ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: اُتر کنڑا میں کتوں کے کاٹنے کا معاملہ بے قابو - جاری سال کے دوران پیش آئے 7500 سے زائد معاملے

کاروار: اُتر کنڑا میں کتوں کے کاٹنے کا معاملہ بے قابو - جاری سال کے دوران پیش آئے 7500 سے زائد معاملے

Sun, 12 Oct 2025 20:55:39    S O News
کاروار: اُتر کنڑا میں کتوں کے کاٹنے کا معاملہ بے قابو - جاری سال کے دوران پیش آئے 7500 سے زائد معاملے

کاروار/بھٹکل 12/ اکتوبر (ایس او نیوز) ضلع  اُترکنڑا کے دیہاتوں اور شہروں میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے معاملے بے لگام ہوگئے ہیں  اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ 

    دستیاب اعداد و شمار کے مطابق امسال ستمبر تک ضلع میں آوارہ کتوں کے حملوں کے 7500 واقعات پیش آئے ہیں جبکہ گزشتہ پورے سال کے دوران یہ تعداد 8600 سے زیادہ تھی ۔ یہ اعداد و شمار ایک طرف آوارہ کتوں سے درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں اور عوام کے لئے تشویش کا سبب بنتے ہیں، وہیں دوسری طرف سرکاری افسران اور متعلقہ محکمہ جات کی لاپروائی اور غفلت کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

    ایک اندازے کے مطابق کاروار کے سرکاری اسپتال میں  اوسطاً روزانہ چار سے پانچ معاملے داخل ہو رہے ہیں ۔ دو تین دن قبل تو ایک ہی دن میں چھ معاملے سامنے آئے جس میں سے تین سداشیو گڑھ علاقے سے تھے ۔ یہی حال بھٹکل کا بھی ہے، یہاں  بھی تقریبا روزانہ کتوں کے کاٹنے کے معاملے سامنے آرہے ہیں جس سے بالخصوص بچوں اور خواتین میں خوف دیکھا جارہا ہے۔

عوام وہاٹس ایپ کے ذریعے بار بار عوام کو خبردار کررہے ہیں کہ مختلف  شہری اور دیہی علاقوں میں رات کے وقت آوارہ کتوں کی ٹولیاں سڑکوں اور گلیوں میں اپنا قبضہ جما لیتی ہیں اور پیدل گزرنے والے راہگیروں کے علاوہ دو پہیہ گاڑیوں کے پیچھے دوڑتی اور حملہ کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔ اس کی وجہ سے حادثے پیش آنے اور کتوں کے کاٹنے کے نتیجہ میں ریبیس کا جان لیوا مرض لاگو ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے جا رہے ہیں ۔     

    کاروار میں اینمل ہسبنڈری اینڈ ویٹرنری سائنسس  کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر موہن کمار نے اس مسئلے کے تعلق سے بتایا کہ ضلع اتر کنڑا میں تا حال 10 ہزار کتوں کو ویکسین کے انجکشن لگائے گئے ہیں ۔ اگر مقامی بلدی اداروں کی طرف سے کتوں کو پکڑ کر لایا جاتا ہے تو ہم تکنیکی طور پر پورا تعاون دینے کے لئے تیار ہیں ۔ 

    دوسری طرف ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نیرج بی وی کا کہنا ہے کہ کتوں میں ریبیس کے جراثیم پیدا نہ ہوں اس کے لئے انہیں باقاعدگی سے ویکسین دیا جاتا ہے ۔ مگر ویکسین لگائے گئے کتے کے کاٹنے سے بھی انسان کو ریبیس کی بیماری نہ ہونے پائے اس کے لئے بھی ضروری مقدار میں  ویکسین حاصل کر لیا گیا ہے ۔

    اب سوال یہ ہے کہ آوارہ کتوں کے اس بے لگام مسئلے پر قابو پانے کا کام کس محکمہ کی ذمہ داری ہے ؟ ان کتوں کو پکڑنے اور عوام کو اس خطرے سے نجات دلانے کا کام کسے انجام دینا ہے؟ اس تعلق سے کوئی بھی واضح طور پر بتانے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ محکمہ جات اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔


Share: