کاروار 31 / اکتوبر (ایس او نیوز) امسال کرناٹکا راجیہ اتسوا کے موقع پر زندگی کے مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کے حامل 70 لوگ راجیہ اتسوا ایوارڈ پانے کے اہل قرار پائے ہیں جس میں اگرچہ دکشن کنڑا اور اڈپی کو بڑی نمائندگی ملی ہے مگر تعجب خیز بات یہ ہے کہ اتر کنڑا ضلع خالی ہاتھ رہ گیا ہے ۔
یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ سیاسی عزم اور دلچسپی کی کمی کی وجہ سے یہ صورتحال دیکھنے کو ملی ہے یا پھر واقعی اتر کنڑا میں کلاکاروں، ماہر علوم و فنون اور زندگی کے شعبہ جات میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کا فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کسی کو ریاستی ایوارڈ کے لئے منتخب کرنا دشوار ہوگیا ہے ۔
ایوارڈ کے لئے مستحق افراد کو نامزد کرنے کے لئے حکومت نے کنڑا و ثقافت کے وزیر شیوراج تنگڑگی کی صدارت میں 50 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایوارڈ کے لئے درخواستیں طلب کیے بغیر ہی 70 افراد کو نامزد کیا گیا ہے ۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے خود ہی درخواستیں دی تھیں جبکہ زیادہ تر افراد کو کمیٹی کے اراکین کی طرف سے سفارش کرنے پر منتخب کیا گیا ہے ۔ کمیٹی کے صدر وزیر شیوراج کے مطابق ایوارڈ کے لئے افراد کو منتخب کرنے میں ضلع وار نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کمیٹی کی طرف سے سفارش پر نمائندگی دینے کے معاملے میں بھی آخر ضلع اتر کنڑا کے ساتھ انصاف کیوں نہیں کیا گیا ؟
امسال اتر کنڑا ضلع میں صرف سداپور تعلقہ کے یکشگانا کلاکار کو ایوارڈ کے لئے چنا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال بھی سداپور تعلقہ ہی یکشگانا کلاکار کو ایوارڈ سے نوازا گیا تھا ۔
جانکاروں کا کہنا ہے کہ یکشگانا ایک اہم شعبہ ہونے کے باوجود اتر کنڑا میں اسٹیج آرٹ، سنگیت، جیانپد، تعلیمی و سماجی خدمات جیسے بہت سارے شعبے ہیں جس میں اتر کنڑا کے افراد نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرا کیا ہے ۔ انہیں پہنچاننے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں راجیہ اتسوا ایوارڈ سے نوازنے میں کیا رکاوٹ ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔