ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ پر بی جے پی کا اعتراض

کرناٹک کے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ پر بی جے پی کا اعتراض

Sun, 12 Jul 2026 11:28:53    S O News

بنگلورو  ، 12/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک میں ایس آئی آر کے دوران ریاستی حکومت  نے شہریوں کوپرمننٹ  ریسیڈنس سرٹیفکیٹ (’’مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ ) جاری کرنے کافیصلہ کیا ہے جس پر بی جےپی چیں بہ جبیں ہے اوراس  پر روک لگانے کی کوشش میں جٹ گئی ہے۔ کرناٹک  سے بی جےپی کی رکن پارلیمان  اور مرکزی وزیر شوبھا کرنڈلاجے  نےمجوزہ سرٹیفکیٹ کو’’قومی سلامتی‘‘ کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے وزارت داخلہ سےا س پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔ ان کو یہ فکر لاحق ہے کہ ’’ اس کی وجہ سے غیر قانونی تارکین وطن بھی ریاستی انتظامی نظام کا حصہ بن سکتے ہیں جس سے قومی سلامتی اور امن و امان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘‘

ایس آئی آر میں دیگر ریاستوں میں جس طرح اہل ووٹرس کے نام کاٹے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کرناٹک کے وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے اعلان کیا  ہےکہ ان کی سرکار کرناٹک میں مقیم  اہل افرادکو پرمننٹ ریسیڈنس  سرٹیفکیٹ (پی آر سی) جاری کرے گی تاکہ وہ ایس آئی آر کے دوران  اسے درکار دستاویز کے طور پر فراہم کر سکیں۔ وزیراعلیٰ کے اس اعلان کے بعد ریاستی محکمہ محصولات نے  مذکورہ سرٹیفکیٹ کیلئے جاری کئے گئے  رہنما خطوط میں کہا ہے   اس سرٹیفکیٹ کو ریاست میں کسی فرد کی مستقل رہائش کا ثبوت تصور کیا جائے گا اوراس طرح یہ ایس آئی آر میں بھی قابل قبول ہوگا۔

امید کی جارہی تھی کہ  اس سے ایس آئی آر  میں  لوگوں  کے نام کٹنے کا اندیشہ کم ہوجائےگا تاہم  بی جےپی  میں اس کی وجہ سے بے چینی پھیل گئی ہے۔ ۸؍جولائی کو امیت  شاہ کو لکھے گئے خط میں مرکزی وزیر مملکت برائے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزس شوبھا کرنڈلاجے نے کہا ہےکہ’’ یہ نوٹیفکیشن  آئینی، قانونی اور قومی سلامتی سے متعلق  سنگین خدشات کو پیدا کرتا ہے، جن کا مرکزی حکومت کی جانب سے فوری نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔‘‘انہوں نے دلیل دی کہ آئین ملک کے تمام شہریوں کیلئےایک ہی شہریت کا تصور پیش کرتا ہے ،حکومت کرناٹک کی جانب سے پی آر سی متعارف کرانا اس آئینی ڈھانچے کے خلاف ہے کیونکہ اس  سےآئینی یا قانونی اختیار کے بغیر’’مستقل رہائشیوں‘‘ کا ایک الگ زمرہ قائم کیا جا رہا ہے۔

بی جے پی لیڈر  نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس کے نتیجے میں ایسے افراد جو غیر قانونی طور پر ملک میں   داخل ہوئے ہیں یا ریاست میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، مقامی دستاویزات یا دھوکہ دہی کے ذریعہ پی آر سی حاصل کر سکتے ہیں۔ ‘‘ان کے مطابق ’’اس سے  ملک میں  غیر قانونی قیام کو قانونی حیثیت مل جائے  گی اور غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور انہیں ملک سے نکالنے کی مرکزی حکومت کی کوششیں متاثر ہوں گی۔‘‘ انہوں  نے  امیت شاہ سے درخواست کی  ہےکہ کرناٹک  کےپی آر سی ۲۶ء کی آئینی حیثیت کا جائزہ لیا جائے اور تب تک  اس کے اجراء اور  استعمال  پر روک لگائی جائے۔ 


Share: