ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناور میں شراوتی پمپ اسٹوریج پاور پروجیکٹ کے خلاف زبردست احتجاج؛ "شراوتی بچاؤ، پروجیکٹ ہٹاؤ" کے نعرے

ہوناور میں شراوتی پمپ اسٹوریج پاور پروجیکٹ کے خلاف زبردست احتجاج؛ "شراوتی بچاؤ، پروجیکٹ ہٹاؤ" کے نعرے

Sat, 02 Aug 2025 00:32:22    S O News
ہوناور میں شراوتی پمپ اسٹوریج پاور پروجیکٹ کے خلاف زبردست احتجاج؛ "شراوتی بچاؤ، پروجیکٹ ہٹاؤ" کے نعرے

ہوناور، یکم اگست (ایس او نیوز) : ریاستی حکومت کی جانب سے شمالی کنڑا اور شیموگہ اضلاع کی سرحد پر واقع شراوتی سنگلّیق محفوظ جنگلاتی علاقے کے وسط میں شراوتی پمپ اسٹوریج زیرِ زمین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو نافذ کرنے کی تجویز کے خلاف ہوناور میں مختلف تنظیموں نے ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالا۔ یہ مارچ شراوتی سرکل سے شروع ہو کر تحصیلدار دفتر تک پہنچا، جہاں مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ماحول دشمن منصوبے کو فوری طور پر ترک کر دے۔

احتجاج کے دوران کارکن اور ماحولیاتی جہدکار اکھلیش چپلی (ساگر) نے کہا کہ شراوتی ندی پر پہلے ہی چھ ڈیم تعمیر کیے جا چکے ہیں، جن کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو بے دخل کیا گیا، مگر آج تک انہیں بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کی گئیں۔ اب حکومت "شراوتی پمپ اسٹوریج انڈر گراؤنڈ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ" کے نام پر اس علاقے کے قدرتی ماحول کو مزید تباہ کرنے جا رہی ہے، جس کی ہم سخت مخالفت کرتے ہیں۔

بی جے پی کے رکن اسمبلی دنکر شیٹی نے بھی احتجاج میں شامل ہوکر حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں ایکڑ جنگلاتی زمین کو ختم کرنے والا یہ منصوبہ ضلع کے لیے تباہ کن ہے۔ انہوں نے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ "ہمارا ضلع پُرامن کہلاتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام آفات ہم ہی جھیلیں۔ بیڈتی، کائیگا اور سی برڈ جیسے پروجیکٹوں کا درد ضلع کے عوام نے جھیلا ہے۔ اور ان منصوبوں سے ضلع کے عوام کو ہمیشہ نقصان ہی پہنچا ہے، عوام سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں  اب مزید کچھ کھونے کو باقی نہیں بچا ہے۔ آج جو نیا منصوبہ لایا گیا ہے، اس سے بھی عوام کا کوئی فائدہ  ہونے والا نہیں ہے، ہماری صرف زمینیں لے جائی جا رہی ہیں اور ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری برداشت کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔" انہوں نے اسسنٹ کمشنر اور تحصیلدار کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ شراوتی پمپ اسٹوریج سے متعلق ہونے والے اجلاس کو منسوخ کیا جائے اور اپنے اعلیٰ افسران کو ہماری مخالفت  کے تعلق سے خبر کی جائے، ورنہ وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں یہاں آپ کی ضرورت نہیں ہے۔

سابق رکن اسمبلی سنیل نائک نے کہا کہ شراوتی پمپ اسٹوریج پروجیکٹ کا المیہ یہ ہے کہ یہ پروجیکٹ کسی کی بھی توجہ میں لائے بغیر خاموشی سے عمل میں لایا  جارہا ہے۔ حکومت ایسا کام کر رہی ہے جس سے انسانیت کو خطرہ ہے۔ جو بجلی ہمیں میسر ہے ہم اسی بجلی کے سہارے جیتے آئے ہیں، اور آئندہ بھی جیتے رہیں گے۔ انہوں نے  حکومت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے کو روکنے کے لیےفوری اقدام  کرے۔ آگے کہا کہ اس منصوبے کی تعمیر کے لیے جو بھی ورکرز اور انجینئرس انے والے ہیں، ہمیں ان کو بھگانے کا کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کے لئے ہمیں جیل بھی جانا پڑے تو ہم  ہم  جیل جانے کے لئے بھی تیار ہیں۔

منکی بلاک کانگریس صدر گووند نائک نے کہا: "ایسا عوام دشمن منصوبہ کوئی بھی پارٹی لائے، اس کی مخالفت کی جائے گی۔ چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، مخالفت ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ  یہ منصوبہ 2007 میں لایا گیا تھا، میں اس کا ثبوت دے سکتا ہوں۔ اس کے بعد کئی حکومتیں آئیں، لیکن کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ لیکن اب ہمیں پارٹی سے بالاتر ہو کر اس کے خلاف لڑنا ہوگا۔"

جے ڈی ایس رہنما سورج نائک سونی نے مطالبہ کیا کہ شراوتی کے اطراف کے علاقوں میں بیداری مہم چلائی جائے تاکہ عوام اس منصوبے کے نقصانات کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے خلاف ضلع بھر میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں سے جنگلاتی زمین پر رہنے سے روکا جارہا ہے اوراتی کرم کے نام پر لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ مگر اس طرح کے پروجکٹ کے لئے یہیں کی زمین دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضلع نے بہت کچھ قربان کیا ہے، مگر اب خاموش نہیں رہیں گے اور اس منصوبے کی سخت مخالفت کی جا ئے گی۔"

احتجاجی مظاہرے میں بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی ایس کے متعدد سرکردہ رہنما شامل تھے، احتجاجیوں سے سابق وزیر شیوانند نائک، گووند نائک بھٹکل، پی ایس بھٹ اپنی، جی جی شنکر، جی این گوڈا، چندرکانت کوچریکّر، کرناٹک رکھشنا ویدیکے (KRV) صدر منجوناتھ نے بھی خطاب کیا۔ ساگر کے اکھلیش فکشی نے منصوبے کے ممکنہ منفی اثرات کی تفصیلات پیش کیں۔

سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے شراوتی سرکل سے جلوس نکال کر تحصیلدار دفتر تک مارچ کیا اور منصوبے کے خلاف نعرے لگائے ۔ "شراوتی بچاو؛ منصوبے کو منسوخ کرو" کی  نعرے بازی کرتے ہوئے جب مظاہرین تحصیلدار دفتر پہنچے تو افسران کی عدم موجودگی پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ مظاہرین نے اسسٹنٹ کمشنر کو فوری جائے وقوع پر پہنچنے اور نہ پہنچنے کی صورت میں  دفتر میں زبردستی داخل ہونے کی دھمکی دی، جس پر پہلے تحصیلدار پہنچے اورکچھ دیر بعد  اسسٹنٹ کمشنر بھی موقع پر پہنچ گئی۔

بھٹکل سب ڈیویزن کی انچارج اسسٹنٹ کمشنر کاویارانی نے میمورنڈم قبول کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے آج کے احتجاج کے تعلق سے اعلیٰ افسران کو باخبر کروں گی ، اور اجلاس میں آپ کے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ پیش کروں گی۔" ان کی یقین دہانی کے بعد احتجاجی مظاہرہ اختتام کو پہنچا۔


Share: