ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سی سی ٹی وی کی غلط پہچان سے بے قصور شہری کو 54 دن جیل؛ کیرالہ ہائی کورٹ کا حکومت کو 14 لاکھ معاوضہ ادا کرنے کا حکم

سی سی ٹی وی کی غلط پہچان سے بے قصور شہری کو 54 دن جیل؛ کیرالہ ہائی کورٹ کا حکومت کو 14 لاکھ معاوضہ ادا کرنے کا حکم

Tue, 13 Jan 2026 11:52:27    S O News

کنّور 13 جنوری(ایس او نیوز): کیرالا ہائی کورٹ نے سنہ 2018 کے ایک چین اسنیچنگ معاملے میں بے قصور شخص کو غلط طور پر گرفتار کرنے اور 54 دن تک جیل میں رکھنے پر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متاثرہ شخص وی کے تاج الدین کو 14 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ پولیس کی عجلت، ناقص تفتیش اور محض شبہے پر کارروائی نے ایک شہری کی آئینی آزادی، عزتِ نفس اور انسانی وقار کو پامال کیا۔

_129800440_vkthajudheen.jpg

یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب وی کے تاج الدین، جو قطر میں رینٹا کار کا کاروبار کرتے تھے، اپنی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں 15 روزہ چھٹی پر کیرالہ آئے ہوئے تھے۔ شادی کے چند ہی دن بعد 10 جولائی 2018 کی رات، جب وہ اہلِ خانہ کے ساتھ واپس گھر لوٹ رہے تھے، پولیس نے انہیں راستے میں روک کر ایک مبینہ چین اسنیچنگ کیس میں حراست میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق، تاج الدین کی گرفتاری کی بنیاد ایک دھندلی سی سی ٹی وی فوٹیج بنی، جس میں سفید اسکوٹر پر سوار داڑھی والے شخص کو دکھایا گیا تھا۔ پولیس نے محض ظاہری مشابہت کو فیصلہ کن ثبوت مان لیا، حالانکہ فوٹیج نہ واضح تھی اور نہ ہی اس کی سائنسی تصدیق کی گئی۔ رات کے اندھیرے میں تاج الدین کی اہلیہ نسیرا سے جلد بازی میں تصویر کی شناخت کروائی گئی، جسے بعد میں پولیس نے ان کے خلاف اہم ثبوت کے طور پر استعمال کیا، حالانکہ وہ خود ذہنی دباؤ اور کنفیوژن کا شکار تھیں۔

رپوٹوں کے مطابق، تاج الدین کے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود تھے کہ واردات کے وقت وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ ایک بیوٹی پارلر میں موجود تھے، جس کی مالک نے عدالت میں اس کی تصدیق کی، جبکہ ایک اور گواہ نے بھی واضح طور پر بتایا کہ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والا شخص تاج الدین نہیں تھا۔ اس کے باوجود پولیس نے، متاثرہ شخص کے بقول، “کیس جلدی بند کرنے کے دباؤ” میں ان شواہد کو نظرانداز کر دیا۔

عدالتی کارروائی میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پولیس نہ تو کوئی مسروقہ زیور برآمد کر سکی، نہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی، اور نہ ہی تاج الدین کے بیرونِ ملک روزگار اور مالی حیثیت کے شواہد کو سنجیدگی سے جانچا گیا۔ بعد ازاں اصل ملزم سرتھ والسراج کی گرفتاری کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ تاج الدین کا اس واردات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ہائی کورٹ کے جسٹس پی ایم منوج نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ کسی شہری کو محض شبہے اور غیر مصدقہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر گرفتار کرنا آئینِ ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل شخصی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے کہا کہ تاج الدین کی غیر قانونی حراست نے نہ صرف ان کی سماجی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ ان کا کاروبار تباہ ہو گیا اور انہیں قطر میں اپنی ملازمت سے بھی محروم ہونا پڑا، جس کے اثرات ان کے پورے خاندان نے جھیلے۔

عدالت نے اس انسانی اور سماجی نقصان کو تسلیم کرتے ہوئے تاج الدین کو 14 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا، جس میں ان کی اہلیہ اور تین بچوں کے لیے بھی ایک ایک لاکھ روپے شامل ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت چاہے تو یہ رقم ذمہ دار پولیس اہلکاروں سے قانون کے دائرے میں وصول کر سکتی ہے، تاکہ مستقبل میں اختیارات کے غلط استعمال اور شہری آزادیوں کی پامالی کی روک تھام ہو سکے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اس معاملے کو بھارت میں سی سی ٹی وی، نگرانی کے جدید نظاموں اور فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال کی ایک سنگین مثال قرار دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شفاف تفتیش، سائنسی تصدیق اور انسانی حقوق کے اصولوں کو نظرانداز کر کے محض ٹیکنالوجی پر انحصار کریں گے تو اس کے نتائج بے گناہ شہریوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

اپنے ردِعمل میں وی کے تاج الدین نے کہا کہ اگرچہ عدالتی فیصلہ ان کے ضائع شدہ وقار، ذہنی اذیت اور معاشی نقصان کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتا، لیکن یہ اس بات کا باضابطہ اعتراف ضرور ہے کہ ان کے ساتھ سنگین ناانصافی ہوئی۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کو دستاویزی شکل دینے کے لیے صحافی شیولن سباسٹین کے ساتھ مل کر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے، تاکہ ان کا معاملہ محض ایک فرد کی کہانی نہ رہے بلکہ شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک مثال بن سکے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ محض ایک شخص کو انصاف فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے نظامِ تفتیش کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال قانون اور انسانی حقوق کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ۔


Share: