کاروار 30 / جولائی (ایس او نیوز) ریاستی لیبر منسٹر سنتوش لاڈ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے لئے ہندوستان - مسلمان کو چھوڑیں تو دوسرا کوئی موضوع ہی نہیں ہے ۔ چھوت چھات اور استحصال کا شکار ہونے والے طبقات کے مسائل حل کرنے کے بارے میں کوئی بھی بات نہیں کرتا ۔
سنتوش لاڈ نے یہ بات جگدیش شٹر کے اُس بیان پر ردعمل کے طور پر کہی جس میں شٹر نے کہا ہے کہ اگر آر ایس ایس موجود نہیں ہوتی تو پھر ہندوستان کا اسلامائزیشن ہوگیا ہوتا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ لوگ بنگلہ دیشیوں کو ملک بدر کرنے کی بات کر رہے ہیں تو کیا بیرونی ممالک میں کام کر رہے ہندوستانیوں کو بھی واپس بلا لیا جائے گا؟
انہوں نے جگدیش شٹر سے سوال کیا کہ آپ پہلے وزیر اعلیٰ تھے ۔ اب رکن پارلیمان بن گئے ہیں ۔ آپ بتائیں کہ گزشتہ ستر سال میں آپ کی پارٹی نے دیش کو کیا دیا ہے ؟ نہرو اور گاندھی کو برا بھلا کہتے ہوئے اقتدار پر آنے والی بی جے پی نے گیارہ سال کے عرصے میں ہندووں کے کیا کیا ہے ؟ کتنے ہندو دیش چھوڑ کر چلے گئے ؟ کتنے لوگوں نے اپنا پاسپورٹ سرینڈر کیا ہے ؟ اس وقت 45 لاکھ طلبہ الگ الگ ممالک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ انہیں بھی واپس بلانا ہوگا ۔
ریاستی وزیر سنتوش لاڈ نے کہا کہ بی جے پی والے ایسے موضوعات پربات نہیں کرتے ۔ جب یہی لوگ کانگریس پارٹی میں ہوتے تھے تو انہوں نے ہی آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف بیانات دئے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے زمانے میں یعنی بی جے پی سے پہلے ہی ہندوستان میں 7,63,433 مندر اس دیش میں موجود تھے ۔ ان لوگوں نے ایک رام مندر تعمیر کرنے کے سوا کیا کیا ہے ؟ وہ مندر بھی مرکزی حکومت کے فنڈ سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ ہندو خطرے میں ہونے کی بات کہتے ہیں ۔ ہمارے اور آپ کے دادا پردادا بھی ہندو تھے ۔ اتنے عرصے سے ہندووں کے لئے جو خطرہ نہیں تھا اب بی جے پی کی 11 سال کی حکومت کے دوران وہ خطرہ ہندووں کے سر پر منڈلا رہا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہی لوگ جب اقتدار پر ہیں تو پھر ان کی حکومت کیا کر رہی ہے ۔ انتخابات آتے ہی ہندو خطرے میں ہونے کی بات کرتے ہیں اور چناو ختم ہوتے ہی ان کا ڈبہ بند کر دیا جاتا ہے ۔