نئی دہلی، یکم جولائی (ایس او نیوز)انڈین ریلوے نے تتکال ٹکٹ بکنگ کے لیے نئے قواعد کا اعلان کیا ہے جو یکم جولائی 2025 سے ملک بھر میں نافذ ہو چکے ہیں۔ ان نئے اصولوں کے تحت اب صرف وہی مسافر تتکال اسکیم کے تحت ٹکٹ بُک کروا سکیں گے جنہوں نے اپنا IRCTC اکاؤنٹ آدھار کارڈ سے توثیق (authentication) کر رکھا ہو۔ اس فیصلے کا مقصد بلیک مارکیٹنگ، ایجنٹ مداخلت اور فرضی بُکنگ جیسے مسائل پر قابو پانا ہے۔
وزارت ریلوے کے مطابق یہ اصول نہ صرف IRCTC کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر لاگو ہوں گے بلکہ جلد ہی کاؤنٹر پر دستیاب ریزرویشن سہولت (PRS) پر بھی یہی ضابطہ نافذ کیا جائے گا۔ 15 جولائی 2025 سے آدھار سے منسلک OTP توثیق بھی لازمی کر دی جائے گی، خواہ ٹکٹ بکنگ آن لائن کی جا رہی ہو، ریلوے اسٹیشن کے کاؤنٹر سے ہو یا کسی ایجنٹ کے ذریعے۔
اس کے ساتھ ساتھ آدھار سے تصدیق شدہ صارفین کو تتکال بکنگ کے ابتدائی 10 منٹ میں ترجیح دی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ آدھار توثیق نہ رکھنے والے صارفین ابتدائی وقت میں بکنگ سے محروم رہیں گے۔
نئے اصولوں کے تحت IRCTC کے منظور شدہ ایجنٹس پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اب ایجنٹس کو AC کلاس کے لیے صبح 10 بجے سے 10:30 بجے تک، اور non-AC کلاس کے لیے 11 بجے سے 11:30 بجے تک ٹکٹ بک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ اقدام عام مسافروں کو ایجنٹوں کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ریلوے بورڈ نے بکنگ نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے تکنیکی بہتریوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ اب ریزرویشن چارٹ ٹرین کی روانگی سے 8 گھنٹے پہلے تیار کیا جائے گا، جو اس سے پہلے صرف 4 گھنٹے قبل بنتا تھا۔ نیا PRS سسٹم فی منٹ 1.5 لاکھ ٹکٹ بکنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ٹکٹ انکوائری کی گنجائش کو 4 لاکھ سے بڑھا کر 40 لاکھ فی منٹ کر دیا گیا ہے۔ اس سسٹم میں دیویانگجن، طلبہ، مریضوں، اور دیگر خصوصی طبقات کے لیے الگ سہولتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
ریلوے نے فراڈ پر قابو پانے کے لیے گزشتہ 6 ماہ میں 2.4 کروڑ فرضی یوزر اکاؤنٹس بند کیے ہیں، جبکہ 20 لاکھ سے زائد مشتبہ اکاؤنٹس کی جانچ ابھی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان نئے اصولوں سے نہ صرف نظام کو شفافیت ملے گی بلکہ عام مسافروں کو ٹکٹ بکنگ میں بہتر سہولت بھی میسر آئے گی۔