کنور9/جنوری (ایس او نیوز): کیرالہ کے ضلع کنور میں تھلسیری ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سال 2008 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) [سی پی آئی (ایم)] کے کارکن کے لتیش کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں سات آر ایس ایس اور بی جے پی کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ شمالی کیرالہ کے سیاسی تشدد کے ایک سنگین اور طویل عرصے سے زیرِ سماعت معاملے کا قانونی اختتام ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق مقتول کے لتیش (28) سی پی آئی (ایم) کے سرگرم کارکن، سی آئی ٹی یو فشرمین یونین کے لیڈر اور تھیروانگاد لوکل کمیٹی کے رکن تھے۔ انہیں 31 دسمبر 2008 کو شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے تھلسیری کے چکیتھمکّو ساحل پر تلواروں اور کلہاڑیوں سے حملہ کرکے بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔
عدالت نے جن مجرموں کو قصوروار قرار دیا ان میں پی سمتھ، کے کے پراجیش بابو، بی نِدھن، کے سنال، ریجوش، سجییش اور وی جےیش شامل ہیں۔ عدالت نے تمام مجرموں پر فی کس ایک لاکھ چالیس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال کی سزا سنائی گئی ہے، جو بیک وقت نافذ ہوگی۔
عدالت اس سے قبل ملزمان نمبر ایک سے سات کو مجرم قرار دے چکی تھی، جبکہ ملزمان نمبر نو سے بارہ کو بری کر دیا گیا تھا۔ آٹھواں ملزم مقدمے کی سماعت کے دوران فوت ہو گیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے بم پھینک کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا، پھر کے لتیش کا تعاقب کیا اور تلواروں و کلہاڑیوں سے ان پر حملہ کیا۔ لتیش جان بچانے کے لیے ایک دوست کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن حملہ آوروں نے انہیں گھیر کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پی سمتھ پر پہلا وار کرنے اور پراجیش بابو پر گردن پر مہلک ضرب لگانے کا الزام ہے۔
حملے میں لتیش کے دوست اور سی پی آئی (ایم) کارکن موہن لال عرف لالو شدید زخمی ہوئے، جبکہ بم حملے میں سنتوش، سریش اور مجید بھی زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے اسپتال لے جانا پڑا۔
استغاثہ کے مطابق حملہ آور مختلف مقامات سے مسلح ہو کر آئے تھے اور منظم انداز میں واردات کو انجام دیا۔ لتیش کے زمین پر گرنے کے بعد بھی ان پر مسلسل وار کیے گئے اور فرار ہونے سے قبل مزید بم پھینکے گئے۔
مقدمے میں 64 گواہوں کی فہرست تھی، جن میں سے 30 کے بیانات عدالت میں قلمبند کیے گئے۔ یہ مقدمہ مقتول کے بھائی کے سنتوش کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔
اس فیصلے کو شمالی کیرالہ میں سیاسی تشدد کے خلاف عدالتی سطح پر ایک مضبوط اور اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔