ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو : سپریم کورٹ جسٹس پر جوتا اچھالنے کا معاملہ : وکیل راکیش کشور کے خلاف احتجاجی مظاہرے - شروع ہوئی توہین عدالت کی کارروائی

منگلورو : سپریم کورٹ جسٹس پر جوتا اچھالنے کا معاملہ : وکیل راکیش کشور کے خلاف احتجاجی مظاہرے - شروع ہوئی توہین عدالت کی کارروائی

Thu, 09 Oct 2025 17:26:53    S O News
منگلورو : سپریم کورٹ  جسٹس پر جوتا اچھالنے کا معاملہ : وکیل راکیش کشور کے خلاف احتجاجی مظاہرے - شروع ہوئی توہین عدالت کی کارروائی

منگلورو،  9 / اکتوبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)  بی آر گوائی پر راکیش کشور نامی وکیل کی جانب سے جوتا اچھالنے کی خلاف ایک طرف منگلورو اور اڈپی  سمیت ریاست کے مختلف مقامات پر وکیلوں کی انجمنوں اور عوامی اداروں کی طرف سے مذمت اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، تو دوسری طرف نئی دہلی میں راکیش کشور کے خلاف توہین عدالت کی فوجداری کارروائی شروع کی گئی ہے۔
    
معلوم ہوا ہے کہ اس تعلق سے تفتیش شروع کرنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو باضابطہ مراسلہ بھیجا گیا ہے ۔ جبکہ راکیش کشور کو جوتا پھینکنے کی کوشش کے دوران سیکیوریٹی اہلکار کی طرف سے روکے جانے کے بعد بار کاونسل آف انڈیا نے معطل کر دیا ہے ۔
    
خیال رہے کہ سی جے آئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کے تعلق سے کسی پچھتاوے کا اظہار کیے بغیر وکیل راکیش کشور نے میڈیا سے کہا ہے کہ یہ حرکت "غصے کے تحت نہیں کی گئی تھی بلکہ یہ جذبات مجروح ہونے کی وجہ سے درد کا اظہار تھا ۔ ہندووں کے مذہبی معاملات میں عدالت کی دخل اندازی کی وجہ سے میرا دل دکھ سے بھر گیا تھا ۔"
    
یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ :بینگلورو میں ہائی کورٹ کے وکیلوں اور ترقی پسند جہد کاروں نے راکیش کشور کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق یو اے پی اے قانون کے تحت ملزم راکیش کشور کے خلاف معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ہائی کورٹ کے سامنے  منعقدہ  اس احتجاجی مظاہرے میں خطاب کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ایس بالن نے کہا کہ یہ جمہویت اور ملک کے عدالتی نظام پر کیا گیا انتہائی قابل مذمت حملہ ہے ۔ ناتھو رام گوڈسے جیسی قاتلانہ ذہنیت رکھنے والی نسل کے لوگ ہی ایسی حرکت کر سکتے ہیں ۔

درج کی گئی پہلی ایف آئی آر :سی جے آئی پر جوتا پھینکننے کی کوشش کا معاملہ سامنے آنے کے بعد بینگلورو کے ودھان سودھا پولیس اسٹیشن میں راکیش کشور کے خلاف پہلی ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ ایڈوکیٹ بھکت وسل کی طرف سے درج کی گئی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے بی این ایس کی دفعہ 132 اور 133 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے ۔

پولیس نے بتایا کہ یہ واردات  چونکہ دہلی میں پیش آئی تھی اس لئے اسے بینگلورو میں 'زیرو ایف آئی آر' کے طور پر درج کیا گیا ہے ۔ اب اس ایف آئی آر کو بینگلورو کے ودھان سودھا پولیس اسٹیشن سے دہلی کے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو بھیجا جائے گا جس کے دائرہ کار میں یہ معاملہ پیش آیا تھا ۔

منگلورو میں احتجاجی مظاہرہ:سپریم کورٹ میں سی جے آئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کے خلاف مذمت کرتے ہوئے وکیلوں، کسانوں اور مزدوروں کی تنظیموں سمیت کئی سماجی اداروں نے مشترکہ طور پر شہر کے کلاک ٹاور کے پاس مشترکہ احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا ۔ وکیلوں کی آل انڈیا انجمن کے ضلع صدر یشونت مرولی نے کہا کہ یہ کوئی اچانک کی گئی حرکت نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم ذہنیت کام کر رہی ہے ۔ جوتا پھینکنے کی کوشش کرنے والا یہ شخص دائیں بازو کے نظریات اور تنظیموں کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ اس واقعے کا تعلق آر ایس ایس کے سو سال پورے ہونے کے لئے  منعقد کیے جا رہے پروگرام اور جاری ہونے والے بیانات، نریندرا مودی کی قیادت والی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے سکے اور ڈاک ٹکٹ سے ملنے والے پیغامات سے جڑا ہے ۔
    
اس موقع پر دلت لیڈرایم دیوداس، اے آئی ٹی یو ایس لیڈر بی شیکھر، سماجی لیڈر واسو دیو اوچیلا، آدی واسی حقوق کی ہوراٹا سمیتی کے لیڈر شیکھر وامنجور، ڈی وائی ایف آئی لیڈر بی کے امتیاز وغیرہ نے مظاہرین سے خطاب کیا اور سپریم کورٹ میں پیش آئے ہوئے اس معاملے کی سختی کے ساتھ مذمت کرتے ہوئے اسے دائیں بازو کے نظریات اور سناتنی سوچ کا نتیجہ قرار دیا ۔ 
    
اڈپی وکیلوں کی طرف سے مذمت :سپریم  کورٹ میں پیش آئے ہوئے واقعے کے بعد اڈپی میں بار کاونسل کی فوری میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سی جی آئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کو عدالتی وقار مجروح کرنے والی حرکت اور ملک کی جمہوریت اور عدالتی نظام پر حملہ قرار دیتے ہوئے سختی کے ساتھ مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو کڑی سزا دی جائے اور عدالت کا وقار بحال کیا جائے ۔  
    
ادھر دلت سنگھرش سمیتی اور دیگر ہم خیال تنظیموں کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ سی جے آئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کرنے والا راکیش کشور کے خلاف یو اے پی آئی قانون کے تحت کیس درج کرکے ملزم کی گرفتاری کے مطالبہ کے ساتھ   جمعہ  10 اکتوبر کو شام پانچ بجے اجرکاڈو وار میموریل کے پاس ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جائے گا ۔ 
    
اپنے بیان کے لئے بی جے پی لیڈر نے معافی مانگی :سپریم کورٹ میں راکیش کشور کی طرف سے کی گئی چیف جسٹس پر جوتا پھینکنے کی مجرمانہ حرکت کی حمایت اور ستائش کرنے والے کرناٹکا کے بی جے پی لیڈر اور سابق آئی پی ایس آفیسر بھاسکر راو نے اپنے خلاف نیٹیزنس کی طرف سے ہو رہی تنقید کے بعد معافی مانگی ہے ۔ خیال رہے کہ بھاسکر راو نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم x پر راکیش کشور کی  ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس عمر میں بھی انجام کی پروا کیے بغیر اپنا ایک موقف پیش کرنے کی آپ کی جرات کو میں سلام کرتا ہوں ۔ اس پر بھاسکر راو کے خلاف سوشیل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ بہت زیادہ تیز ہو گیا ۔ 
    
اس کے جواب میں دوسرا پیغام پوسٹ کرتے ہوئے بھاسکر راو نے کہا کہ میرا مقصد سپریم کورٹ یا چیف جسٹس آف انڈیا یا  کسی طبقے یا فرد کو دکھ پہنچانا نہیں تھا، اگر ایسا ہوا ہے تو میں معافی چاہتا ہوں ۔


Share: