بھٹکل 29 / نومبر (ایس او نیوز) کچھ عرصے سے خبر گرم تھی کہ اُترکنڑا کے گوکرن کو پٹن پنچایت کا درجہ ملے گا، لیکن تعجب خیز طور پر اچانک بھٹکل تعلقہ کے مرڈیشور گرام پنچایت کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور ماولّی اور ماولّی 1 گرام پنچایتوں کو ملا کر اب مرڈیشور پٹن پنچایت میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ اسی کے ساتھ اتر کنڑا میں شہری سطح کے بلدی اداروں کی تعداد بڑھ کر 13 ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے ایک ہی گرام پنچایت کو انتظامی سہولت کے لئے تقسیم کرکے ماولّی اور ماولّی 1 گرام پنچایت بنائی گئی تھی ۔ اب 17 اراکین والی ماولّی گرام پنچایت اور27 اراکین پرمشتمل ماولّی 1 گرام پنچایت کو پٹن پنچایت کا درجہ دیا گیا ہے۔
بھٹکل تعلقہ کے شیرالی کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت 35 اراکین والی شیرالی گرام پنچایت کو پٹن پنچایت کا درجہ دیا جانا چاہیے تھا۔ اس تعلق سے عوام کی طرف سے مطالبہ ہو رہا تھا ۔ لیکن ایک طرف جالی پٹن پنچایت کو شامل کرکے بھٹکل سٹی میونسپل کاونسل تشکیل دی جا رہی ہے تو دوسری طرف مرڈیشور کو پٹن پنچایت کا درجہ دیا گیا ہے۔ اب درمیان میں صرف شیرالی گرام پنچایت معلق ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ آئندہ کچھ برسوں تک شیرالی گرام پنچایت کو پٹن پنچایت میں تبدیل کرنے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے ۔
اسی طرح ضلع کے جوئیڈا کو بھی تعلقہ کا مرکز ہونے کے باوجود ابھی تک پٹن پنچایت کے درجے پر پہنچنے کا موقع نہیں ملا ہے ۔ یہ جنگلاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں ٹورازم کو فروغ دینے کے لئے وافر موقع موجود ہیں، لیکن آبادی کے لحاظ سے بلدی اداروں کی دوڑ میں یہ علاقہ پیچھے رہ جاتا ہے ۔
اتر کنڑا کے میونسپل ادارے : ضلع اتر کنڑا میں اس وقت کاروار، سرسی اور ڈانڈیلی سٹی میونسپل کاونسل کے درجے پر ہیں۔ اب بھٹکل ٹی ایم سی اور جالی پٹن پنچایت کو شامل کرکے سی ایم سی بنا دیا گیا ہے۔ اس طرح سی ایم سی کی تعداد چار ہوگئی۔ ہلیال، انکولہ، کمٹہ ٹی ایم سی کے درجے پر ہیں جبکہ سداپور، یلاپور، منڈگوڈ، ہوناور اور منکی پٹن پنچایت کے درجے میں شامل ہیں۔ اور اب پٹن پنچایت کی اس فہرست میں نیا نام مرڈیشور کا شامل ہو گیا ہے۔