نئی دہلی ، 24/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے خلاف لگاتار آواز اٹھا رہی ہے۔ سڑکوں پر تحریک چلانے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روزانہ اس بارے میں کئی پوسٹس ڈالی جا رہی ہیں۔ آج اتراکھنڈ میں ووٹ چوری ظاہر کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ ڈال کر کانگریس نے ایک بار پھر سیاسی گہما گہمی پیدا کر دی ہے۔ یہ سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں کس طرح ’ووٹ چوری‘ کا کھیل انجام دیا گیا ہے۔
’ایکس‘ پر جاری کردہ اپنی پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’اتراکھنڈ میں ’مودی-گیانو‘ کی ’ووٹ چوری‘ کا کھیل... کِچھا میں بی جے پی کے بی ایل اے نے ووٹر لسٹ سے نام کٹوانے کے لیے 5359 فارم-7 بھرے، جن میں بیشتر مسلم ووٹرز تھے۔‘‘ اپوزیشن پارٹی نے صرف یہ مثال ہی نہیں پیش کی، بلکہ اس کے بعد سامنے آئے اعتراضات اور پیش رفت کا بھی ذکر اس پوسٹ میں کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’ای آر او نے تھوک میں آئے ان اعتراضات کو قبول کرنے سے منع کر دیا اور کہا– میں یہ فارم منظور نہیں کر سکتا، یہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف ہیں۔ بس پھر کیا تھا... بی جے پی کے بی ایل اے نے اسے دل پر لے لیا۔ غصہ میں تمتماتے ہوئے الیکشن کمیشن میں بیٹھے اپنے آقا کو خط لکھ کر ای آر او کی شکایت کر دی۔‘‘ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’2 دن کے اندر ای آر او کے دفتر سے بی ایل اے کے پاس فون آیا اور بتایا کہ ہم نے آپ کے فارم-7 منظور کر لیے ہیں۔ یعنی الیکشن کمیشن نے ’ووٹ چوری‘ کے لیے اصولوں کو ٹھینگا دکھایا اور تھوک میں فارم-7 منظور کرنے کا حکم دے دیا۔‘‘
کانگریس کا الزام ہے کہ اس کارروائی سے کئی اہل ووٹرز کے نام کٹ گئے۔ کانگریس نے پوسٹ میں ذکر کیا ہے کہ ’’فائنل ووٹر لسٹ سے 4390 نام اڑا دیے گئے، جن میں سینکڑوں نام وہی تھے، جو بی ایل اے راجیش تیواری نے بھیجے تھے۔‘‘ ان حقائق کو پیش کرنے کے بعد کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’غدار گیانیش نے بی جے پی کو فتحیاب کرانے کے لیے پورے سسٹم کو کام پر لگا رکھا ہے۔ کسی نہ کسی طریقے سے آپ کے ووٹ چرائے جا رہے ہیں۔ لیکن ملک کی عوام سب دیکھ رہی ہے۔‘‘ آخر میں یہ بھی عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’ان ووٹ چوروں کا حساب ہوگا، کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘