار زخمیوں کو کے جی ایم یو ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا ہے۔ اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ہماری اولین ترجیح زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ آگ لگنے کی اصل وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ‘‘آگ پر قابو پانے کیلئے۱۴؍ فائر بریگیڈ گاڑیاں، جن میں ایک ہائیڈرولک پلیٹ فارم گاڑی بھی شامل تھی، تعینات کی گئیں۔ آگ لگنے کی اطلاع دوپہر تقریباً3بجے علی گنج کے اُشا مہتا مارگ پر واقع عمارت سے موصول ہوئی تھی۔ نائب وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ مزید کوئی بچہ عمارت میں پھنسے ہونے کا امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ (PMNRF) سے ہر متوفی کے لواحقین کیلئے2لاکھ روپے اور ہر زخمی کیلئے 50ہزار روپے امداد کا اعلان بھی کیا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، جو اس وقت علی گڑھ کے دورے پر تھے، نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر لکھنؤ واپسی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے علی گڑھ اور ہاتھرس کے اپنے باقی دورے منسوخ کر دیئے اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ) سنجے پرساد اور ڈی جی پی راجیو کرشنا کو جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی اور ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔
علی گنج کے پورانیا علاقے میں واقع اینیمیشن سینٹر میں لگنے والی اس ہولناک آگ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ آگ تیزی سے پھیلنے کے باعث متعدد افراد اندر پھنس گئے تھے۔ فائر بریگیڈ، ایس ڈی آر ایف، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ نکالنے کی کوشش کی۔ واقعے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی دل دہلا دینے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کچھ افراد جان بچانے کیلئے عمارت کی پہلی منزل سے چھلانگ لگانے پر مجبور ہو گئے، جبکہ عمارت دھوئیں اور شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ وہ لکھنؤ واپس پہنچ کر ذاتی طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کریں گے اور جاں بحق طلبہ کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت کریں گے۔