نئی دہلی 30/ دسمبر (ایس او نیوز ) راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے ملک کے مختلف حصوں میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) کی اموات پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تے ہوئے سوال اٹھایا ہےکہ اگر ایک مبینہ ’’گھس پیٹیا‘‘ ناقابل قبول ہے تو پھر ایس آئی آر کے دباؤ کے نتیجے میں 33 بی ایل اوز کی اموات کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے ؟
کپل سبل کا یہ بیان اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا جب مغربی بنگال کے ضلع بانکورہ کے رانی بندھ بلاک میں ایک بوتھ لیول آفیسر کی لاش برآمد ہوئی۔ اس واقعے کے بعد یہ الزامات سامنے آئے کہ جاری ایس آئی آر مہم کے دوران کام کے شدید دباؤ کی وجہ سے یہ موت واقع ہوئی ہے۔
کپل سبل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا:’’بنگال میں ایک اور بی ایل او کی خودکشی۔ پورے ملک میں تعداد 33 ہو چکی ہے۔ اگر ایک مبینہ ‘گھس پیٹیا’ ناقابل قبول ہے تو کیا 33 بی ایل اوز کی موت قابل قبول ہے؟‘‘
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ حکومت ملک سے دراندازوں کو باہر نکالے گی اور الزام عائد کیا تھا کہ کچھ سیاسی پارٹیاں ایس آئی آر کی مخالفت اس لیے کر رہی ہیں تاکہ مبینہ دراندازوں کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار رہیں۔
تازہ واقعہ مغربی بنگال کے رانی بندھ بلاک کے راجاکاٹا علاقے میں پیش آیا، جہاں بوتھ نمبر 206 کے بی ایل او ہردھن منڈل کی لاش اتوار کی صبح ایک اسکول کے احاطے سے ملی۔ پولیس کے مطابق جائے وقوع سے ایک خودکشی نوٹ برآمد ہوا ہے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ہردھن منڈل پیشے سے اسکول ٹیچر تھے اور بطور بوتھ لیول آفیسر خدمات انجام دے رہے تھے۔ مبینہ طور پر خودکشی نوٹ میں انہوں نے بی ایل او کے طور پر کام کے شدید دباؤ کا ذکر کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بوتھ لیول آفیسرز اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مہم میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پہلے مرحلے میں بہار میں ایس آئی آر کرایا تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں یہ عمل ملک کی 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ہے۔