ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے 13 اہم منصوبوں پر مرکز سے فوری منظوری کا مطالبہ، ڈی کے شیوکمار نے ارکانِ پارلیمنٹ سے اتحاد کی اپیل

کرناٹک کے 13 اہم منصوبوں پر مرکز سے فوری منظوری کا مطالبہ، ڈی کے شیوکمار نے ارکانِ پارلیمنٹ سے اتحاد کی اپیل

Tue, 28 Jul 2026 11:49:07    S O News
کرناٹک کے 13 اہم منصوبوں پر مرکز سے فوری منظوری کا مطالبہ، ڈی کے شیوکمار نے ارکانِ پارلیمنٹ سے اتحاد کی اپیل

بنگلورو ، 28/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی صدارت میں پیر کے روز کرناٹک بھون، نئی دہلی میں ریاست کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مرکز کے پاس زیرِ التوا ریاست کے 13 اہم منصوبوں، مالی امداد اور مختلف ترقیاتی تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ نے تمام جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کرناٹک کے مفاد میں متحد ہو کر مرکزی حکومت سے ان منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کے اجراء کے لیے مؤثر نمائندگی کریں۔

اجلاس میں خاص طور پر 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت گرام پنچایتوں کے لیے منظور شدہ ₹2,186.20 کروڑ کی گرانٹ فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ریاستی حکومت نے بتایا کہ متعدد خطوط اور یاد دہانیوں کے باوجود یہ رقم اب تک جاری نہیں کی گئی ہے۔

اجلاس میں بنگلورو سیٹلائٹ ٹاؤن رنگ روڈ (STRR) منصوبے کی منظوری میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ تقریباً 288 کلومیٹر طویل اس منصوبے کے لیے ریاستی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر چکی ہے، تاہم ₹9,613 کروڑ مالیت کے باقی کاموں کے لیے مرکزی کابینہ کی منظوری ابھی تک نہیں ملی۔

اسی طرح بنگلورو مضافاتی ریل منصوبہ، جس کی مجموعی لاگت ₹23,343 کروڑ ہے، کے لیے 153 ریل کوچوں کی خریداری اور دیگر مراحل کی منظوری جلد فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔

اجلاس میں کولار ریلوے کوچ فیکٹری منصوبہ بھی زیرِ بحث آیا۔ اگرچہ ریاستی حکومت زمین فراہم کر چکی ہے اور منصوبے کو برسوں قبل منظوری مل چکی تھی، لیکن اس پر اب تک عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

وزیرِ اعلیٰ نے ایچ اے ایل ہوائی اڈے کو دوبارہ تجارتی پروازوں کے لیے کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سے بنگلورو کی فضائی آمدورفت پر بڑھتا ہوا دباؤ کم ہوگا۔

اجلاس میں ساگرمالا 2.0 منصوبے کے تحت ₹16,561 کروڑ مالیت کے 176 ترقیاتی منصوبوں کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا گیا، جن سے ساحلی بنیادی ڈھانچے، بندرگاہی رابطوں، ماہی گیری اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔

اسی طرح رائچور میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کے قیام کی تجویز کو جلد منظوری دینے کی اپیل کی گئی تاکہ شمالی کرناٹک میں صحت کی سہولیات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اجلاس میں ناریل اور سپاری کی فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے تدارک کے لیے ₹1,438.59 کروڑ سے زائد مالی امداد فراہم کرنے کی بھی مرکزی حکومت سے درخواست کی گئی۔

اس کے علاوہ کدرے مکھ قومی پارک سے متاثرہ خاندانوں کی باز آبادکاری، دفاعی محکمے کی زمین ریاست کو منتقل کرنے، بنگلورو–ممبئی تیز رفتار ریلوے راہداری، پولیس کی جدیدکاری کے منصوبوں اور ریاست کے متعدد زیرِ التوا بلوں کی منظوری جیسے معاملات بھی اجلاس میں پیش کیے گئے۔

وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاست کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور عوامی فلاح سے وابستہ ان تمام منصوبوں پر فوری پیش رفت کے لیے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کو مشترکہ طور پر مرکزی حکومت پر مؤثر انداز میں زور دینا چاہیے تاکہ کرناٹک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


Share: