بھٹکل، 11 / اگست (ایس او نیوز) تعلقہ کے الوے کوڑی سمندر میں 30 جولائی کو تیز لہروں کی وجہ سے کشتی الٹ جانے سے مچھلیوں کے شکار پر نکلے ہوئے چھ ماہی گیر غرقاب ہوئے تھے ۔ ان میں سے دو ماہی گیروں کو مقامی چھیروں نے بچا لیا تھا ، لیکن چار مچھیرے پانی کے تیز بہاو میں لاپتہ ہوگئے تھے ۔
اس کے بعد لاپتہ ہوئے چار مچھیروں میں سے دو افراد کی لاشیں بازیافت ہوئی تھیں، مگر بقیہ دو ماہی گیروںکا تا حال کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے ۔
آج ضلع انچارج اور وزیر ماہی گیری و بندرگاہ منکال وئیدیا نے جالی کے رہائشی رام کرشنا موگیر، الوے کوڑی کے گنیش موگیر اور سمندر میں لاپتہ ہونے والے سنباوی کے رہائشی ستیش موگیر اور مرڈیشور کے نشیت موگیر کے گھروں تک جا کر متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا اور پانی میں ڈوب کر فوت ہونے والے دو مچھیروں کے اہل خانہ کو فی کس دس لاکھ روپے سرکاری معاوضے کا چیک دیا ۔
اسی کے ساتھ سمندری موجوں میں لاپتہ ہونے والے دو ماہی گیروں کے اہل خانہ سے شرائط نامہ (انڈیمنٹی بانڈ) لیتے ہوئے فی کس دس لاکھ روپے سرکاری معاوضہ ادا کیا ۔ حادثہ شکار ہوئی ماہی گیر کشتی کے نقصان کی بھرپائی کے لئے کشتی کے مالک کو ساڑھے چار لاکھ روپے سرکاری معاوضہ کا چیک دیا گیا ۔
اس پس منظر میں وزیر موصوف نے کہا اس سے پہلے کبھی کسی حکومت نے سمندر میں لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں کو فشیریز ڈیساسٹر ریلیف فنڈ سے معاوضہ ادا کرنے اور متاثرہ خاندانوں کے آنسو پونچھنے کا کام نہیں کیا تھا ۔ مگر اب وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوا کمار کی قیادت والی حکومت نے لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں کے اہل خانہ کو بھی معاوضہ ادا کرنے کا کام کیا ہے ۔ ہماری حکومت، محکمہ ماہی گیری اور میں خود ہمیشہ ماہی گیروں کی پشت پناہی کے لئے حاضر رہتے ہوئے ہم ان کے خاندانوں کو تحفظ فراہم کریں گے ۔
اس موقع پر محکمہ ماہی گیری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور مقامی ماہی گیروں کے لیڈروں کے علاوہ کانگریس پارٹی کے کارکنان موجود تھے ۔
