کلبرگی 28/جولائی (ایس او نیوز): کرناٹک کے ضلع کلبرگی کے تعلقہ میں واقع جمبگا (بی) گاؤں میں ایک پراسرار واقعے نے کسانوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ مقامی کسان اُمیش جمعدار کی گیر نسل کی گائے پر رات کے وقت کسی نامعلوم جانور نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں گائے کے دونوں کان بری طرح کٹے ہوئے پائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حملہ آور جانور کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی، جس کے باعث گاؤں میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد گائے زندہ تھی، تاہم اس کے دونوں کان شدید زخمی حالت میں تھے۔
اطلاعات کے مطابق گائے کو رات کے وقت کھیت میں باندھا گیا تھا۔ آدھی رات کے قریب گائے کی زور زور سے آوازیں سن کر قریبی کسان موقع پر پہنچے اور مالک اُمیش جمعدار کو اطلاع دی۔ جب وہ جائے وقوع پر پہنچے تو دیکھا کہ گائے کے دونوں کان کٹے ہوئے ہیں اور اردگرد خون کے نشانات موجود ہیں، لیکن حملہ آور جانور کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر یہ کسی جنگلی جانور کا حملہ ہوتا تو جسم کے دیگر حصوں پر بھی زخم ہونے چاہییں تھے، مگر صرف کانوں کو نشانہ بنایا جانا اس واقعے کو مزید پراسرار بنا رہا ہے۔
دیہاتیوں نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ تقریباً پندرہ روز قبل اسی گاؤں کے قریب ایک اور گائے کے ساتھ بھی اسی طرز کا واقعہ پیش آیا تھا، جہاں اس کے کان زخمی حالت میں ملے تھے۔ مسلسل دو واقعات کے بعد کسان اپنے مویشی رات کے وقت کھلے میدان یا کھیتوں میں باندھنے سے خوفزدہ ہیں اور ان میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
کسانوں نے محکمہ جنگلات اور محکمہ مویشی پروری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ماہرین کی ٹیم موقع پر روانہ کریں، زخموں کا سائنسی معائنہ کریں، کیمرہ ٹریپ نصب کریں اور یہ معلوم کریں کہ آیا یہ حملہ آخر کس نے کیا۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اصل حقیقت سامنے آنے تک علاقے میں خوف کی فضا برقرار رہے گی اور مویشیوں کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ بنا رہے گا۔