منگلورو، 8 / دسمبر (ایس او نیوز) شہر سے باہر کولائی میں اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی تجویز کے مطابق 1,500 سے زائد لاریوں کو پارک کرنے کی سہولت والا ٹرک ٹرمینل تعمیر کرنے کا منصوبہ 22 سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرک ڈرائیوروں کے لئے آسانی اور سہولت ملنے کا یہ خواب ادھورا ہی رہ جائے گا ۔
تجارتی اور صنعتی مرکز کے طور پر ترقی کرتے ہوئے منگلورو شہر میں نیو منگلورو پورٹ، او این جی سی، ایم آر پی ایل، ایس ای زیڈ، بیکمپاڈی، اییّاڈی انڈسٹریل اسٹیٹس وغیرہ موجود ہیں ۔ ریاست کے مختلف مقامات کے لئے یہاں سے پیٹرولیم پروڈکٹس اور گیس کی سربراہی ہوتی ہے ۔ اسی طرح ریاست اور ملک کے مختلف شہروں سے منگلورو شہر کے لئے گوڈس سپلائی کا سلسلہ بھی لگاتار جاری رہتا ہے ۔
جو ٹرکس اور کنٹینرز دوسرے مقامات سے منگلورو کے لئے سامان لاتے ہیں، وہ مال خالی کرنے کے بعد یہاں سے لے جانی والی چیزوں کو لادنے کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ لاریوں اور ٹینکروں کے لئے ضروری ایندھن بھرنے کے لئے بھی وقت درکار ہوتا ہے ۔ ان حالات میں ٹرکوں اور لاریوں کو کسی ایک مقام پر پارک کرنا لازمی ہو جاتا ہے ۔ بعض دفعہ خالی گاڑیوں کو چار پانچ دن تک یوں پارک کرکے رکھنا پڑتا ہے اور شہر کے اندر یا باہر کوئی مناسب جگہ اس مقصد کے لئے مختص نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے شہر کے رستوں اور گلیوں کے کنارے قطار در قطار ان گاڑیوں کو پارک کیا جاتا ہے ۔ اس سے ایک طرف ٹریفک کے لئے بڑا خلل پیدا ہوتا ہے تو دوسری طرف سڑک حادثات کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ لہذا ان گاڑیوں کو پارک کرنے کے لئے ایک وسیع اور جدید ٹرک ٹرمینل کی اشد ضرورت ہے ۔
حالانکہ نیو منگلورو پورٹ یارڈ میں دو ٹرک ٹرمینلس موجود ہیں، لیکن وہ اس کمپنی کے لئے مختص ہیں ۔ اس لئے سال 2003 میں منگلورو دوسرے باہری علاقے میں نیا ٹرک ٹرمینل تعمیر کرنے کا خاکہ بنایا گیا تھا اور منگلورو اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی طرف سے کولائی میں 35 ایکڑ کے احاطے میں 14 کروڑ روپوں کی لاگت سے ٹرمینل تعمیر کرنے کی تجویز ریاستی حکومت کو بھیجی گئی تھی ۔ لیکن آج تک اس منصوبے پر کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا اور یہ منصوبہ یوں ہی ٹھنڈے بستے میں پڑا ہوا ہے ۔