نئی دہلی/ واشنگٹن ، 3/ جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی) امریکہ کے۸؍ قانون سازوں نے ہندوستانی سفیر ونئے موہن کواترا کو ایک مشترکہ خط لکھ کر جیل میں بند طلبہ لیڈرعمر خالد کو ضمانت دینے اور ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور معیار کے مطابق چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ عمر خالد ۲۰۲۰ء سے دہلی فساد کی سازش کے الزام میں جیل میں بند ہیں۔ ۳۰؍دسمبر ۲۰۲۵ءکو تحریر کئےگئے اس خط میں امریکی قانون سازوں نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ عمر خالد اور ان کے دیگر شریک ملزمین جو اَب تک حراست میں ہیں، کے خلاف عدالتی کارروائی کو کس طرح بین الاقوامی انصاف، مساوات اور قانونی تقاضوں کے مطابق یقینی بنایا جا رہا ہے۔
یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیو یارک شہر کے نو منتخب میئر زہران ممدانی نے بھی ایک الگ خط میں عمر خالد کو یاد کیا ہے اور ان کے والدین سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ امریکی کانگریس کے رکن اور ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کے شریک چیئرمین جم میک گورن نے اس خط کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں ڈیموکریٹ لیڈر جیمی راسکن، ہند نژاد کانگریس لیڈر پرامیلا جے پال، امریکی اراکین کانگریس جان شاکووسکی، لائیڈ ڈوگیٹ، رشیدہ طلیب اور امریکی سینیٹرس کرس وان ہولن اور پیٹر ویلچ شامل ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ دسمبر کے اوائل میں جم میک گورن اور دیگر قانون سازوں نے عمر خالد کے والدین سے ملاقات کی تھی۔ میک گورن کے مطابق جیمی راسکن اور میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عمر خالد کو فوراً ضمانت دی جائے۔ساتھ ہی انہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ اور بروقت ٹرائل کا حق دیا جائے۔خط میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ عمر خالد کو یو اے پی اےکے تحت گزشتہ پانچ برس سے بغیر ضمانت حراست میں رکھا گیا ہے جسے آزاد انسانی حقوق کے ماہرین نے قانون کے سامنے مساوات، منصفانہ سماعت اور تناسب کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔امریکی قانون سازوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کو اس اصول کی پاسداری کرنی چا ہئے کہ کسی بھی فرد کو معقول مدت میں ٹرائل یا پھر رہائی کا حق حاصل ہو اور جب تک جرم ثابت نہ ہو، اسے بے گناہ تصور کیا جائے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری ہے، جو جمہوری اقدار، آئینی حکمرانی اور عوامی روابط پر مبنی ہے۔ دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے طور پر دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ آزادی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور تکثیریت کا تحفظ کریں۔ اسی وجہ سے قانون سازوں نے عمر خالد کی حراست پر تشویش ظاہر کی ہے۔امریکی نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ انسانی حقوق تنظیموں، ماہرین قانون اور میڈیا نے عمر خالد کیخلاف تفتیش اور قانونی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔خط میں اس خبر کا خیر مقدم کیا گیا کہ عمر خالد کو عارضی ضمانت دی گئی تھی ۔