نئی دہلی ، 4/ جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس نے مودی حکومت کے ذریعہ منریگا کو ختم کر ’جی رام جی‘ قانون لانے کے خلاف اپنی مہم کو شدت دینے کے مقصد سے ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’ہم نے ملک گیر ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کے ذریعہ 3 مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں۔‘‘ جن تین مطالبات کا ذکر کھرگے نے کیا ہے، وہ اس طرح ہیں:
وی بی-جی رام جی قانون واپس لیا جائے
منریگا کو حقوق پر مبنی قانون کے طور پر بحال کیا جائے
کام کے حق اور پنچایتوں کے حق کو بحال کیا جائے
یہ بیان کانگریس صدر کھرگے نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر کچھ اہم جانکاریاں دیتے ہوئے جاری کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’انڈین نیشنل کانگریس صاف طور پر 3 مطالبات کرتی ہے– وی بی-جی رام جی قانون واپس لیا جائے، منریگا کو حقوق پر مبنی قانون کے طور پر بحال کیا جائے، کام کے حق اور پنچایتوں کے حق کو بحال کیا جائے۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’ہم نے اپنے مطالبات کی حمایت میں ملک گیر ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ شروع کیا ہے۔ منریگا کوئی عطیہ نہیں ہے۔ یہ ایک قانونی گارنٹی ہے۔ کروڑوں سب سے غریب لوگوں کو ان کے اپنے گاؤں میں کام ملا، بھوک اور مجبوری میں ہجرت کم ہوئی، دیہی مزدوری بڑھی اور خواتین کا معاشی وقار مضبوط ہوا۔‘‘
ملکارجن کھرگے نے کانگریس کے ذریعہ ’جی رام جی‘ قانون کی مخالفت کے اسباب بھی سامنے رکھے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’وی بی-جی رام جی غریبوں کے حق کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ کانگریس اس کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ کام اب گارنٹی والا حق نہیں رہے گا، بلکہ منتخب پنچایتوں میں صرف ایک اجازت ہوگا۔ بجٹ محدود کر دیا جائے گا، اس لیے بحران کے وقت بھی پیسہ ختم ہونے پر کام بند ہو جائے گا۔ دہلی فنڈ اور کام طے کرے گی، جس سے گرام سبھائیں اور پنچایتیں بے کار ہو جائیں گی۔‘‘
سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس صدر نے ’جی رام جی‘ قانون کی مخالفت کے کئی دیگر اسباب بھی بتائے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’اس سے 60 دن کے کام کے بلیک آؤٹ سے سب سے زیادہ ضرورت کے وقت کام نہ دینے کو قانونی منظوری مل جائے گی۔ مزدوری ایک محفوظ حق ہونے کی جگہ غیر یقینی اور کم کی جا سکے گی۔ ریاستوں کو 40 فیصد فنڈ دینے کے لیے مجبور کیا جائے گا، جس سے وفاقیت کمزور ہوگی اور غریب ریاستوں کو نقصان ہوگا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اس قانون سے ٹیکنالوجی بایومیٹرک اور ایپ پر مبنی رکاوٹوں کے ذریعہ مزدوروں کو باہر کر دے گی۔ گاؤں کی ملکیتوں کی جگہ ٹھیکیدار والے طرز کے منصوبے لے لیں گے۔‘‘ آخر میں ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’منریگا پر حملہ کرنا کروڑوں مزدوروں اور ان کے آئینی حقوق پر حملہ کرنا ہے۔ ہم ہر پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک، پرامن طریقے اور مضبوطی سے اس کی مخالفت کریں گے۔‘‘