کاروار، 7 اکتوبر (ایس او نیوز) ضلع میں ایمرجنسی طبی صورتحال اور بالخصوص سڑک حادثے پیش آنے پر فوری اور کارگر علاج کے لئے درکار سوپر اسپشالٹی اسپتال کی کمی انسانی جانیں ضائع ہونے کا سبب بن رہی ہے ۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین سال میں ضلع اتر کنڑا میں پیش آئے ہوئے سڑک حادثوں کے دوران تقریباً 694 افراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔ اس پس منظر میں ضلع کے عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ کم از کم اب تو ریاستی حکومت ضلع میں سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل قائم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے ۔
حالانکہ جغرافیائی طور پر اتر کنڑا سب سے بڑے ضلع کی حیثیت رکھتا ہے مگر یہاں ایمرجنسی علاج کے لئے درکار سہولتوں سے لیس سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل نہ رہنے کی وجہ سے دوسرے اضلاع اور دور دراز مقامات پر واقع بڑے اسپتالوں کی طرف مریضوں کو لے جانا پڑتا ہے ، اور ایسے سفر کے دوران مریضوں اور متاثرین کی موت واقع ہونے کے معاملے پیش آتے ہیں ۔
حالیہ برسوں کے دوران ضلع میں پیش آنے والے سڑک حادثات اور اس کی وجہ سے ہونے والی اموات کے بارے میں محکمہ پولیس کے طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں ۔ پولیس کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سال 2023 میں 236 حادثے ہوئے جس میں 251 افراد موت کا شکار ہوئے ۔ 2024 میں 249 سڑک حادثے پیش آئے جس میں 264 لوگوں کی جان گئی ۔ 2025 میں اب تک 157 سڑک حادثے ہوئے ہیں جس میں 179 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے ۔ اس طرح گزشتہ تین برسوں میں 642 سڑک حادثات کی وجہ سے 694 افراد کی جان چلی گئی ۔
سڑک حادثات میں فوت ہونے کے علاوہ زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے ۔ 2023 میں ہونے والے 793 حادثات میں 1737 افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ 2024 میں 725 حادثے ہوئے جس میں 1622 افراد زخمی ہوئے ۔ 2025 میں اب تک 435 حادثے ہوئے ہیں جن میں 1169 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ یعنی گزشتہ تین سال کے دوران میں 1953 حادثے ہوئے جن میں تقریباً 4529 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
پولیس کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہیلمیٹ پہنے بغیر موٹر بائکس کی سواری کرنے کی وجہ سے حادثے میں فوت ہونے والوں کی تعداد گزشتہ دو برس کے دوران میں 53 ہے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 49 ہے ۔
یہ تمام اعداد و شمار ضلع میں حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کا اشارہ کرتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ہائی وے کی توسیع کے بعد موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اس کے علاوہ نامکمل توسیعی کام اور غیر سائنٹفک میں انجام دیا گیا سڑک تعمیر کا کام، یہ سب عوامل حادثات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں ۔ ایسی حالت میں ضلع کے اندر ایک سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کا قیام انتہائی ضروری ہوگیا ہے ۔
عوام کا کہنا ہے کہ سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل قائم کرنے کی بات اب انتخابی موسم کی تقریروں اور وعدوں سے آگے بڑھ کر حکومت اور منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے عملی طور پر اسے حقیقت کا روپ دینے کے لئے اقدامات کیے جائیں ۔