ممبئی ، 24/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)ایک طرف کانگریس ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے، اور دوسری طرف ہر کچھ دن میں پیپر لیک کا ایک نیا معاملہ سامنے آ جاتا ہے۔ پیپر لیک کا تازہ معاملہ مہاراشٹر کے پربھنی میں سامنے آیا ہے۔ ریاست میں نیٹ اور ٹیٹ کے بعد اب نرسنگ امتحان کا پیپر لیک ہو گیا ہے۔ پربھنی کے اندرا گاندھی اے این ایم نرسنگ اسکول میں امتحان کے دوران سپروائزر نے سوالنامہ کی تصویریں کھینچ کر واٹس ایپ پر بھیج دیں۔ اس معاملہ میں 5 لوگوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے، اور 5 ملزمین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 20 اگست کو جی این ایم فرسٹ ایئر کے امتحان کے دوران سپروائزر راکھی چوہان نے امتحان شروع ہونے کے فوراً بعد سوالنامہ کی تصویریں کھینچیں اور اپنی بہن رانی چوہان کو واٹس ایپ پر بھیجیں۔ سنٹڑ سپروائزر وشوجیت مٹھ پتی کو سوالنامہ باہر جانے کا شبہ ہوا۔ موبائل کی جانچ میں تصویریں ملنے کے بعد انھوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔
بتایا جا رہا ہے کہ نانل پیٹھ پولیس نے راکھی چوہان، رانی چوہان، پرتیکشا کرن کھلارے، ایشور بارابوئینا اور دلیپ بورکر کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ ملزمین کے موبائل ضبط کر ان کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس یہ پتہ لگا رہی ہے کہ سوالنامہ کی تصویریں مزید کتنے لوگوں کو بھیجی گئیں، سوشل میڈیا پر اس کی رسائی کہاں تک ہوئی اور کیا اس معاملے میں کسی طرح کا مالی لین دین بھی ہوا ہے۔ اس معاملے میں کسی بڑے ریکیٹ کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس پیپر لیک واقعہ کے باوجود امتحان بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ تصویر کا پتہ چلتے ہی افسران کو فوراً مطلع کر دیا گیا۔ مٹھ پتی کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے مہاراشٹر امتحان ایکٹ کے التزامات کے تحت 5 ملزمین کے خلاف معاملہ درج کیا ہے اور تحقیقاتی افسران اب سوالنامہ شیئر کرنے کے پیچھے موجود اسباب کا پتہ لگا رہے ہیں۔ یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ کیا اس پیپر لیک کو انجام دینے میں دیگر لوگ بھی شامل تھے۔