ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں افسران کی کارکردگی پر وزیراعلیٰ غیر مطمئن، ترقیاتی کاموں میں تیزی کا مطالبہ

کرناٹک میں افسران کی کارکردگی پر وزیراعلیٰ غیر مطمئن، ترقیاتی کاموں میں تیزی کا مطالبہ

Sun, 01 Jun 2025 12:38:30    S O News

بنگلورو، یکم جون (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ریاست میں انتظامیہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ضلع پنچایت سی ای اوز اور مختلف محکموں کے افسران کے ساتھ ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں عوامی اسکیموں کی ناقص عمل آوری، تعلیمی شعبے میں انحطاط، فرقہ وارانہ کشیدگی پر قابو پانے میں ناکامی، اور بنیادی خدمات کی فراہمی میں تاخیر جیسے اہم معاملات پر وزیر اعلیٰ نے سخت برہمی ظاہر کی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف دفتری کارروائیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ افسران کو زمینی سطح پر مثبت تبدیلی لانا ہوگی۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ کئی اضلاع میں نفرت انگیز بیانات، فرقہ وارانہ اشتعال اور کشیدگی جیسے حساس معاملات پر بروقت کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں ہدایت دی کہ ریاست میں سماجی ہم آہنگی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے اور کسی بھی فرقہ پرست یا اشتعال انگیز عناصر کے خلاف بلا تفریق اور فوری کارروائی کی جائے۔

تعلیم کے شعبے میں ناقص نتائج پر بھی وزیر اعلیٰ نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ایس ایس ایل سی امتحانات میں ناقص کارکردگی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر دکشن کنڑا جیسے اضلاع میں سرکاری اسکول بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں تو دیگر اضلاع میں کیوں نہیں؟ انہوں نے اساتذہ کی غیر حاضری، تدریس میں عدم دلچسپی اور والدین کے سرکاری اسکولوں پر اعتماد میں کمی جیسے مسائل کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔

غذائیت کی کمی پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بچوں اور خواتین کی صحت کے حوالے سے آنگن واڑی مراکز، طبی سہولیات اور غذائی سپورٹ سسٹم کے باوجود بہتری نہ آنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے افسران کو حقائق پر مبنی رپورٹس اور سائنسی تجزیے کے ساتھ ناکامیوں کی وجوہات پیش کرنے کو کہا، تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

اجلاس میں زمین سے متعلق تنازعات، حصول اراضی میں تاخیر، اور ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ جیسے امور پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بعض اہم شاہراہوں اور سرکاری اسکیموں میں صرف افسران کی غفلت کے باعث کام رکا ہوا ہے، جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے افسران کو متنبہ کیا کہ ترقیاتی فائلوں کو زیرِ غور رکھنا کافی نہیں، ذاتی دلچسپی کے ساتھ کام مکمل کیا جائے۔

راشن کارڈز میں بے ترتیبی، فرضی بی پی ایل اندراجات، اور غیر مستحق افراد کو سہولیات دیے جانے پر بھی وزیر اعلیٰ نے سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ضلع میں 90 فیصد لوگ بی پی ایل زمرے میں آ رہے ہیں تو یہ بدعنوانی کی واضح علامت ہے، اور تمام کارڈز کی از سر نو جانچ کی جانی چاہیے۔

یوا نیدھی اسکیم کے تحت نوجوانوں کی تربیت اور روزگار سے جڑنے میں افسران کی کوتاہی پر بھی وزیر اعلیٰ نے تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اضلاع میں صنعتی ضروریات کے مطابق کورسز کا انتخاب کر کے نجی شعبے سے شراکت داری بڑھائی جائے، تاکہ نوجوانوں کو حقیقتاً روزگار مل سکے۔

قبائلیوں، چرواہوں اور جنگلاتی علاقوں میں بسنے والے افراد کے مسائل پر بھی وزیر اعلیٰ نے توجہ دلائی اور کہا کہ ان افراد کو شناختی کارڈ، قانونی تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ دورے، عوامی شکایات کا ازالہ، اسکیموں کی نگرانی اور ذاتی مشاہدات پر مبنی ڈائری تیار کریں، جسے چیف سیکریٹری کے دفتر کو بھیجا جائے گا، اور اسی کی بنیاد پر سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست میں شفاف، جوابدہ اور عوام دوست انتظامیہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور جو افسران ان اصولوں پر عمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


Share: